Monday , October 23 2017
Home / ہندوستان / ’’کوئی عدالت، مسلم پرسنل لاء کے جواز کا امتحان نہیں لے سکتی‘‘

’’کوئی عدالت، مسلم پرسنل لاء کے جواز کا امتحان نہیں لے سکتی‘‘

سپریم کورٹ میں جمعیتہ العلماء ہند کا استدلال، اندرون چھ ہفتہ جواب داخل کرنے مرکز اور درخواست گذار تنظیم کو ہدایت

نئی دہلی ۔ 5 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے جمعیتہ العلماء ہند کو مفادعامہ کی ایک ازخود درخواست سے متعلق مقدمہ میں فریق بننے کی اجازت دیدی۔ یہ مقدمہ مسلم خواتین کے خلاف صنفی امتیاز کے بشمول دیگر محتلف مسائل سے متعلق ہے جس میں جمعیتہ العلمائے ہند نے ادعا پیش کیا کہ کوئی عدالت مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جواز کا جائزہ نہیں لے سکتی۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کے علاوہ جسٹس اے کے سکری اور جسٹس آر بھانومتی پر مشتمل ایک بنچ جس نے اٹارنی جنرل اور نیشنل لیگل سرویسس اتھاریٹی کو مفادعامہ کی درخواست پر نوٹس جاری کی تھی۔ آج مرکز اور اس تنظیم (جمعیتہ العلماء) کو ہدایت کی ہیکہ وہ اندرون چھ ہفتے جواب داخل کریں۔ جمعیتہ العلمائے ہند نے اپنی درخواست میں استدلال پیش کیا تھا کہ شادی بیاہ، طلاق اور نان و نفقہ سے متعلق مسلم پرسنل لاء کے دستوری جواز کا عدالت عظمیٰ جائزہ نہیں لے سکتی۔ بنیادی حقوق کی وجوہات کی بناء پر پرسنل لاء کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ جمعیتہ العلمائے ہند نے کہا کہ ’’مسلم پرسنل لاء (عائیلی خواتین کو محض کسی مقننہ یا مجاز ادارہ کی طرف سے تیاری و منظوری کی بنیاد پر جواز حاصل نہیں ہے بلکہ پرسنل لاء کے بنیادی ذرائع ان کے متعلقہ صحیفہ کے متن سے تعلق رکھتے ہیں‘‘۔

جمعیتہ العلماء نے مزید کہا کہ ’’شریعت محمدی ؐ یقینی و لازمی طور پر قرآن مقدس پر مبنی ہے اور چنانچہ ’’نافذ خواتین‘‘ کے زمرہ میں شامل نہیں ہیں جس کا دستورہند کے فقرہ 13 میں تذکرہ کیا گیا ہے۔ چنانچہ دستور کے حصہ III کی بنیاد پر مسلم عائیلی قوانین کے جواز کو چیلنج نہیںکیا جاسکتا۔ عدالت عظمیٰ نے گذشتہ سال مفاد عامہ کی ایک درخواست کے رجسٹریشن کا حکم دیا تھا اور مسلم خواتین (تحفظ حقوق طلاق) قانون کو چیلنج کئے جانے سے متعلق مسائل سے نمٹنے کیلئے چیف جسٹس کو ایک خصوصی بنچ تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی۔ اس بات پر بھی توجہ مرکوز کی گئی تھی کہ یہ مسئلہ محض پالیسی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ دستور کے تحت خواتین کو ان کے بنیادی حقوق سے متعلق دی ئگی ضمانت سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ مسئلہ اس وقت زیربحث آیا جب ہندو قانون وراثت (ترمیمی) کے مسئلہ پر مقدمہ کی سماعت کی جارہی تھی اور بنچ نے اس بات کا نوٹ لیا تھا کہ صنفی امتیاز کا یہ ایک مسئلہ ہے جس کا اگرچہ اس اپیل سے راست تعلق نہیں ہے۔ اس موقع پر مختلف فریقین کے چند وکلاء مسلم خواتین کے حقوق کا مسئلہ بھی اٹھایا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ’’اس بات پر بھی توجہ مرکوز کروائی گئی ہے کہ دستوری ضمانت کے باوجود مسلم خواتین کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ بعض مسلم خواتین شوہر اپنی پہلی شادی برقرار رکھتے ہوئے دوسری شادی کیا کرتے ہیں جس سے پہلی بیوی اپنی عزت اور سلامتی سے محروم ہوجاتی ہے اور ظالمانہ انداز میں طلاق سے بچنے کیلئے اس کے پاس کوئی محفوظ چارہ کار نہیں ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT