Wednesday , October 18 2017
Home / اداریہ / کنہیا ‘ مستقبل سے امیدیں

کنہیا ‘ مستقبل سے امیدیں

کچھ نہیں ہوگا اندھیروں کو برا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہوگا
کنہیا ‘ مستقبل سے امیدیں
جے این یو تنازعہ نے ملک میں دو طرح کی کیفیت پیدا کردی تھی ۔ ایک تو وہ بے چینی تھی جو ہر انصاف پسند ‘ اصول پسند اور حق کا ساتھ دینے والے طبقات میں جے این یو طلبا تنظیم کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری سے پیدا ہوئی تھی ۔ دوسری کیفیت وہ تھی جس میں ملک کے عوام یہ دیکھ رہے تھے کہ آخر اس مسئلہ کا حل کیا ہوسکتا ہے ۔ اب جبکہ کنہیا کمار کو عدالت سے چھ ماہ کی عبوری ضمانت مل گئی اور وہ یونیورسٹی واپس ہوگیا تو اس نے اپنے ساتھی سے جو خطاب کیا وہ ایک طرح سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس خطاب کو سننے اور اس میں جن جن موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے ان کا جائزہ لینے کے بعد یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کنہیا کمار ملک کیلئے ایک کار آمد اثاثہ بن سکتا ہے ۔ اس سے مستقبل میں امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔ جس جوش و جذبہ اور عزم کا کنہیا نے اظہارکیا ہے اس کو مزید مستحکم کرنے اور ملک و قوم کیلئے خدمات انجام دینے کیلئے اسے تیار کیا جاسکتا ہے ۔ حکومت کے مختلف ذمہ داران اور خود وزیر اعظم کی جانب سے کئے جانے والے ریمارکس پر کنہیا نے انتہائی موثر انداز میں جواب دینے کی کوشش کی ہے ۔ وزیر اعظم نے کنہیا کمار کے مسئلہ پر اپنے ٹوئیٹر پر کئے گئے تبصرہ میں ستیہ میو جئیتے تحریر کیا تھا ۔ کنہیا نے اپنی تقریر میں بھی اسی جملہ کا استعمال کیا اور کہا کہ حقیقت میں جیت سچائی کی ہی ہوگی ۔ کنہیا کا کہنا تھا کہ یہ جملہ وزیر اعظم کا نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستان کا جملہ ہے اور اسی لئے وہ اسے دہراتے ہیں اور یہ ان کا یقین بھی ہے کہ جیت سچائی کی ہی ہوگی ۔ کنہیا نے غداری کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افضل گرو اس کا آئیڈیل نہیں ہے بلکہ روہت ویمولہ اس کا آئیڈیل ہے جس نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں اہانت اور امتیازی سلوک سے تنگ آکر خود کشی کرلی تھی ۔ کنہیا کا کہنا تھا کہ حق و انصاف اور آزادی کیلئے روہت نے جو لڑائی شروع کی تھی وہ لڑائی جا ری رہے گی اور یہ لڑائی جیت کی کامیابی کے ساتھ ختم ہوگی ۔ غداری کے الزامات کے تعلق سے بالواسطہ تبصرہ میں کنہیا کا کہنا تھا کہ اگر کوئی جھوٹ ہزار بار کہا جائے تب بھی وہ سچ نہیںہوسکتا ۔ جس طرح جھوٹ کو سچ قرار نہیں دیا جاسکتا اسی طرح سے سچ کو بھی جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔
قوم مخالف نعرے لگانے کے الزامات اور پھر اس تنازعہ کے دوران ملک کی سرحدات پر جان دینے والے بہادر سپاہیوں کی مثال دئے جانے پر بھی کنہیا نے حکومت کے ذمہ داروں کو جواب دینے کی کوشش کی ہے ۔ اس کا کہنا تھا کہ جو بہادر سپاہی سرحدات پر قوم کی حفاظت کرتے ہوئے جان دے رہے ہیں وہ انہیں سلام کرتے ہے۔ لیکن کیا یہ سپاہی ان لیڈروں کے فرزند ہیں جو پارلیمنٹ میں بیٹھے اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ؟ ۔ یہ سپاہی در اصل ان کسانوں کے بیٹے ہیں جو حکومت کی مدد نہ ملنے کی وجہ سے اپنے گاووں میں خود کشی کرنے پر مجبور کردئے گئے ہیں۔ وہ خود بھی غریب گاؤںسے آئے ہیں۔ وہ کسان ان کے باپ ہیں جو غربت کی وجہ سے خود کشی کر رہے ہیں۔ وہ فوجی ان کے بھائی ہیں جو سرحدات پر قوم کی حفاظت کرتے ہوئے جان دے رہے ہیں۔ حکومت کو سماج کے مختلف طبقات میں اختلافات اور جھوٹ پیدا کرنے کی کوشش نہیںکرنی چاہئے ۔ کنہیا کا یہ ریمارک بھی اہمیت کا حامل ہے کہ ملک میں عوام مخالف حکومت قائم ہوگئی ہے اور یہ مخصوص نظریات کو مسلط کیا جا رہا ہے ۔ آزادی کیلئے اٹھنے والی آواز کو دبایا جا رہا ہے ۔ یہ آزادی ہندوستان سے آزادی نہیں ہے بلکہ ہندوستان میں آزادی ہے ۔ اپوزیشن جماعتیں بھی اکثر و بیشتر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہی کہتی آئی ہیں کہ ملک میں اظہار خیال کی آزادی کو کچلا جا رہا ہے اور طلبا برادری کو بدنام کرنے میں حکومت کوئی کسر باقی نہیں رکھ رہی ہے ۔ کنہیا کمار کی گرفتاری اور حکومت کے نقطہ نظر سے اختلاف کی بنیاد پر غداری کا الزام اس کی واضح مثال ہے ۔
بحیثیت مجموعی کنہیا کمار کی جے این یو واپسی کی تقریر ملک میںان طبقات کیلئے ضرور اثر رکھتی ہے جو سماج میں انصاف اور مساوات کیلئے جدوجہد میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ صرف حکومتوں پر تنقید کرتے ہوئے یا اپوزیشن سے امیدیں وابستہ کرنے کو ہی کافی سمجھتے ہیں اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔ ملک کے دستور اور ملک کے قانون کی پابندی کرتے ہوئے انہیں کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنے نظریات کو پیش کرنے کی جدوجہد قطعی غلط نہیں ہوسکتی اور یہی بات کنہیا کی تقریر سے واضح ہوتی ہے ۔ اس نے نوجوان ہوتے ہوئے جس سلجھے ہوئے انداز میں بات کرنے کی کوشش کی ہے اور جن مسائل کا جامع انداز میں جائزہ لیتے ہوئے احاطہ کیا ہے اور ان پر اظہار خیال کرنے کی کوشش کی ہے وہ قابل ستائش ہے اور اس سے ملک کے سیاستدانوں کو بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے اگر سیاستداں واقعی سنجیدہ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT