Thursday , June 29 2017
Home / مضامین / کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

محمد مصطفی علی سروری
مسلمانوں کی تعلیمی‘ سماجی اور معاشی پسماندگی کو سرکاری سطح پر سچر کمیٹی نے اپنی رپوٹ میں سال 2006 ء میں ہی تسلیم کرلیا تھا اور ثابت کیا تھا سچر کمیٹی کو اپنی رپوٹ پیش کئے آج (10)برس بیت گئے اور اس سارے عرصے کے دوران کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ ہاں مسلمان پسماندگی کے دلدل میں مزید پھنستے گئے۔ یہ پسماندگی تعلیم کے میدان میں شروع ہوکر زندگی کے ہر شعبہ حیات میں مسلمانوں کو درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل بلکہ دیگر پسماندہ طبقوں سے بھی بدتر بناتی جارہی ہے۔  مسلمانوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے اور با اختیار بنانے کے سبھی پروگرام خاطر خواہ نتائج نہیں دے پارہے ہیں۔
آج کے کالم میں مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے پس منظر میں مَیں کچھ خاص نقطہ نظر پیش کررہا ہوں کہ جب مسلمان تعلیمی میدان میں پچھڑتے جارہے ہیں تو اس کے زیر اثر روزگار اور سماجی میدان میں بھی پسماندہ ہورہے ہیں۔
سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں سے شروع کروں۔ اگر میں بھارت کی اُس تاریخی یونیورسٹی کی بات کروں جس کو ملک کی ایک دیسی زبان میں اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کا اعزاز سب سے پہلے ملا تو شائد قارئین کو مسئلہ کی سنگینی کا احساس ہو۔ یہ سال 1918ء کی بات ہے جب پورے بھارت میں اُردو زبان میں ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے جامعہ عثمانیہ کا آغاز یا گیا تھا۔ نواب میر عثمان علی خان کے نام سے معنون یہ یونیورسٹی آج اپنے قیام کے (98)برس مکمل کرچکی ہے۔ اس یونیورسٹی میں کتنے مسلمان برسرکار ہیں یہ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی پسماندگی کا احوال جاننے کے لیے ہم نے قانون حق معلومات کے تحت عثمانیہ یونیورسٹی کے پبلک انفارمیشن آفیسر کو لکھ کر دریافت کیا۔ہم نے دریافت کیا کہ جامعہ عثمانیہ میں جملہ کتنے ٹیچرس کے پوسٹ منظورہ ہیں اور ان میں سے کتنے پوسٹ ایسے ہیں جس پر مسلمان بحیثیت ٹیچر برسرکار ہیں۔ یونیورسٹی کے ارباب مجاز نے ان سوالات کے جوابات میں بتلایا کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں جملہ (1267) ٹیچرس (اسسٹنٹ پروفیسر‘ اسوسی ایٹ پروفیسر اور پروفیسر) کی جائیدادیں منظورہ ہیں اور ان میں (682) ٹیچنگ پوسٹ مخلوعہ (Vacant)ہیں اور فی الحال عثمانیہ یونیورسٹی میں صرف (585) ٹیچرس ہی کام کررہے ہیں جس میں مسلمانوں کی تعداد صرف (37) ہی ہے یعنی ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کی آبادی(12%) سے زائد بتلائی جاتی ہے اور عثمانیہ یونیورسٹی میں صرف (6) فیصدی مسلمان بطور ٹیچر کام کررہے ہیں۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبہ اُردو‘ شعبہ عربی اور شعبہ اسلامک اسٹیڈیز ایسے شعبہ جات ہیں جہاں پر صد فی صد مسلمان ٹیچرس کام کرتے ہیں۔ اب ذرا اندازہ لگائے کہ ان تین شعبوں میں برسرکار مسلمانوں کو الگ کردیں تو دیگر شعبوں میں مسلمان کس قدر کم ہیں؟

عثمانیہ یونیورسٹی کے نان ٹیچنگ شعبے میں برسرکار مسلمانوں کی تعداد کا تجزیہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ قانون حق معلومات کے تحت دریافت کرنے پر یونیورسٹی نے بتلایا کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں غیر تدریسی (Non Teaching) کے جملہ (3201)پوسٹ منظورہ ہیں۔ ان میں سے (1601) پوسٹ تو (Vacant) ہیں اور صرف (1600) پوسٹ پر لوگوں کی بھرتی ہے اور 1600 میں سے مسلمان نان ٹیچنگ اسٹاف کی تعداد (396) ریکارڈ کی گئی۔
صرف ایک یونیورسٹی میں مسلمانوں کی تعداد معلوم کرکے اُن کی تعلیمی پسماندگی یا روزگار کے معاملے میں پسماندگی کا تجزیہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم نے ہندوستان کی سب سے پہلی اوپن یونیورسٹی سے بھی قانون حق معلومات کے تحت معلومات طلب کی۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کے رجسٹرار نے بتلایا کہ بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں فی الحال (54) ٹیچرس (بطور اسسٹنٹ‘ اسوسی ایٹ اور پروفیسر) کام کررہے ہیں اور ان میں مسلمانوں کی تعداد صرف ایک ہی ہے جبکہ امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں نان ٹیچنگ عملہ کی تعداد (332)ہے جس میں سے مسلمانوں کی تعداد صرف (21)ہے۔
نیشنل اکیڈیمی آف لیگل اسٹیڈیز اینڈ ریسرچ نلسار یونیورسٹی آف لاء بھی شہر حیدرآباد کے مضافات میں قائم ہے۔ اس باوقار قومی ادارے کو بھی قانون حق معلومات کے تحت درخواست لکھ کر ہم نے مسلمانوں کی تعداد بتلانے کو کہا۔ نلسار کے پبلک انفارمیشن آفیسر نے اپنے جواب میں بتلایا کہ نلسار یونیورسٹی میں جملہ (20) ٹیچرس (اسسٹنٹ‘ اسوسی ایٹ اور پروفیسرس) کام کررہے ہیں۔ ان میں ایک ہی ٹیچر مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے یعنی اس قومی اہمیت کے قانون کی تعلیم فراہم کرنے والے  ادارے میں مسلم ٹیچرس کتنے کم ہیں۔ اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

اچاریہ ین جی رنگا اگریکلچر یونیورسٹی کا شمار ریاست ہی نہیں ملک کی ایک نہایت اہم یونیورسٹی میں ہوتا ہے۔ ہم نے حق معلومات کے قانون 2005 کے تحت ایک سے زائد درخواستیں داخل کرتے ہوئے اس یونیورسٹی میں مسلمانوں کی تعداد معلوم کرنے کی کوششیں کی تو پتہ چلا کہ فی الحال اگریکلچر یونیورسٹی میں جملہ (577) ٹیچرس کام کررہے ہیں۔ ان میں مسلمان ٹیچرس کی تعداد ایک فیصد ہی بتلائی گئی یعنی 577میں سے صرف 6 ٹیچرس کا تعلق مسلم طبقہ سے ہے۔ اچاریہ ین جی رنگاراگریکلچر یونیورسٹی میں نان ٹیچنگ کے جملہ (1055) پوسٹوں پر عملہ کام کررہا ہے۔ جن میں سے مسلم نان ٹیچنگ اسٹاف کی تعداد صرف (19) بتلائی گئی ہے۔ یعنی نان ٹیچنگ میں بھی صرف (1.8) فیصدی مسلمان برسرکار ہیں۔
اگریکلچر یونیورسٹی میں پڑھنے والے جملہ طلباء کی تعداد اور ان میں سے یس سی‘ یس ٹی اور بی سی اور مسلمانوں کی تعداد معلوم کرنے کی کوششیں کی گئی تو پتہ چلا کہ اس تعلیمی برس کے دوران یونیورسٹی سے ریگولر کورسس کرنے والے جملہ طلباء کی تعداد (626) ریکارڈ کی گئی جن میں سے (145) یس سی‘ 56 یس ٹی اور (368)طلباء او بی سی طبقے سے تھے اور مسلمانو ںکی تعداد صرف (34) بتلائی گئی جو حصول تعلیم کے لیے یونیورسٹی میں درج رجسٹر ڈ ہیں۔ طلباء میں اگر ہم طبقہ واری دیکھیں تو یس سی کا فیصد (23) ‘ یس ٹی کا فیصد (8.9) او بی سی کا فیصد 58.7 اور مسلمانوں کا فیصد صرف (5.4) ہے۔ مسلمانوں کی آبادی کے حوالے سے مسلم ٹیچرس اور مسلم طلباء کی تعداد نہایت کم ہے۔
شہر حیدرآباد کو یونیورسٹیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے جہاں عثمانیہ یونیورسٹی ‘ بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی‘ ایفلو یونیورسٹی‘ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی ‘ نلسار یونیورسٹی‘ مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی اور اگریکلچر یونیورسٹی قائم ہے۔ سوائے مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی کے بقیہ تمام میں سے کسی بھی یونیورسٹی میں مسلمانوں کا تناسب اطمینان بخش نہیں ہے بلکہ تشویش کی بات تو یہ ہے کہ ریاستی سطح کی یونیورسٹیوں میں بھی مسلمانوں کی تعداد ان کی آبادی سے کسی طر ح بھی میل نہیں کھاتی ہے۔ ایسے میں کیا کیا جاسکتا ہے؟ اول تو مسلمانوں میں تعلیم کے تئیں شعور بیدار کیا جائے۔ دوم سرکاری سطح پر مسلمانوں کو اُن کی آبادی کے تناسب سے تحفظات کے لیے کوششیں کی جائے۔یہ تحفظات تعلیم اور روزگار کے لیے فوری طورپر ضروری ہیں۔

مسلمانوں میں جو ترک تعلیم کا رحجان ہے اس کا بھی تجزیہ ضروری ہے۔ دسویں میں مسلم طلباء کی نصف تعداد ناکام ہوکر ترک تعلیم کرتی ہے۔ مارچ 2016ء میں دسویں کے امتحان میں (71,411) مسلم طلباء نے شرکت کی اور مارچ 2016 میں انٹرمیڈیٹ سال اول کا امتحان لکھنے والے مسلم طلباء کی تعداد (36,499) ریکارڈ کی گئی۔ یس یس سی کے امتحان میں شرکت کرنے والے مسلم طلباء کی تقریباً نصف تعداد فیل ہوجاتی ہے۔ انٹر فرسٹ ایر میں شریک(36,499)مسلم طلباء میں سے صرف (17,622) مسلم طلباء ہی کامیابی حاصل کرسکے اور (18,877) مسلم طلباء ناکام ہوگئے۔
مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے سد باب کے لیے ضروری ہے کہ مسلم طلباء کی ناکامی کے فیصد کو کم کیا جائے اور روکا جائے اس کے بعد ہی ان طلباء کو تحفظات کے ذریعہ سے آگے کی تعلیم اور حصول روزگار میں مدد کی جاسکتی ہے۔ والدین کی معاشی پسماندگی بچوں کو تعلیم پر توجہہ مرکوز کرنے سے روکتی ہے تو اسکالرشپ کے ذریعہ اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے۔ مسلمانوں کی تعلیمی  پسماندگی کے سد باب کے لیے اس کے اصل اسباب کا پتہ لگانا ہے۔ کیا ہم اس ضمن میں کوشش کررہے ہیں۔ کیا ہماری کوشش صحیح سمت میں گامزن ہے۔ مجھے تو تعجب ہوتا ‘ لوگ جب سچر کمیٹی رپورٹ کو دس برسوں میں صحیح طورپر پڑھے نہیں اور اسٹیج پر کھڑے ہوکر آواز لگاتے ہیں کہ سرکار نے آج تک سچر کمیٹی پر عمل نہیں کیا ہے۔ پہلے جان تو لیجئے کہ رپوٹ میں مرض کی نشاندہی ہے یا علاج کاش کہ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT