Wednesday , August 16 2017
Home / مضامین / کنہیا کی جرأت مندی سے سیاسی حلقوں میں اضطراب

کنہیا کی جرأت مندی سے سیاسی حلقوں میں اضطراب

صابر علی سیوانی
جواہر لال نہرو یونیورسٹی ملک کی ان معدودے چند یونیورسٹیوں میں شامل ہے جس کی شہرت پوری دنیا میں ہے ۔ جہاں سے بڑے بڑے بیوروکریٹس ، دانشور ، صحافی ، استاد اور پالیسی ساز پیدا ہوئے ہیں۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں جو واقعہ 9 فروری کی شب کو پیش آیا اس سے ہر شخص واقف ہے ۔ اس واقعے کو جس طرح سے سیاسی رنگ دیا گیا اس سے بھی ملک کے تمام شہری بخوبی واقف ہیں۔ اس واقعے کو ایک ٹی وی چینل نے جو رنگ دیا اس کی فرقہ پرستی سے بھی اب ہم پوری طرح واقف ہوچکے ہیں ۔ ملک سے غداری کے الزام میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار کو گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا ۔ گرفتاری کے وقت زعفرانی ذہنیت والے وکلاء نے جس طرح کنہیا کو زدوکوب کیا ، اس کی حقیقت بھی سامنے آچکی ہے ۔ کم و بیش 20 دنوں تک جیل میں رہنے کے بعد کنہیا کو عبوری ضمانت پر رہا کیا گیا۔ چونکہ عدالت کے پاس کنہیا کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا ، اس لئے کنہیا کو رہا کرنا پڑا ۔ کنہیا نے جیل سے رہائی کے بعد جو اپنے تجربات بیان کئے اور جس انداز میں تقریر کی ، اس کی وجہ سے بھی اس کی فکر ، اس کی سوچ اور اس کے درد کا اندازہ ہوا ۔ اس نے 3 مارچ کی شب تقریباً ساڑھے دس بجے جے این یو کے احاطے میں ہزاروں طلبہ کے درمیان تقریر کرتے ہوئے جو جو باتیں کہیں اس نے ایک عام حساس شہری اور غیور سیاستدانوں کو ضرور جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہوگا ۔ کنہیا کی تقریر کے سلسلے میں بہت سی باتیں لکھی جاسکتی ہیں ، لیکن اس کی تقریر کے اہم نکات کا سرسری جائزہ لینا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔ اس نے واضح لفظوں میں اپنی تقریر میں یہ بات کہی کہ ’’ہم ملک سے نہیں بلکہ ملک میں آزادی چاہتے ہیں‘‘ ۔ اس نے جس طرح کے نعرے لگائے اس میں یہی بات کھل کر سامنے آئی کہ وہ ہندوستان میں موجود کرپشن ، فرقہ پرستی ،عدم مساوات ، ذات پات کی منافرت اور غربت سے آزادی کا خواہاں ہے ۔ کیا اس کی یہ باتیں غلط ہیں ؟ اس نے یہ بات بھی کہی کہ ’’فوج میں جو نوجوان ہیں ، وہ غریب خاندانوں سے آتے ہیں اور وہی ملک کے لئے جان دیتے ہیں ۔ کیا کسی سیاستداں یا بیوروکریٹ کا بیٹا فوج میں جانا چاہتا ہے ؟‘‘

اس کی اس بات میں صد فیصد صداقت ہے ۔ آپ اعداد و شمار دیکھ لیجئے اندازہ ہوجائے گا کہ ملک کے رکھوالوں میں غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے فوجیوں کی تعداد زیادہ ہے ۔ کنہیا نے یہ بھی کہا کہ ’’میرا آئیڈیل افضل گرو نہیں بلکہ روہت ویمولا ہے جس نے بھید بھاؤ والے سسٹم کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے اپنی جان دے دی‘‘ ۔ کیا یہ درست نہیں ہے کہ ملک کے سیاسی نظام میں اونچ نیچ اور بھید بھاؤ کا ماحول پایا جاتا ہے ۔ سیاستدانوں میں ذات پات کی منافرت پائی جاتی ہے ۔ اس حقیقت سے کوئی بھی شخص انکار نہیں کرسکتا ہے ۔ کنہیا نے اپنی تقریر میں جیل کے تجربے کا ذکر کیا اور اس نے وہاں ایک سیکورٹی اہلکار سے سوال کیا کہ تمہیں یہاں دس دس بارہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی دینی پڑتی ہے ، تمہیں بھتہ کتنا ملتا ہے؟ اس نے کہا 160 روپئے ۔ کنہیا نے کہا کہ اتنے میں تو انڈر گارمنٹ نہیں مل سکتا ۔ کیا اس سسٹم میں جھول نہیں ہے ۔ اس نے پوچھا کہ تم اپنا خرچ کیسے چلاتے ہو ؟تو اس سپاہی نے کہا کہ رشوت لینی پڑتی ہے ۔ تو کنہیا نے کہا کہ ’’ہم اسی کرپشن سے نجات کی لڑائی لڑرہے ہیں‘‘ ۔ پھر اس سپاہی نے کنہیا سے سوال کیا کہ یہ آپ لوگ لال سلام ، لال سلام کا نعرہ کیوں لگاتے ہیں ، تو اس پر کنہیا نے کہا کہ آپ ’’انقلاب زندہ باد‘‘ کا نعرہ سمجھتے ہیں ۔ اس سپاہی نے کہا کہ یہ نعرہ تو اے بی وی پی والے بھی لگاتے ہیں ۔ کنہیا نے کہا کہ جسے تم کرانتی کہتے ہو اسی کو اردو میں انقلاب کہا جاتا ہے ۔ اور لال سلام بھی کرانتی اور انقلاب کا بدل ہے ۔کنہیا کی پوری تقریر سننے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ اس کے دل میں ملک کا درد ہے ، غریبوں کا درد ہے ، نوجوانوں کی فکر ہے اور اسے بے روزگار نوجوانوں کے کرب کا اندازہ ہے ۔ اس نے نریندر مودی کا نام لئے بغیر بہت کچھ کہہ دیا ۔ مودی کے ذریعہ مسولینی کا ذکر کرنے پر اس نے انھیں یاد دلایا کہ انھیں ہٹلر کا بھی ذکر کردینا چاہئے تھا ۔ اس نے کالے دھن ، سب کا ساتھ سب کا وکاس ،سیاسی جملے بازی اور بھولے بھالے عوام کو سبز باغ دکھائے جانے والے نعروں سے ٹھگے جانے کی بات کہی ۔ اور یہ بھی کہا کہ ابھی اس حکومت کو اقتدار میں آئے صرف دو سال ہوئے ہیں ۔ ابھی تو تین سال اور اس حکومت کو جھیلنا ہے ۔ اس نے ایک بات اور کہی جس کی جانب میڈیا نے توجہ نہیں دی اور شاید لوگوں نے اسے کم سمجھا  ۔اس نے کہا کہ ’’ساون میں پیدا ہونے والے کو بھادو کا سیلاب ہی سب سے بڑا سیلاب دکھائی دیتا ہے‘‘ ۔ دراصل یہ طنز مودی حکومت پر تھا ۔ اس نے راجناتھ سنگھ کا نام لئے بغیر اس فرضی ٹوئٹ کا ذکر بھی کردیا جس کو حافظ سعید سے جوڑ کر پیش کیا گیا ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ جے این یو میں 60 فیصد لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں اور یہاں داخلہ ملنا جتنا مشکل ہوتا ہے ، اتنا ہی مشکل یہاں کے طلبہ کو بھلانا ہوتا ہے ۔ اس نے اس حقیقت کا بھی اعتراف کیا کہ یہ ہمارے لئے بڑی بات ہے کہ میڈیا نے ہمیں پرائم ٹائم میں جگہ دی ۔

دراصل اس پورے واقعے پر جس انداز سے کنہیا کمار نے 3 مارچ کو جے این یو میں تقریر کی تھی ، اس سے اس کی عالمی سیاست ، ہندوستانی سیاسی منظر نامہ ، سماجی ماحول اور معاشی صورتحال سے واقفیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ اس کی اس تقریر نے اسے مزید مقبول بنادیا ہے بلکہ وہ سیکڑوں طلبہ کا آئیڈیل بن گیا ہے ۔ اس کے اندر ایسی جرأت مندی ہے کہ جیل سے باہر آنے کے بعد بھی اس کے چہرے پر شکن دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ اس نے جس بیباک انداز سے مختلف امور پر اپنی بات پیش کی ، اس نے پورے ملک کے مزاج کو پیش کرنے کا کام کیا ۔ ایک 29 سالہ نوجوان کے دل میں ملک کے لئے جو درد ہے وہ قابل ستائش ہے ۔ ایسے نوجوانوں کو ملک کی ضرورت ہے ، جو انقلاب لانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں ۔ مگر ملک سے غداری کا دل میں خیال لانا بھی کسی طرح کسی شہری کو برداشت نہیں ہوسکتا ۔ کنہیا کمار نے ایک مثال پیش کی اور جس انداز سے پیش کی ، اس نے اسے راتوں رات عالمی سطح پر مشہور کردیا ہے ۔

نامور صحافی برکھادت نے اپنے ایک مکتوب میں جو وزیراعظم کے نام لکھا ہے اس میں بھی جے این یو واقعے کا ذکر موجود ہے۔  اس میں انھوں نے بڑی بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزیراعظم مودی کو ہدف تنقید بنایا ہے ۔ اس مکتوب کی سرخی کچھ اس طرح ہے A Letter to PM Modi from Anti National Sickular Prestitute Barkhadat
’’یعنی بیمار ذہنیت والی بازارو ملک مخالف برکھادت کا مکتوب وزیراعظم کے نام‘‘ ۔ اس مکتوب کا آغاز برکھادت نے گجرات فسادات 2002 کے حوالے سے کیا ہے ، جس کی رپورٹنگ اس وقت انھوں نے کی تھی ۔ اس میں واضح لفظوں میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’میں ان صحافیوں میں سے ہوں جنھیں آپ (مودی) بالکل ناپسند کرتے ہیں ۔ یہ آپ کا اختیار شاہی ہے ۔ لیکن اس ہفتہ میں نے یہ خبر پڑھی جس میں آپ نے اپنی اپوزیشن جماعتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں پورے ملک کا وزیراعظم ہوں صرف بی جے پی کا نہیں ‘‘۔ میں نے سوچا کہ آپ کو آپ کے کئے وعدوں کی طرف توجہ مبذول کراؤں اور ایک ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے آپ کی توجہ ان وعدوں کی جانب مبذول کرانا ہماری ذمہ داری بھی بنتی ہے ۔ مودی جی آپ کو وہ دن یاد دلانا چاہتی ہوں جب آپ گجرات کے وزیراعلی نہیں بنے تھے ۔ اس وقت آپ کا انگلش میڈیا کی جانب جھکاؤ زیادہ تھا ۔ آپ اس سے کافی متاثر تھے ۔ اس وقت آپ سے ملنا آسان تھا ، کیونکہ آپ اس وقت بی جے پی کے جنرل سکریٹری تھے اور میں اس وقت ابھی صحافت کے  ابتدائی مراحل میں تھی ۔ اگر آپ ان دنوں کو یاد کریں اور مجھے اندازہ ہے کہ آپ وہ دور نہیں بھولے ہوں گے یا نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں ۔ میں اس وقت یعنی 1999 میں کارگل جنگ کی رپورٹنگ کررہی تھی ۔ اس وقت میری عمر محض 19 سال تھی  ۔جو کچھ میں نے فرنٹ لائن کے لئے رپورٹنگ کی تو مجھے اس وقت فوجیوں کی بہادری کا اندازہ ہوا اور میں ان فوجیوں سے کافی متاثر بھی ہوئی ۔ میری رپورٹنگ اکثر و  بیشتر فوجیوں کے حالات ، بارڈر کا ماحول اور لائن آف کنٹرول کے حوالے سے ہوا کرتی تھی ۔ گزشتہ دو دہائیوں میں میں نے کم و بیش ایسے سیکڑوں نیوز پروگرامس کئے ہیں ، جو فوجیوں کے لئے وقف تھے ۔ بیوروکریٹس اور فوجیوں کے درمیان الاونسیس میں تفاوت پایا جاتا ہے ، اس کا بھی میں نے بار ہا ذکر کیا ۔ میں نے اپنی رپورٹنگ میں معذور فوجیوں کو حکومت کی طرف سے نظر انداز کئے جانے کی بھی بات کی ۔ یہاں تک کہ ان کے پنشن جو برسوں سے زیر التوا ہیں (ون رینک ون پنشن) اس مسئلے کو بھی اٹھایا ۔ میںنے ان بہادر فوجیوں کی شہادت کا بھی ذکر کیا جنھوں نے ملک کی حفاظت کے لئے لڑتے لڑتے اپنی جانیں قربان کردیں ۔ میں یہ بات بھی نہایت جرأت مندی سے کہنا چاہتی ہوں کہ آپ کی حکومت کے ترجمان جنھوں نے ٹائمس ناؤ اور نیوز ایکس پر بیانات جاری کئے وہ بے بنیاد اور بکواس تھے ۔ جے این یو واقعے کے بارے میں جو فرضی اور تحریف کردہ ویڈیوز سامنے آئے ، وہ بھی اسی طرح کے میڈیا کی کارستانی تھی ۔ سیاچن میں 10 بہادر فوجیوں کی شہادت ناقابل فراموش ہے  ،لیکن آپ کی پارٹی نے اس مسئلے کو جس طرح پیش کیا وہ نہایت افسوسناک ہے ۔ آپ کی پارٹی نے اس مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لئے جے این یو کے مسئلے کو اٹھایا‘‘ ۔

اپنے مکتوب میں برکھادت نے کئی سوالات قائم کئے ہیں ، جو مودی حکومت کی شبیہ پر سوالیہ نشان قائم کرتے ہیں ۔ انھوں نے جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار کا ذکر کرتے ہوئے اپنے اس مکتوب میں لکھا ہے کہ ’’کنہیا کمار نے جو آزادی کے نعرے لگائے وہ ہندوستان سے آزادی نہیں بلکہ بھوک ، عدم مساوات ، فرقہ پرستی اور ذات پات پر مبنی سماج سے آزادی پر مشتمل نعرے تھے ۔ کیا حکومت اس کے لئے معافی نہیں مانگے گی ،جو غلط الزام اس نے کنہیا کمار پر عائد کئے ؟کیونکہ یہ نظریاتی اختلاف حکومت ہند کو برداشت نہیں اس لئے اس نے ان لوگوں (طلبہ) کو گرفتار کرلیا جو نئے انداز کے نعرے ’’ہم کیا چاہتے ہیں  آزادی‘‘ کا نعرہ لگارہے تھے ۔ کیونکہ حکومت کو اپنے نظریات کے خلاف کوئی نیا نعرہ قطعی برداشت نہیں‘‘ ۔
برکھادت نے اپنے اس خط میں نواز شریف کی یوم پیدائش کے موقع پر مودی کا لاہور پہنچ کر انھیں مبارکباد دینا ، محبوبہ مفتی کے ساتھ حکومت بنانے  ، علحدگی پسندوں کے ساتھ بات چیت کرنے اور پونے فلم انسٹی ٹیوٹ وغیرہ تمام دیگر امور کا ذکر کیا ، جس میں حکومت بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے اور جے این یو واقعے پر حکومت کی خاموشی پر سوالیہ نشان قائم کیا ۔

برکھادت کے مکتوب پر حکومت کے ایک بھکت نے شدید تنقید کی ہے اور اس ٹی وی جرنلسٹ کے نام ایک کھلا خط لکھ دیا ہے اور انھیں مودی مخالف قرار دیا ہے ۔ اس بھکت نے ان ٹی وی چیلنس کا ذکر کرنے پر بھی انھیں ہدف تنقید بنایا ہے ۔ اس بھکت نے برکھادت کو اسلامی بنیاد پرستوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ اس بھکت نے واضح لفظوں میں لکھا ہے کہ 26/11 پر جو آپ نے کوریج پیش کیا اس سے ہماری نیشنل سیکورٹی اثر انداز ہوئی۔ اس بھکت نے برکھادت کے جواب میں بہت سی باتیں لکھی ہیں ۔ جس کا ذکر یہاں ممکن نہیں ہے ۔ تاہم جس جرأت مندی کا مظاہرہ برکھادت نے اپنے اس خط میں کیا ہے ،اس کی ستائش کی جانی چاہئے ۔ برکھادت نے اپنے مکتوب کے آخر میں یہ لکھا ہے کہ ’’بی جے پی نے جے این یو معاملے کو نمایاں کرکے جو سیاسی ہدف حاصل کرنا چاہتی تھی ، اس میں وہ پوری طرح ناکام ہوگئی ہے ۔ اس لئے وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں اور نوشتۂ دیوار پڑھنے کی کوشش کریں ۔ انھیں چاہئے کہ ان طلبہ کے خلاف تمام مجرمانہ مقدمات واپس لئے جانے کی پہل کریں ۔ پولیس اور وزارت خزانہ کو اپنی غلطی کی اصلاح کرنے اور معافی مانگنے کو کہیں ۔ اور جے این یو انتظامیہ کو اس معاملے کو نمٹنے کی ہدایت دیں ۔ یہی حکومت کے حق میں بہتر ہوگا‘‘ ۔
بہرحال جے این یو کا معاملہ اس قدر حساس ہوگیا ہے کہ اس سے حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں میں اضطراب پیدا ہوگیا ہے ۔مرکزی حکومت کو یہ جان لینا چاہئے کہ جے این یو سے جو چنگاری بھڑکی ہے وہ پورے ملک کے سیاسی منظرنامے کو بدلنے کی طاقت رکھتی ہے ان کا یہ مکتوب myvioce.opindia.com  پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT