Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / کنیڈا کی تنظیم ’ فی سبیل اللہ ‘ کا حیدرآباد میں فلاحی سرگرمیوں کا منصوبہ

کنیڈا کی تنظیم ’ فی سبیل اللہ ‘ کا حیدرآباد میں فلاحی سرگرمیوں کا منصوبہ

روز نامہ’سیاست‘ سے اشتراک ، مسلمانوں کیلئے ’سیاست‘ کی گرانقدر خدمات۔ جناب عزیز حسینی اور فوزیہ حسینی کی جناب زاہد علی خاں سے ملاقات

حیدرآباد۔/19جنوری، ( سیاست نیوز) خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار کنیڈا کی ایک رضاکارانہ تنظیم ’’ فی سبیل اللہ ‘‘ نے اپنی فلاحی خدمات کو حیدرآباد میں توسیع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں روز نامہ ’سیاست‘ کے اشتراک سے حیدرآباد میں غریب مسلمانوں کیلئے مختلف فلاحی اور امدادی کام شروع کئے جاسکتے ہیں۔ ’ فی سبیل اللہ ‘ تنظیم کی سربراہ محترمہ فوزیہ حسینی اور تنظیم کے سرپرست اور مشیر جناب عزیز حسینی جو ان دنوں حیدرآباد کے دورہ پر ہیں، آج دفتر ’سیاست‘ پہنچ کر جناب زاہد علی خاں اور جناب ظہیر الدین علی خاں سے ملاقات کی اور ’سیاست‘ کی جانب سے جاری تعلیمی، فلاحی اور امدادی سرگرمیوں کی ستائش کی۔ جناب عزیز حسینی اور ان کی شریک حیات محترمہ فوزیہ حسینی کو اس بات کا اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں مظلوم اور پریشان حال مسلمانوں کیلئے خدمات انجام دی ہیں۔ فلسطین، شام ، افغانستان ، پاکستان ، کینیا اور تنزانیہ کے علاوہ بعض افریقی ممالک میں امدادی کام انجام دیئے ہیں۔ اگرچہ یہ تنظیم خواتین پر مشتمل ہے لیکن تنظیم سے وابستہ خواتین کا جذبہ خدمت خلق اس قدر اعلیٰ ہے کہ کنیڈا حکومت کو بھی تنظیم کی سرگرمیوں کا اعتراف کرنا پڑا۔ جناب عزیز حسینی کے آباء و اجداد کا تعلق ہندوستان سے ہے اور وہ آج بھی ہندوستان سے اپنے تعلق پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

جناب عزیز حسینی اور ان کی شریک حیات کا تعلق برٹش گیانا سے ہے جو 1966 تک برطانیہ کے تحت تھا، بعد میں یہ جنوبی امریکہ کا حصہ بن گیا۔ 30 سال قبل یہ دونوں گیانا سے کنیڈا منتقل ہوگئے اور مستقل طور پر وہیں بس گئے۔ دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم نے ان کے جذبہ ایمانی اور حمیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور ابتداء میں انفرادی طور پر امدادی کاموں کا آغاز کیا گیا بعد میں 2001 میں ’ فی سبیل اللہ ‘ نامی تنظیم قائم کی گئی جسے 2010 میں حکومت سے مسلمہ حیثیت حاصل ہوئی ہے۔ فی سبیل اللہ تنظیم کے ذریعہ حیدرآباد میں غریب خاندانوں میں ملبوسات کی تقسیم عمل میں لائی گئی جس کے لئے تنظیم کی جانب سے ایک کنٹینر روانہ کیا گیا تھا۔ تنظیم نے پاکستان اور ہندوستانی کشمیر میں سیلاب کے موقع پر ضروری سامان پر مشتمل امداد روانہ کی تھی۔ محترمہ فوزیہ حسینی اور جناب عزیز حسینی نے ’سیاست‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ حیدرآباد میں روز نامہ ’سیاست‘ کی خدمات سے بے حد متاثر ہیں اور مسلمانوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی ترقی کی جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر صاحب استطاعت افراد غریب خاندانوں کی امداد کیلئے آگے آئیں تو کئی شعبہ جات میں مسلمانوں کی خدمت کی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر ان کی تنظیم کی جانب سے جو امداد روانہ کی جاتی ہے اس میں بیڈ شیٹس، کپڑے، مرد، خواتین اور بچوں کی ضروریات کے دیگر پارچہ جات اور کپڑے شامل ہوتے ہیں۔ محترمہ فوزیہ حسینی کے مطابق تنظیم فی سبیل اللہ کی 30 خاتون اراکین ہیں۔ اس کے علاوہ کئی والینٹرس بھی تنظیم کیلئے کام کررہے ہیں۔ تنظیم اگرچہ باقاعدہ عطیات وصول نہیں کرتی لیکن اہل خیر افراد کی جانب سے تنظیم کو زکوٰۃ اور عطیات دیئے جاتے ہیں جس سے امدادی کاموںکی تکمیل کی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شام کے پناہ گزین 38 خاندانوں کی تنظیم نے امداد کی ذمہ داری لی ہے اور یہ خاندان اردن کے دارالحکومت اومان میں مقیم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان، عراق اور دیگر ممالک میں جنگی صورتحال کے باعث مسلمانوں کی ابتر حالت نے انہیں اس فلاحی سرگرمی کیلئے تیار کیا ہے۔ تنظیم فی سبیل اللہ نے فلسطین کے غزہ میں اسرائیلی ظلم و ستم کا شکار فلسطینیوں کیلئے مصنوعی اعضاء کا انتظام کیا۔ اس کے علاوہ افغانستان میں میٹرنٹی وارڈ قائم کیا گیا تاکہ نوزائیدہ بچوں کی موت کے واقعات کو روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کنیڈا کی حکومت نے تمام مذاہب کو مکمل آزادی دی ہے اور کسی بھی مذہب کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہے۔ محترمہ فوزیہ حسینی اور جناب عزیز حسینی نے بتایا کہ تنظیم کی جانب سے مختلف مساجد میں باکسیس لگائے گئے ہیں جہاں لوگ کپڑے اور دیگر سامان جمع کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فنڈ ریزنگ پروگرام بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ حیدرآباد میں صرف روز نامہ ’سیاست‘ کے اشتراک سے ہی اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ تنظیم سے وابستہ ایک خاتون محترمہ یاسمین صدیقی جن کا تعلق حیدرآباد سے ہے، انہوں نے روز نامہ سیاست کی سرگرمیوں سے واقف کرایا۔ محترمہ یاسمین صدیقی کی توجہ دہانی پر حیدرآباد میں بھی ’سیاست ‘ کے اشتراک سے امدادی کام انجام دینے کا جذبہ پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کنیڈا میں حکومت کی جانب سے دعوتی کام پر کوئی امتناع نہیں ہے۔ تنظیم کی جانب سے غیر مسلموں کو اسلام سے متعلق غلط فہمیاں دور کرنے کیلئے لٹریچر فراہم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعلیمی، فلاحی اور امدادی سرگرمیوں کی مکمل اجازت دی ہے۔ تنظیم فی سبیل اللہ کے ذریعہ کنیڈا میں ایک مدرسہ بھی قائم کیا گیا ہے جس میں قرآن، حدیث اور فقہہ کی تعلیم دی جاتی ہے۔ جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر’سیاست‘ نے ادارہ سیاست کی مختلف سرگرمیوں سے واقف کرایا اور خاص طور پر غریب لڑکیوں کی شادی اور تعلیمی امداد سے متعلق سرگرمیوں کی تفصیلات بیان کیں۔ ’سیاست‘ کی جانب سے پیشہ ورانہ کورسیس میں داخلے کیلئے رہنمائی اور ووکیشنل کورسیس کی ٹریننگ کی تفصیلات بھی بیان کی گئیں۔ سیاست کی جانب سے قائم کئے جانے والے بیت المعمرین کا بھی اس جوڑے نے معائنہ کیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT