Friday , August 18 2017
Home / مضامین / کوئی بھی جوان نہیں کوئی بھی مسلمان نہیں

کوئی بھی جوان نہیں کوئی بھی مسلمان نہیں

 

محمد مصطفے علی سروری
13 جولائی 2017 ء بروز جمعرات صبح کا وقت تھا جب 92 برس کا ایک ضعیف العمر شخص اپنے سر پر ہیلمٹ لگائے ایک کنسٹرکشن سائیٹ پر پہونچ کر کام کرنا شروع کردیتا ہے ۔ سائیٹ پر کام کرنے والوں کے ہجوم میں شائد یہ وہ واحد شخص تھا جس کی عمر نود برس سے زائد تھی ۔ سب لوگ اپنے کاموں میں مصروف تھے ، کام کے دوران اچانک یہ ضعیف شخص اپنے قریب ٹھہرے ایک دوسرے ساتھی سے تھک جانے کی شکایت کرتا ہے ، تبھی ساتھی کام کرنے والے اس بزرگ کو بیٹھنے کیلئے ایک کرسی دیتے ہیں اور جلد ہی اس شخص کو ایمبولنس کے ذریعہ دواخانہ لے جایا جاتا ہے۔
آخر کون ہے 92 برس کا ضعیف شخص جو عمر کے اس حصے میں بھی کام کرر ہا ہے ؟ آخر اس شخص کی کیا ضرورتیں رہی ہوں گی اور کونسی مجبوری ہوگی جس کے سبب وہ گھر پر بیٹھنے کے بجائے کام پر جارہا ہے ۔ کیا اس ضعیف شخص کی کوئی اولاد نہیں ہے جو اس کی دیکھ بھال کرسکے ، اس کے کھانے پینے کا انتظام کرسکے ۔ قارئین اکرام یہ شخص کوئی معمولی شخص بھی نہیں ہے بلکہ اپنی جوانی میں اس شخص کا شمار دنیا کے طاقتور ترین با اثر افراد کی فہرست میں ہوتا تھا اور ایسا بھی نہیں کہ اگر یہ شخص کام نہ کرے تو اس کو کھانے بھی نہیں ملے گا بلکہ اس شخص کو خود حکومت سے ا تنا وظیفہ ملتا ہے کہ وہ آرام سے رہے کیونکہ جس شخص کے بارے میں اتنی ساری تمہید باندھی جارہی ہے ، وہ کوئی اور نہیں بلکہ امریکہ کے 39 ویں صدر جمی کارٹر ہیں۔ امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر کسی مجبوری کے تحت نہیں بلکہ اپنی مرضی اور سماجی خدمت کے نظریئے کے تحت Habitat for Humanity نامی ایک غیر سرکاری تنظیم NGO کیلئے کام کر رہے ہیں ۔ یہ وہ تنظیم ہے جو دنیا کے 70 سے زائد ملکوں میں غریبوں کیلئے رہائشی مکانات تعمیر کرتی ہے ؟ صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ ہمارے ملک ہندوستان بلکہ ریاست تلنگانہ میں بھی یہ NGO غریبوں کیلئے مکانات بناتی آرہی ہے ۔ ضلع کھمم میں یہ تنظیم 1983 ء سے کام کر رہی ہے ۔ اس تنظیم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف عطیات ہی نہیں لیتی بلکہ لوگوں کو اپنے تعمیراتی کاموں میں شریک ہوکر خود بھی کام کرنے کی دعوت دیتی ہے ۔ امریکہ کے سابق صدر جمی کارٹر اس تنظیم کے ایک تعمیراتی پراجکٹ پر کام کر رہے تھے کہ دھوپ گرمی سے جسم میں پانی کی کمی Dehydration کے سبب انہیں 13 جولائی کو دواخانہ میں شریک کیا گیا اور جب 14 جولائی 2017 ء کو انہیں ڈسچارج کیا گیا تو وہ دواخانہ سے سیدھے گھر نہیں گئے بلکہ دوبارہ اس تعمیراتی پراجکٹ میں کام کرنے کیلئے کنسٹرکشن سائیٹ پر گئے (بحوالہ سی این این ڈاٹ کام 4 جولائی 2017 )
امریکہ کے صدر رہ چکے اور 92 برس کی عمر میں بھی صحت کے مسائل کے باوجود جمی کارٹر ایک فلاحی کام میں شریک ہونا پسند کرتے ہیں اور ایک عملی نظیر قائم کرتے ہیں کہ ہر شخص کو سماج کے فلاحی اور ضرورت مندوں کی مدد کے کاموں میں ہاتھ بٹانا چاہئے اور ہمارے معاشرے میں وہ قوم جو کنتم خیر امت اُخرجت للناس بناکر بھیجی گئی۔ وہ اور خاص طور پر اس کے بزرگ اور معمر حضرات کیا کر رہے ہیں ، اس بارے میں سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ مسلم امت کو درپیش مسائل اور چیالنجس کا حل نہ تو تقاریر میں ہے اور نہ ہی مضامین ہی کام آنے والے ہیں ، تاوقتیکہ ہم میں سے ہر دردمند دل اپنے آپ کو ان کاموں کیلئے عملی طور پر آمادہ نہ کرے ۔ ٹھیک ہے ، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمارے نوجوان ہی موجودہ دور کے مسائل کا ایک اہم سبب ہے ۔ مگر جب ہمارے بڑے بزرگ ہی اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کریں تو کوئی کیا کرسکتا ہے ۔ کیا مسلم سماج میں رہنے والا ہر بزرگ اور ضعیف شخص بیمار ہے ؟ اگر نہیں تو وہ اپنے گھر اپنے خاندان سے آگے بڑھ کر سماج ، قوم و ملت کیلئے کیا کر رہا ہے، نہیں اگر کوئی یہ کہے کہ ہمارے معاشرے اور سماج میں ساٹھ برس کو پہونچتے پہونچتے ہر شخص بیماراور کمزور بنتا جارہا ہے ، تب بھی یہ امر میرے لئے تشویش کی بات ہے ۔

ارے جناب کہاں امریکہ کے صدر کی مثال دیکر ہم ہندوستانی مسلمانوں کو اور وہ بھی بڑے بزرگوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ اگر کسی کا ایسا سوچنا ہے تو آیئے اس شہر حیدرآباد کی بات کرتے ہیں، کرسٹوفر جی ہاں کرسٹوفر کی عمر 55 سال ہے ۔ ماشاء اللہ سے اس شخص کو اپنی ملگیوں سے کرایہ کے طورپر 12 ہزار ماہانہ آمدنی ہے اور یہ شخص اپنی جگہ خوش ہے ، پرانے شہر کے علاقے میر چوک میں فلورٹ اسکول کے پاس یہ شخص دو ایک نہیں پو رے 35 برسوں سے اسکول کے بچوں کو رضاکارانہ طور پر سڑک پار کرنے میں مدد کرتا ہے ، صبح 8 بجے اور شام 4 بجے ہر دو وقت کرسٹوفر جس کو اسکول کے بچے لڈو بھائی کے نام سے پکارتے ہیں، بچوں کو سڑک کراس کرنے میں مدد کرتا ہے ۔ کسی پیسے کے لالچ میں نہیں اور نہ کوئی اس کے اپنے بچے ہیں۔ لڈو بھائی بچوں کو سڑک پار کرانے میں مدد کرنا اپنی سماجی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور ایسا کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اگر کوئی یہ سوچے کہ لڈو بھائی کرسچین ہے تو وہ یہ بھی جان لے کہ لڈو بھائی بچوں کو روڈ کراس کروانے سے پہلے ان کا مذہب نہیں پوچھتے ہیں (بحوالہ دکن کرانیکل 24 جنوری 2017 ء)
مسلمانوں میں جو بڑے بزرگ اپنے گھر کی ذمہ داریوں سے فارغ ہوجاتے ہیں، وہ اپنے آپ کو ہر کام اور ہر طرح کی ذمہ داری بری الذمہ سمجھتے ہیں۔ خیر خیرات کرنا نمازوں اور عبادات کا اہتمام کرنا ان کا معمول بن جاتا ہے ۔ بڑی اچھی بات ہے ، اب ذرا انگریزی کے اس معروف جریدے میں شائع ہونے والی ایک اسٹوری کا خلاصہ بھی پڑھ لیجئے ۔ شیام بہاری پرساد بی ایس این ایل کی سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد بہار سے اپنی لڑکی کے ہاں دہلی منتقل ہوگئے ۔ 2013 ء میں دہلی آنے کے بعد وہ روزانہ صبح کے وقت چہل قدمی کیلئے جانے لگے اور واکنگ کے دوران وہ اپنے گھر کے قریب ایک مندر میں بھی درشن دیتے تھے ، مندر کے باہر انہیں ہر ر وز چھوٹے بچے ملتے تھے جوان سے کچھ نہ کچھ مانگ لیا کرتے تھے ۔ شیام بہاری نے ان بچوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا ۔ انہیں صرف خیرات دینا مدد کا کوئی صحیح طریقہ نہیں تھا ، اس لئے انہوں نے صبح 8 بجے سے 11 بجے دن تک بچوں کو پڑ ھانا شروع کیا ۔ جی ہاں انہوں نے کوئی اسکول نہیں کھولا اور 10 ، 12 بچوں کیلئے اسکول کھولتے بھی کیسے بلکہ انہوں نے مندر کے پاس سڑک پر ہی فٹ پاتھ پر مندر کے باہر مانگنے والے غریب بچوں کو پڑھانا شروع کردیا ۔ شروع میں تو فٹ پاتھ پر بچھانے کیلئے ایک ہی دری ملی اور جب لوگوںنے دیکھا کہ ایک ریٹائرڈ سرکاری افسر غریب بچوں کو سڑ ک پر ہی پڑھا رہا ہے تو انہوں نے بھی مدد کرنا شروع کردی ۔ شیام بہاری کے مطابق کم عمر بچے جرائم کی طرف تیزی سے راغب ہوتے جارہے ہیں اور اگر بچوں میں تعلیم کو عام کیا جائے تو اس مسئلہ کا سدباب ممکن ہے ۔ (بحوالہ انڈیا ٹوڈے 10 مئی 2016 ء) ہمارے بڑے بزرگ جو ٹیلی ویژن اور اخبارات میں نوجوان بچوں کے جرائم میں ملوث ہونے کے واقعات پڑھنے کے بعد افسوس کا اظہار کرتے ہیں، کیا وہ کچھ نہیں کرسکتے؟ خیرات تو مندر کے باہر بھی مندر جانے والے اور چرچ کے باہر چرچ سے آنے والے بانٹتے ہیں۔ کیا خیرات دیکر ہم اپنی اصل ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوجائیں گے ۔
ہمارے بزرگ اور معمر شہری ملک و قوم کیلئے کچھ کرنے بھی تیار نہیں اور آخری دم تک اپنی محرومیوں اور اپنی بیماریوں کا ہی رونا روتے رہیں گے ۔ مسجد میں وہ بھی عیدالفطر کے دن دو بزرگ مصلیوں کو کرسی اگلی صفوں میں لیجا کر نماز پڑھنے کیلئے بحث و تکرار کرتے دیکھا تو وہ منظر ذ ہن پر نقش سا ہوگیا ۔ میں کس منہ سے نوجوانوں کو برا بولوں ، سارے مسائل کی جڑ ان کی بے راہ روی کو مانوں؟ مسائل تو مسائل حادثات تو ہر ایک کے ساتھ ہوتے رہتے ہیں۔

لکھنو ، اترپردیش کے ڈاکٹر اگروال کے ساتھ 1978 ء میں ایک حادثہ پیش آیا ۔ جب وہ اپنی ٹو وہیلر گاڑی پر اپنی لڑ کی کو بٹھاکر جارہی تھی تو ان کی لڑکی کی گاڑی سے گر کر موت واقع ہوگئی ۔ ڈاکٹر اگروال جسمانی امراض کی ڈاکٹر نہیں بلکہ پی ایچ ڈی ڈاکٹر تھی۔ وہ کہانیاں لکھتی تھی اور شاعری کرتی تھی ، وہ اپنی زندگی ایسے ہی گزارسکتی تھی مگر انہوں نے کتابوں کے لکھنے سے جو کچھ پیسے ملے ، اس سے اپنے ہی گھر میں ایک تین کمروں کا آشرم کھول کر غریب لڑ کیوں کی نگہداشت کا بیڑہ اٹھایا۔ 30 برس قبل ڈاکٹر سروجنی اگروال کی لڑکی مرگئی تھی ۔ آج ڈاکٹر اگروال کو 800 سے زائد لڑکیاں ماں کہہ کر پکارتی ہیں۔ اپنی لڑکی کی موت پر پہلے تو انہیں خیال آیا کہ میرے ساتھ ہی کیوں ؟ پھر انہوں نے طئے کیا کہ وہ دوسری لڑکیوں کی پرورش کا سامان کرے گی۔ ڈاکٹر سروجنی اگروال کی عمر 80 برس ہوچکی ہے ، وہ آج بھی ضرورت مند لڑ کیوں کیلئے اپنی خدمات جاری رکھی ہوئی ہیں اور لکھنو میں ضرورت مند لڑکیوں کیلئے آشرم چلا رہی ہیں۔ (بحوالہ The better India.com )

ڈاکٹر سروجنی اگروال کے آشرم کے حوالے سے یاد آیا کہ ہمارے شہر حیدرآباد میں جب بھی کسی مسلم لڑکی کو برے حالات یا کسی اور وجہ سے پریشانی کا شکار ہو تو رہنے کیلئے ایک بھی ایسا آشرم نہیں ہے جہاں مسلم لڑکیاں اپنے مذہب و عقیدے کو محفوظ رکھتے ہوئے قیام کرسکے۔
اب میں کس کا رونا رؤں یہ تو وہ سارے لوگ ہیں جو مسلمان نہیں اور نہ ہی جنہیں موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جا نے کا یقین ہے ۔ مگر دوسروں کے کام آنے کے لئے یہ لوگ کیا کیا نہیں کر رہے ہیں اور ہمارے بڑے بزرگ؟ وہ بھی شائد میری طرح رونا رو رہے ہیں، کیا ہر مسئلہ کیلئے ہم حکومت سے ہی مدد طلب کریں؟ کیا ہر مسلمان کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنی جانب سے اوروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا کام کرے ، اگر کوئی یہ کہے کہ کیا کروں بھائی مجھے اپنے گھر اور خاندان کے ذ مہ داریوں سے ہی فرصت نہیں ملتی تو میرے ذہن میں وہ مقولہ آجاتا ہے کہ اپنے لئے اور اپنوں کیلئے جانور بھی زندگی جیتے ہیں؟ یا الٰہی تو ہمیں نیکی کے راستے چلنے ، برائیوں سے بچنے اور دوسروں کو بھی نیکی کے راستے پر چلنے میں مدد کرنے والا بنادے۔ آمین
کارٹر، کرسٹوفر، پرساد اور اگروال کوئی بھی جوان نہیںکوئی بھی مسلمان نہیں لیکن پھر بھی کار خیر میں مصروف۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT