Friday , September 22 2017
Home / جرائم و حادثات / کنہیا کمار پر حملہ کی شدید مذمت : ایم بی ٹی

کنہیا کمار پر حملہ کی شدید مذمت : ایم بی ٹی

امجد اللہ خان کا احتجاج ، وزیر داخلہ کو یادداشت ، خاطیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ /25 مارچ (پریس نوٹ) جے این یو طلبہ یونین کے صدر مسٹر کنہیا کمار پر آر ایس ایس و سنگھ پریوار کے فرقہ پرستوں کی جانب سے کل سندریا وگیان کیندرم باغ لنگم پلی میں منعقدہ سمینار میں چپل پھینکنے اور مسٹر کنہیا کمار پر کئے جانے والے اس حملہ کے خلاف سابق کارپوریٹر مجلس بچاؤ تحریک جناب امجد اللہ خان خالد نے شدید احتجاج کیا اوراس واقعہ پر شدید الفاظ میں مذمت کی ۔ انہوں نے کہا کہ اننت نریش کمار اور پون کمار ریڈی جو گوشہ محل رکن اسمبلی کے قریبی رفیق مانے جاتے ہیں نے حیدرآباد کی پرامن فضاء کو بگاڑنے کی کوشش کی ۔ اننت کمار جو گاؤ رکھشا دل کا صدر بھی ہے کھلے عام فرقہ پرستی کے نعرے لگاتے ہوئے چپل پھینکا جس پر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی ۔ جناب امجد اللہ خان حالد نے کہا کہ راجہ سنگھ اور اس کے ساتھیوں نے آئے دن شہر میں فرقہ پرستی کا زہر گھولتے ہوئے پرامن ماحول کو بگاڑنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سیاسی و مذہبی نام نہاد قائدین ایسی حرکات کرتے ہوئے اپنی سستی شہرت چاہتے ہیں ۔ پولیس کو چاہے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں ۔ انہوں نے ایک یادادشت ریاستی وزیر داخلہ مسٹر نرسمہا ریڈی کو پیش کی جس میں ان فرقہ پرستوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ حملہ آور کو پولیس گرفتار کرتی ہے اور کچھ دیر بعد ان کو رہا کردیا جاتا ہے اور وہ ٹی وی چیانلس پر آکر بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نے کنہیا کمار پر حملہ کیا جس کا ہمیں کوئی افسوس نہیں ۔ جناب امجد اللہ خان خالد نے کہا کہ کھلے عام قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور ہمارے دستور کا مذاق اڑایا جارہا ہے ۔ انہوں نے چکڑپلی پولیس اسٹیشن کے انسپکٹر کے بھی خلاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے کہا کہ وہ مقامی پولیس کے رول کی بھی تحقیقات کرے ۔ایم بی ٹی قائد نے چیف منسٹر ، وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے سیکولر ہونے کا ثبوت دے کر خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں اور فرقہ پرستی کا زہر پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی قدم اٹھائیں ۔

TOPPOPULARRECENT