Tuesday , October 24 2017
Home / ہندوستان / کنہیا کمار کے سکھ فسادات پر تبصرہ پر تنقید

کنہیا کمار کے سکھ فسادات پر تبصرہ پر تنقید

سی پی آئی (ایم ایل) کی پولیٹ بیورو رکن اور ایک سابق طالب علم کا بیان
نئی دہلی ۔ 29 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار آج سخت تنقید کا نشانہ بن گئے کیونکہ انہوں نے 1984ء کے سکھ دشمن فسادات کو ’’ہجوم کی زیرقیادت قتل عام‘‘ اور 2002ء کے گجرات فسادات کو ’’حکومت کی زیرسرپرستی تشدد‘‘ قراردیا تھا۔ کنہیا کمار کا تبصرہ ان کے پرجوش حامیوں کو بھی پسند نہیں آیا کیونکہ انہیں غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور پارلیمنٹ پر حملہ کے مجرم افضل گرو کی برسی منانے کے سلسلہ میں انہیں قوم دشمن نعرہ بازی کی بناء پر گرفتار کیا گیا تھا۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین کی سابق صدر اور پولیٹ بیورو رکن کویتا کرشنن نے اپنے ٹوئیٹر پر تحریر کیا کہ کنہیا کا تبصرہ ان کے حامیوں کو بھی پسند نہیں آیا جس کا انہیں افسوس ہے۔ کنہیا کمار غلط راستے پر ہیں۔ 1984ء کے سکھ دشمن فسادات نہ صرف سرکاری مشنری کی زیرسرپرستی کئے گئے تھے بلکہ ایک مخصوص طبقہ کے خلاف تھے۔ سی پی آئی (ایم ایل) پولیٹ بیورو رکن اور سابق جواہر لال نہرو طلبہ یونین کی صدر کویتا کرشنن نے کہا کہ جمہوری حقوق کیلئے عوامی یونین کی رپورٹ 1984ء کے سکھ دشمن فسادات کے بارے میں آچکی ہے۔ کویتا کرشنن نے کہا کہ وہ کنہیا اور دیگر تمام کی تحریریں جنہیں خاطی قرار دیا گیا تھا، پڑھ چکی ہیں۔ یہ رپورٹ خاص طور پر سخت زحمت کے ذریعہ تیار کی گئی ہے۔ سوراج ابھیان کے قائد یوگیندر یادو جو یونیورسٹی کے سابق طالب علم ہے، انہوں نے اپنے ٹوئیٹر پر تحریر کیا کہ وہ ایک بار پھر کنہیا کمار پر 2002ء اور 1984ء کے فسادات کے بارے میں موقف پر نظرثانی کرنے کے خواہشمند ہیں۔ ایمرجنسی اور فاشزم میں بہت کم فرق ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جو جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں منعقد کی گئی تھی، کنہیا نے کل کہا تھا کہ 2002ء کے فسادات اور 1984ء کے سکھ دشمن قتل عام میں بہت فرق ہے۔ گجرات کا تشدد سرکاری مشنری کے ذریعہ کروایا گیا تھا جبکہ دیگر فسادات صرف ہجوم کے جنون کا نتیجہ تھے۔

انہوں نے یونیورسٹیوں میں مبینہ دخل اندازی پر بھی اعتراض کیا تھا۔ گجرات فسادات کا سکھ دشمن فسادات کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ دونوں فسادات سرکاری مشنری کے ذریعہ نہیں کروائے گئے تھے بلکہ یہاں ایک فساد سرکاری مشنری کے ذریعہ ایک مخصوص طبقہ کا قتل عام تھا۔ دوسری فسادات ہجوم کے ایک طبقہ کے خلاف جنون کا نتیجہ تھے۔ تاہم تنقید کے بعد کنہیا نے کہا کہ ان کے بیان کی غلط تاویل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں ذرا برابر بھی شک نہیں کہ ایمرجنسی ہندوستانی جمہوریت کا ایک سیاہ ترین دور تھا۔ وہ سختی سے اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ انہوں نے ایمرجنسی کے دوران حکومت کے جبر کے خلاف 1984ء اور 2002ء دونوں میں جدوجہد کی تھی۔ یقینا حکومت نے دونوں فسادات کی قیادت کی تھی جس کیلئے انصاف ابھی تک نہیں ہوسکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ مرکزی حکومت پچھتاوے کے بغیر اپنے فسطائی پروگرام میں پیشرفت کررہی ہے اور اس کیلئے اقتدار کی طاقت استعمال کررہی ہے۔ جیسا کہ حالیہ سرکاری کارروائیوں سے ظاہر ہوتا ہے۔ آمرانہ انداز میں طلبہ کو کچل دیا گیا ۔ دنیابھر میں ان کی ناراضگی کی آوازوں کا گھلا گھونٹ دیا گیا اور اب ہمیں غیرمعلنہ ایمرجنسی کا سامنا ہے۔

TOPPOPULARRECENT