Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / کنہیا پر جوتے سے حملہ ، آر ایس ایس ذہن ساز نوجوان گرفتار

کنہیا پر جوتے سے حملہ ، آر ایس ایس ذہن ساز نوجوان گرفتار

جے این یو طلبہ یونین صدر کی اپیل سے تشدد پر کنٹرول ، حملہ معمولی ، عدم تشدد کی راہ پر گامزن رہنے کا عزم: کنہیا
حیدرآباد ۔ 24 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : جمہوری اصولوں و اقدار کے تحفظ کے لیے منعقدہ سمینار کے دوران جواہر لعل نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین قائد کنہیا کمار پر آر ایس ایس کی ذہنیت سے متاثر نوجوان نے غیر جمہوری عمل اختیار کرتے ہوئے جوتے سے حملہ کرنے کی کوشش کی ۔ سندریا وگنان کیندرم میں منعقدہ سمینار میں جس وقت کنہیا کمار عوام سے مخاطب کررہے تھے گو رکھشا دل سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے ان پر جوتا پھینک دیا جس پر عوام شدید برہم ہوگئے اور نوجوان کی پٹائی شروع کردی لیکن کنہیا کمار نے مجمع کو اپیل کے ذریعہ تشدد سے روک دیا اور پولیس نے حملہ کرنے والے نوجوان اور اس کے ساتھی کو فوری حراست میں لے لیا ۔ کنہیا کمار نے جوتے کے ذریعہ کیے گئے حملہ کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ عدم تشدد کی راہ پر ہیں اور وہ صرف سوال کرتے ہیں اگر کوئی پر تشدد راستہ اختیار کرتا ہے تو ایسی صورت میں وہ گاندھیائی نظریات کو اپناتے ہوئے اپنی تحریک جاری رکھیں گے ۔ کنہیا کمار پر حملہ کرنے والے نوجوانوں کی شناخت نریش اور پون کی حیثیت سے کی گئی ہے جو گو رکھشا دل کے کارکن بتائے جاتے ہیں ۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ہوئے احتجاج اور پٹیالہ ہاوز کورٹ میں کنہیا کمار پر کئے گئے حملوں کے بعد سے انہیں مسلسل دھمکیاں موصول ہورہی ہیں ۔ کنہیا کمار نے جوتا پھینکے جانے کے باوجود سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’ وہ چاہے کچھ کرلیں ، کنہیا اور اس ملک کے ترقی پسند طلبہ کی آواز نہیں دبا سکیں گے ‘ ۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے حربوں سے نہ انہیں خوفزدہ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی روکا جاسکتا ہے ۔ کنہیا کمار نے بتایا کہ جو لوگ اس طرح کی حرکات کررہے ہیں وہ درحقیقت طلبہ کی طاقت سے خائف ہوچکے ہیں ۔ کنہیا کمار نے کہا کہ جوتے پھینکنے والے ، لاٹھی مارنے والے اور طلبہ کی تحریک کی مخالفت کرنے والے ہر طرح کے ہتھکنڈے اختیار کرسکتے ہیں لیکن نوجوان نسل ’ آزادی ‘ لے کر رہے گی ۔ مسٹر کنہیا نے بتایا کہ جن نظریات سے ہندوستان کو مقابلہ ہے وہ نظریات گوڈسے کے ہیں اور ہندوستان میں کبھی گوڈسے کا مندر نہیں بن سکتا ۔ گاندھی نے اس ملک کو جو دیا ہے اس کی حفاظت اسی ملک کے شہریوں کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس ذمہ داری کو نہیں سمجھتے وہ دراصل بزدلی کے ساتھ وقت گزارنے والے بن جاتے ہیں ۔ کنہیا کمار پر حملہ کرنے والے نوجوانوں کو پولیس حراست میں لیے جانے کے بعد ان نوجوانوں کو سیدھے پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا ۔ اس سمینار سے خطاب کے دوران کنہیا کمار نے روہت ویمولا کو ملک کا بیٹا اور ماں رادھیکا کو ملک میں موجود جہدکاروں کی ماں قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ہر وقت اس تحریک سے جڑے رہیں گے اور روہت کے لیے انصاف کے حصول کو یقینی بنایاجائے گا ۔ دستور اور جمہوریت کی حفاظت کے لیے نوجوانوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے تاکہ سماجی عدم مساوات کے خاتمہ کو یقینی بنایا جاسکے ۔۔

TOPPOPULARRECENT