Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / کنہیا کمار کا بھگت سنگھ سے تقابل کرنے پر بی جے پی کا احتجاج

کنہیا کمار کا بھگت سنگھ سے تقابل کرنے پر بی جے پی کا احتجاج

کانگریس لیڈر ششی تھرور کے ریمارکس کیخلاف مظاہرے، شہید لیڈر کے مجسمہ کی گلپوشی
ودودھرا 23 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی اور کانگریس ورکرس نے آج ایک دوسرے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور آپس میں متصادم ہوئے۔ یہاں مجاہد آزادی بھگت سنگھ کی یادگار پر پہونچ کر دونوں پارٹیوں کے ورکرس نے نعرے بازی کی۔ بی جے پی لیڈر نے کانگریس لیڈر ششی تھرور کے حالیہ ریمارکس پر شدید اعتراض کیاکہ ششی تھرور نے جواہرلال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس لیڈر کنہیا کمار کا بھگت سنگھ سے تقابل کیا تھا۔ بی جے پی ایم پی رنجن بھٹ، میئر بھرگ ڈنگر، سٹی ایم ایل ایز اور پارٹی ورکرس نے یہاں نیایئے منڈل علاقہ میں بھگت سنگھ کے مجسمہ کے پاس جمع ہوکر احتجاج کیا۔ اس وقت کانگریس قائدین اور ورکرس بھی وہاں جمع ہوگئے اور شہید بھگت سنگھ کو خراج پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں جانب سے نعرے لگائے گئے۔ بھگت سنگھ، سکھدیو اور راج گرو کو 1931 ء کو آج ہی کے دن پھانسی دی گئی تھی۔ برطانوی حکومت نے لاہور سازش کیس کے سلسلہ میں ان تینوں کو پھانسی دی تھی۔ ششی تھرور نے پیر کے دن یہ کہتے ہوئے تنازعہ کھڑا کیا تھا کہ جواہرلال نہرو یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس لیڈر کنہیا کمار بھی بھگت سنگھ کی طرح ہیں جنھیں غداری کے الزامات کا سامنا ہے۔ بھگت سنگھ سے کنہیا کمار کا تقابل اس لئے کیا جاتا ہے کہ کنہیا کمار کو بھی غداری کے الزامات کا سامنا ہے۔ ششی تھرور نے جے این یو کیمپس پہونچ کر طلباء سے خطاب کیا تھا۔ اس ریمارک کے بعد بی جے پی حلقوں میں ناراضگی پیدا ہوگئی۔ گجرات بی جے پی کے چند قائدین نے جمع ہوکر شہید بھگت سنگھ کے مجسمہ پر پھول مالائیں چڑھائیں۔

ودودھرا کے سابق میئر ایم وی پٹیل نے کانگریس پر تنقید کی اور کہاکہ آخر ششی تھرور نے کنہیا کمار کا تقابل شہید مجاہد آزادی بھگت سنگھ سے کس طرح کیا۔ جو نوجوان غداری کے الزامات کے سلسلہ میں جیل جاچکا ہے اس کا تقابل ایک مجاہد آزادی جیسے بھگت سنگھ سے کس طرح کیا جاتا ہے۔ کانگریس لیڈر سیلش امین نے جو اس موقع پر مقام پر موجود تھے، کانگریس کے دیگر ورکرس کے ساتھ مل کر ایم وی پٹیل سے بحث و تکرار شروع کی اور کہاکہ آپ کون ہوتے ہیں یہ سب کہنے والے؟ کیا تم ایک خانگی شراب کی دوکان میں کام کررہے ہیں۔ تم اس طرح کی زبان کس طرح استعمال کرسکتے ہیں۔ آج کے دن دونوں پارٹیوں کے قائدین یہاں جمع ہوئے تھے تاکہ شہید بھگت سنگھ کو خراج پیش کرسکیں۔ یہاں اب کوئی سیاسی مسئلہ پیدا نہ کریں۔ بعدازاں کانگریس لیڈر سلیش امین نے الزام عائد کیاکہ بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے چند ارکان نے ’’بھارت ماتا کی جئے‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے کانگریس ورکرس کو مشتعل کیا جس کے جواب میں کانگریس ورکرس نے انقلاب زندہ باد کے نعرے لگائے۔

TOPPOPULARRECENT