Sunday , October 22 2017
Home / مضامین / ’’کوتمیر دس کے تین کٹے ‘‘

’’کوتمیر دس کے تین کٹے ‘‘

محمد عبدالمجیب
ہم مطالعہ میں مشغول و منہمک تھے کہ یکایک ایک خفیف سی جانی پہچانی آواز آئی، ’’ اجی ذرا کوتمیر والے کو رکاؤ ‘‘ ہم نے جان بوجھ کر اَن سنی کردی۔ اولاً ہمیں دوچار روپئے کی کھینچا تانی کرنا نہیں آتا۔ دوسرے ہم بابو اور گڈی کے ہاتھوں میں ترکاری کی بجائے کتابیں اور قلم دیکھنا چاہتے ہیں۔
پھر سے آواز آئی مگر اس بار ذرا ساؤنڈ زیادہ تھا۔ یہ ہماری پہلی بیگم کی آواز تھی۔ غراتے ہوئے آئیں اور کہنے لگیں کہ گھر میں ہرا مسالہ نہیں ہے اور آپ بے فکری سے کتابیں پڑھ رہے ہیں۔ اس زور سے دروازہ کھولا کہ ہمارے ہاتھ سے کتاب گر پڑی اور عینک ہل گئی۔ اور خود ہی آواز دیکر کوتمیر والے کو بلالیا۔ ہم پھر سے کتاب پڑھنے میں لگ گئے۔ حالانکہ آج کل اسمارٹ فون پر فیس بک، واٹس اپ میں مصروف لوگوں کے پاس مطالعہ کا وقت کہاں ہے۔ رفتہ رفتہ ہماری پڑھائی میں خلل اور انتشار کی کیفیت پیدا ہونے لگی۔ دراصل ہماری بیگم کی بنڈی والے بابو اور گڈی سے بحث ہورہی تھی۔ بیگم نے کہا کہ کوتمیر دس کے تین کیسا۔ پہلے تو دس کے دس آتے تھے پھر دس کے آٹھ ہوئے، پھر چھ ہوئے اب تین کیسے ؟ دس کے پانچ یا پھر چار دیو۔ آپ کو بتایں کہ بابو ایک آٹھ سالہ لڑکا اور گڈی اس کی چھ سالہ بہن ہے۔ یہ دونوں بنڈی پر روزانہ کبھی ہرامسالہ، کبھی آلو، ٹماٹر، کبھی پھلیاں تو کچھ فروٹ لاد کر نکلتے ہیں۔ سامان کی فروخت میں اتنے باتونی اور ماہر ہیں کہ اچھے اچھوں کو ان سے ہار ماننی پڑتی ہے۔
بابو کہنے لگا، دیکھو اماں۔ پہلے سردیاں جاڑے تھے اس لئے ترکاری سستی تھی۔ اب دیکو کیا بھیانک گرما ہے، انساناں برف کے جیسا پگھل جارہے ہیں، ندیاں نالے اور بورنگاں سب سوکھ گئے ہیں۔ مال کم آرہا ہے۔ اس لئے ترکاریاں، ہرا مسالہ مہنگا ہوگیا۔ اب لینا ہے تو لیو، نہیں تو میرے پاس ٹائم نہیں ہے۔ خیر دس روپئے کے چار کٹے لاتے ہوئے بڑبڑاتی ہوئی آوازیں آئیں کہ ترکایاں سودے ایسے مہنگے ہوگئے تو کیا پکانا کی اب، پھر سے پلٹ وار ہم پر ہوا کہ یہ کتاب پڑھنے میں مگن ہیں اور گھر گرہستی کی فکر نہیں ہے۔ ہم بیگم سے کہاں اُلجھیں۔
ہم جب کبھی بابو اور گڈی سے ترکاری لیتے ہیں تو بغیر چکائے خریدتے ہیں اور کبھی کبھار چلر پیسے بھی واپس نہیں لیتے۔ یہ بات ہمارے اور بابو گڈی تک محدود تھی لیکن حال ہی میں شریک زندگانی کو پتہ چل گیا۔ تب سے وہ ہمیں خریدنے نہیں دیتی ہیں۔ بھلا بتایئے غریب بچے ترکاری بیچنے نکلے ہیں اگر ہم ان کی کچھ مدد نہیں کرسکتے تو کم از کم ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے ہوئے خریدی تو کرسکتے ہیں۔ دوچار روپئے میں کونسا پلاٹ خرید لیں گے۔

ایک دفعہ آواز لگارہے تھے چھینٹے والے موز، چھینٹے والے موز، ہم باہر نکلے تو دیکھا کہ بابو اور گڈی مسلسل موز کی پھنیوں پر پانی کا چھڑکاؤ کررہے ہیں۔ پہلے تو لطیفہ یاد آیا کہ ایک صاحب ترکاری خریدنے دکان پہنچے تو ترکاری فروش مختلف ترکاریوں پر لگاتار پانی کا چھڑکاؤ کررہا تھا۔ بہت دیر انتظار کے بعد وہ صاحب ترکاری والے سے کہنے لگے۔ بھائی صاحب، اگر آ پ کی ترکاریوں کو ہوش آجائے تو مجھے ایک کلو آلو اور ٹماٹر دیجئے۔ ہم نے بابو سے پوچھا تم تو چھینٹے والے موز پکاررہے تھے، لیکن یہ تو بغیر چھینٹے والے ہیں۔ گڈی نے بڑے ہی شاطرانہ انداز میں کہا ’’ انکل اسی لئے تو پانی کے چھینٹے ماررہے ہیں۔‘‘
ایک روز ہم بابواور گڈی کے گھر گئے ان کی امی بی آپا سے ملاقات کی۔ گھر کے حالات سے آگہی حاصل کی اور کہا آپ بابو اور گڈی کو پڑھاتی کیوں نہیں۔ مانا کہ آج کل پرائیویٹ اسکولوں میں ڈونیشن، کتابیں، فیس اور یونیفارم وغیرہ بہت زیادہ ہیں اور ان میں پڑھانا ہرکسی کے بس کی بات نہیں۔ لیکن حکومت کی طرف سے لڑکے لڑکیوں کیلئے بہترین تعلیم، دوپہر کا کھانا، یونیفارم اور کتابیں سب کچھ مفت ہے۔ تلنگانہ سرکار نے ایک اور  جدت کے ساتھ پنجم تا ہفتم انتہائی معیاری تعلیم کا قیام و طعام کے ساتھ نظم کیا ہے۔ آپ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے بچوں کو اسکولوں میں داخلہ کرایئے۔ بی آپا نے غور سے ہماری بات سنی اور گہری سوچ میں گم تھیں۔ ہم پریشان ہوگئے کہ آخر کونسی غلط بات کہہ دی۔ کچھ توقف کے بعد کہا کہ گھر کا خرچ ان کے ابا کی کمائی سے پورا نہیں ہوتا۔ اگر بابو اور گڈی اسکول میں بھرتی ہوگئے تو کیسے چلے گا۔ہم نے بہت سمجھایا کہ گھر کا خرچ کسی طرح چلالیں، اس طرح ترکاری بیچتے ہوئے ان کی زندگی اور ان کا مستقبل برباد ہورہا ہے۔ بی آپا نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ بابو کے ابا سے دریافت کرکے بولوں گی۔ ہم دو دن بعد پھر سے بابو کے گھر گئے اور بی آپا کی ذہن سازی میں ہمیں کامیابی مل گئی۔ اور بالآخر دونوں کا اسکول میں داخلہ ہوگیا۔
اس دن ہم بہت خوش تھے کہ بابو اور گڈی کے ہاتھ سے ترکاری بھاجی چھین کر ان کے ہاتھ میں کتابیں اور قلم تھمادیا۔ اس دن کھانا بھی بہت کھائے اور پانی کا باٹل تو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ ایک دفعہ لیموں کا شربت بناکر شکر کے بغیر غٹاغٹ پی گئے۔ بیگم ہماری خوشی کو دیکھ کر حیران اور ہرا مسالہ کے لئے پریشان تھیں۔ اپنے آپ میں بڑبڑا رہی تھیں کہ آج ترکاری والے کا پتہ نہیں۔ کہاں غائب ہوگیا۔ ہم  من ہی من میں مسکرارہے تھے کہ تعلیمی کاروان کو آگے بڑھادیا۔ بیگم سے کہا کہ اب بابو اور گڈی نہیں آنے والے۔ وہ تو اسکول میں بھرتی ہوگئے ہیں۔ یہ بچے اتنے ذہین اور ہوشیار ہیں کہ دیکھنا پڑھائی میں خوب آگے بڑھیں گے اور ملک و قوم کا نام روشن کریں گے۔ بیگم ہمارے کارنامہ سے خوش ہونے کی بجائے اپنے ماتھے پر ایسا ہاتھ مارا کہ ہمیں چکر سا آگیا۔ اور اپنے پندرہ دانت نمودار کرتے ہوئے کہنے لگیں کہ آپ کو اسکول میں شریک کروانے کے لئے بابو اور گڈی کے سواء کوئی نہیں ملا۔ اب میں ترکاری بھاجی اور ہرا مسالہ کس سے خریدوں گی۔ ہم نے سمجھایا کہ دیکھو میڈم ! ( بیگم کو خوش کرنے کبھی کبھی میڈم کہہ دیں تو کیا ہوگا )

وزیر اعظم نریندر مودی بھی چائے بیچتے تھے، مرکزی وزیر بنڈارودتاتریہ بھی پیاز فروخت کرتے تھے اور ملک کے نامور سائنسداں مزائیل مین اے پی جے عبدالکلام بھی گلی گلی پھر کر اخبار سپلائی کرتے تھے لیکن یہ لوگ تعلیم کی دولت سے اونچائی پر پہنچے۔ ترکاری بیچنے میں کوئی قباحت نہیں لیکن تعلیم کا حصول اولین مقصد ہونا چاہیئے۔ کچھ مہینے ایسے ہی گذر گئے۔ پھر ایک دفعہ اچانک دور سے دھیمی سی آواز کانوں سے ٹکرائی کہ’’ کوتمیر دس کے تین کٹے‘‘ اتفاق سے اس بار بھی ہم مطالعہ میں مصروف تھے، ہم چونک گئے اور باہر نکل کر دیکھا تو بابو اور گڈی بنڈی ڈھکیلتے ہوئے آئے تھے۔ ہمیں افسوس اور ندامت کے ساتھ تجسس بھی ہوا کہ آخر یہ پرانی ڈگر پر کیوں آگئے۔؟!
بیگم اندر سے ہاتھ میں کچھ چلر پیسیہ لیئے دوڑتی ہوئی آئیں اور پھر سے تین کٹے، چار کٹے کی بحث شروع ہوگئی۔ لیکن اس بار بابو اور گڈی بحث مباحثہ کے موڈ میں نہیں تھے۔ وہ نہایت سنجیدگی سے ترکاری بیچ رہے تھے۔ ان کی نگاہیں بار بارنیچے جھک رہی تھیں ، شرمندگی کے ساتھ آگے بڑھ گئے۔ یہ بھی ان کے ساتھ ہوئے۔ بابو اور گڈی فوراً رُک گئے۔ ان کی معصوم آنکھوں میں بے شمار آنسو بھر آئے۔ ہم نے آگے بڑھ کر ان دونوں کو گلے لگالیا۔ وہ بہت روئے، اتاکہ ان کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ آنسوؤں کی بارش جب تھمی تو کہنے لگے۔ انکل ہمیں معاف کردیجئے، آپ نے ہمارے لئے اتنا کچھ کیا، امی ابا کو سمجھایا کہ ان بچوں کے ہاتھوں سے کوتمیر پودینہ لے لو اور انہیں کتابیں اور قلم تھمادو۔ انکل ہمیں اسکول میں پڑھنا بہت اچھا لگا۔ ہمیں تعلیم کے ساتھ تہذیب بھی سیکھنے کو مل رہی تھی۔ لیکن کیا کریں، ہماری قسمت میں بنڈیا چلانا ہی لکھا ہے۔ گھر کے حالات خراب ہیں۔ ابا سے اب زیادہ محنت نہیں ہوپاتی۔ گھر کے اخراجات کی پابجائی کیلئے ہمیں اسکول چھوڑ کر پھر اسی راہ پر نکلنا پڑا۔ بابو اور گڈی ہم سے بہت کچھ اپنے دل کا حال سنانا چاہتے تھے لیکن پاس ہی سے کسی نے آواز لگائی۔ او کوتمیر والے، اِدھر آؤ۔ کب سے آواز دے رہی ہوں۔ سنتے نہیں۔ بہرے ہو کیا۔ بابو اور گڈی ان سخت الفاظ کا جواب دیئے بغیر اُدھر کو چلے گئے اور ہم دُکھی دل کے ساتھ اپنے آنسوؤں کو ضبط کرتے ہوئے اپنے گھر لوٹ آئے۔

بیگم چائے پیش کرتے ہوئے خوشی سے کہنے لگیں۔ کتنا اچھا ہوا جی۔ بابو اور گڈی پھر سے ترکاری لیکر آنے لگے، سچ پوچھیئے تو مجھے ترکاری اور ہرا مسالہ کے لئے بڑی مشکل ہورہی تھی۔
ہم پر ان معصوموں کے آنسوؤں اور غم کا اتنا بوجھ تھا کہ زبان سے کچھ الفاظ نہیں نکل رہے تھے۔ صرف دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ کتنی مطلبی اور خود غرض دنیا ہے۔ چائے کا ایک ایک گھونٹ کڑواہٹ دے رہا تھا۔ ہمارے کپڑوں پر کچھ چائے بھی گرگئی لیکن اس کا بالکل احساس نہیں ہوا۔
اب ذرا بتایئے، ان سب کا ذمہ دار کون ہے۔؟ حکومت، سماج، معاشرہ، بچے، یا والدین…؟
ہم لوگ سدا حکومت کو کوستے ہیں، مگر اس نے تو بچوں کو تعلیم سے جوڑنے کیلئے بہت کچھ کیا، باوجود مقروض ہونے کے بے شمار اقدامات کئے۔ سماج اور معاشرہ کو اتنی فرصت کہاں کہ وہ دوسروں کے بچوں کی تعلیم کے بارے میں سرکھپائے۔ بچے تو آخر بچے ہیں انہیں اپنا اچھا برا کیا معلوم، لیکن والدین اس کے قصوروار ضرور ہیں۔ بابو اور گڈی کی طرح ہزاروں بچے اپنا بچپن گھر کی ذمہ داریاں نبھانے کے لئے قربان کررہے ہیں۔ یہ ستم ظریفی نہیں تو کیا ہے کہ غریب والدین اپنے گھر کے اخراجات کی تکمیل کیلئے معصوم بچوں کے ہاتھوں میں ترکاری بھاجی، میکانک کے اوزار یا چائے کی پیالیاں تھمادیتے ہیں۔ تعلیم سے بے بہرہ ہونے کی بناء پر آگے چل کر یہ بچے جب جوانی کی دہلیز پر قدم رکھیں گے، خود کے گھر بار کی ذمہ داری نبھانے کا وقت آئیگا تو بے شمار مصائب اور سخت حالات کا سامنا کرتے ہوئے اپنے آپ کو، ماں باپ کو، حکومت اور سماج و معاشرہ کو برا بھلا کہتے رہ جائیں گے۔
انہیں اب اس طرح زندگی کے دن کاٹنا ہے، اب کچھ نہیں ہونے والا ۔!
ہاں، اگر اپنی زندگی سے سبق حاصل کرتے ہوئے یہ اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کریں گے تو ٹھیک ہے۔ ورنہ یہ رونے کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا…!!

TOPPOPULARRECENT