Tuesday , September 26 2017
Home / ہندوستان / کنہیا کمار ، عمر خالد ،انیربن کے اخراج کی سفارش

کنہیا کمار ، عمر خالد ،انیربن کے اخراج کی سفارش

جے این یو تحقیقاتی پیانل کی رپورٹ ، 21 طلبہ کو نوٹس وجہہ نمائی جاری ، دہلی پولیس کی ہاسٹل وارڈنس کو نوٹس

نئی دہلی ۔ 14 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) جے این یو کی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی نے گزشتہ ماہ منعقدہ متنازعہ پروگرام میں مبینہ رول کی بناء کنہیا کمار ، عمر خالد ، انیربن بھٹاچاریہ اور دیگر دو طلبہ کو کالج سے خارج کردینے کی سفارش کی ہے ۔ اس پروگرام میں مبینہ طورپر مخالف قوم نعرے لگائے گئے تھے ۔ ذرائع نے کہا  کہ ان سفارشات پر فیصلہ وائس چانسلر ایم جگدیش کمار اور چیف پروکٹر اے ڈیمری تمام تجاویز کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہی کریں گے ۔ وائس چانسلر کی زیرصدارت آج اعلیٰ سطحی اجلاس میں ان سفارشات کا جائزہ لیا گیا اور رپورٹ کی بنیاد پر یونیورسٹی نے 21 طلبہ بشمول کنہیا کمار اور عمر خالد کو نوٹس وجہ نمائی جاری کی۔ ان تمام کو یونیورسٹی قواعد اور ڈسپلن شکنی کا مرتکب پایا گیا ۔ یہ کمیٹی 10 فبروری کو قائم کی گئی تھی جو پارلیمنٹ پر حملے کے مجرم افضل گرو کو پھانسی کے خلاف منعقدہ احتجاجی پروگرام کی تحقیقات کررہی ہے ۔ کنہیا کمار ، عمر خالد اور انیربن کو اس پروگرام کے سلسلے میں ملک سے غداری کے الزامات پر گرفتار کیا گیا ہے ۔ کنہیا کمار کی 3 مارچ کو تہاڑ جیل سے ضمانت پر رہائی عمل میں آئی جب کہ عمر خالد اور انیربن عدالتی تحویل میں ہے ۔ اس پینل نے ایک ماہ کی تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی اور اسے تین مرتبہ توسیع دی گئی ۔ پینل کو بسا اوقات مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا کیونکہ طلبہ نے پیش ہونے سے انکار کردیا تھا ۔ وہ ایک نیا تحقیقاتی پیانل قائم کرنے کا مطالبہ کررہے تھے لیکن یونیورسٹی نے اس مطالبہ کو مستر د کردیا ۔ اس دوران دہلی پولیس نے جے این یو طلبہ عمر خالد اور انیربن بھٹاچاریہ کی ہاسٹل وارڈنس کو نوٹس جاری کی ہیں اور ان دونوں کا لیاپ ٹاپ جلد از جلد حوالہ کرنے کی ہدایت دی گئی ۔ ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ سرکاری سطح پر یہ نوٹس جاری کی گئی اور لیاپ ٹاپ ملنے پر تحقیقات میں کافی مدد مل سکتی ہے ۔
دلت اور مسلم ٹیچرس کو ’’مخالف قوم ‘‘ قرار دینے پر پروفیسر سے وضاحت طلبی
جے این یو میں یونیورسٹی کے سنٹر آف لاء اینڈ گورنینس کی قیادت کررہے پروفیسر امیتا سنگھ سے وضاحت طلب کی ہے جنھوں نے دلت اور مسلم ٹیچرس کو ’’مخالف قوم ‘‘ قرار دیا تھا اور نیشنل کمیشن فار شیڈول کاسٹ نے یونیورسٹی کو نوٹس وجہہ نمائی جاری کی ہے ۔ پروفیسر امیتا سنگھ نے ویب پورٹل کو دیئے گئے انٹرویو میں یہ تبصرہ کیا تھا ۔ انھوں نے آج ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یونیورسٹی نے اُنھیں کل تک وضاحت پیش کرنے کیلئے کہا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ انٹرویو میں اُن کی بات کو اصل سیاق و سباق سے ہٹاکر پیش کیا گیا ہے۔ انھوں نے ایسے اساتذہ پر تنقید کی تھی جو کیمپس میں مخالف قوم سرگرمیوں کی تائید کررہے تھے۔
روہت ویمولہ کو ایروم شرمیلا اسکالرشپ
ایروم شرمیلا اسکالرشپ 2016 مشترکہ طورپر روہت ویمولہ ( بعد از مرگ) اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کو مشترکہ طورپر پیش کیا گیا ۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اسکالرشپس کے چیکس حاصل کئے ۔ دہلی یونیورسٹی کی فیکلٹی نے 2012 ء میں یہ اسکالرشپ شروع کی تھی ۔ اجئے پٹنائیک صدر جے این یو ٹی اے نے اسکالرشپ حولے کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایوارڈ اُن طلبہ اور اداروں کو دیا جارہا ہے جنھوں نے ہندوستان کی دستوری جمہوریت کو مستحکم بنانے میں اہم رول ادا کیا ۔

TOPPOPULARRECENT