Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / کنہیا کمار پر ساتھی طالبہ کے ساتھ دست درازی کا الزام

کنہیا کمار پر ساتھی طالبہ کے ساتھ دست درازی کا الزام

کیمپس میں بیرونی افراد کا حملہ ، حملہ آور گرفتار
نئی دہلی ۔ /10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جواہر لال یونیورسٹی تنازعہ میں شدت پیدا ہونے کے دوران ایک نیا واقعہ سامنے آیا ہے کہ جواہر لال نہو یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال مبینہ طور پر اپنی ساتھی طالبتہ کے ساتھ دست درازی کی تھی اور اسے دھمکی دی تھی ۔ یونیورسٹی کے نظم و نسق نے اس واقعہ پر انہیں سزاء بھی دی تھی ۔ اسی دوران یونیورسٹی کیمپس میں کنہیا کمار پر بیرونی افراد کے ایک گروپ نے حملہ کیا ہے ۔ پولیس نے حملہ آواروں کی شناخت کرتے ہوئے کارروائی کا آغاز کیا ہے ۔طلباء اور اساتذہ کے بموجب جو اس موقع پر جبکہ کنہیا کمار پر حملہ ہوا تھا موجود تھے کہا کہ کنہیا کی حملہ آور کے ساتھ کچھ دیر تک زبانی تکرار ہوئی تھی اور حملہ آور نے ’’قوم پرستی ‘‘ پر ایک لیکچر بھی دیا تھا ۔ یہ واقعہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے انتظامی بلاک کے روبرو پیش آیا تھا ۔ ایک طالبعلم نے کہا کہ ’’کنہیا ایک گوشہ میں چلاگیا تاکہ اس کے ساتھ بات چیت کرسکے لیکن حملہ آور لڑکے نے اس کے ساتھ بدگوئی شروع کردی ۔ جس کے بعد اس کے ساتھ بحث کرنے لگا ۔ یہ دیکھ کر کئی طلباء اور یونیورسٹی کے سکیورٹی گارڈس کنہیا کمار کو اس سے بچانے کیلئے پہونچے ‘‘ ۔ یونیورسٹی کے سکیورٹی گارڈس متحرک ہوگئے جنہوں نے ملزم کو پولیس اسٹیشن کے قریب پکڑلیا جہاں اسے تفتیش کیلئے حوالات میں رکھا گیا ہے ۔ یہ ایک پولیس عہدیدار کے بموجب اس کی شناخت ہنوز توثیق نہیں ہوسکی ۔ طلباء اور اساتذہ کو کنہیا کمار کی حفاظت کے بارے میں تشویش ہے کیونکہ پٹیالہ کورٹ میں بھی وکلاء کے ایک گروپ نے اسے زدوکوب کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT