Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / کوئٹہ میں پاکستانی جج قاتلانہ حملہ میں محفوظ ، 14 زخمی

کوئٹہ میں پاکستانی جج قاتلانہ حملہ میں محفوظ ، 14 زخمی

صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت میں مہلک خودکش حملہ کے تین روز بعد بم دھماکہ
کراچی ۔ 11 اگست (سیاست ڈاٹ کام) ایک نامی گرامی جج آج قاتلانہ حملہ میں بچ گئے جبکہ پاکستان کے شورش زدہ بلوچستان میں ان کے قافلہ کو نشانہ بنایا گیا لیکن لب سڑک کئے گئے بم دھماکہ میں سیکوریٹی عہدیداروں کے بشمول 14 افراد زخمی ہوئے۔ یہ حملہ اس خودکش حملہ کے تین روز بعد پیش آیا جس میں 74 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں وکلاء کی اکثریت رہی۔ انسداد دہشت گردی فورس (اے ٹی ایف) کے چار سیکوریٹی عہدیدار اور 10 عام شہری آج کے طاقتور دھماکہ میں زخمی ہوئے جو بلوچستان کے دارالحکومت شہر کوئٹہ میں مصروف زرغون روڈ پر پیش آیا۔ مقام واقعہ کے قریب الخیر ہاسپٹل بھی واقع ہے اور اس طاقتور دھماکہ سے قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دو زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ اے ٹی ایف پرسونل وفاقی شرعی عدالت کے جسٹس ظہور شہوانی کی گاڑی کے حفاظتی دستے میں شامل تھے۔

ایک سینئر پولیس عہدیدار نے کہا کہ جج سلامت ہے لیکن 14 دیگر افراد زخمی ہوئے۔ بلوچستان کے وزیرداخلہ سرفراز بگتی نے کہا کہ جج اس حملہ میں بچ گئے لیکن ان کی ایک حفاظتی سیکوریٹی گاڑی کو نقصان پہنچا۔ کسی بھی گروپ نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ بگتی نے کہا کہ تین تا چار کیلو گرام دھماکو مادہ آج کے دھماکہ میں استعمال کیا گیا۔ یہ بم سڑک کے کنارے نصب کیا گیا تھا اور اے ٹی ایف کی گاڑی گزرتے وقت دھماکہ کیا گیا۔ یہ علاقہ مصروف رہتا ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ کا منصوبہ بنایا گیا۔ ابھی اس حملہ کے پس پردہ کارفرما عناصر کی شناخت نہیں ہوئی اور کوئی بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ یہ دھماکے سمجھا جاتا ہیکہ بلوچستان میں یوم آزادی سرگرمیوں کو سبوتاج کرنے کے مقصد سے ہورہی ہے۔ وزیرموصوف نے کہا کہ ایسی بزدلانہ حرکتوں سے ہمارا حوصلہ پست نہیں ہوگا۔

ہم لڑائی والے زون میں ہے اور ہم نئی امنگ کے ساتھ لڑائی کریں گے۔ ہم ہمارے سیکوریٹی اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں اور بہت جلد بعض بنیادی تبدیلیاں کی جائیں گی۔ سیکوریٹی فورسیس اور بم کو ناکارہ بنانے والا اسکواڈ جائے واردات پر پہنچ چکا ہے تاکہ ثبوت اکھٹا کیا جاسکے۔ پولیس نے علاقہ کی ناکہ بندی کرتے ہوئے تلاشی مہم شروع کردی ہے۔ بگتی نے کہا کہ کوئٹہ میں دہشت گردانہ حملوں کا مقصد ایسا ظاہر ہوتا ہیکہ بلوچستان میں یوم آزادی سرگرمیوں کو سبوتاج کیا جائے۔ اس صوبہ میں عسکریت پسندوں اور علحدگی پسندوں کے دہشت گردانہ حملہ بڑھ رہے ہیں جبکہ یہ عناصر خودمختاری کا تقاضہ کرتے ہیں۔ ممنوعہ تنظیموں نے مذہبی مقامات کو بھی نشانہ بناتے ہوئے فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے کی کوشش کی ہے، نیز پولیس اور سیکوریٹی عہدیداروں کو بھی وقفہ وقفہ سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT