Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / کولکتہ کے جج کرنن کیخلاف سپریم کورٹ کا گرفتاری وارنٹ

کولکتہ کے جج کرنن کیخلاف سپریم کورٹ کا گرفتاری وارنٹ

نئی دہلی 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے ایک عدیم النظیر حکمنامہ میں آج کلکتہ ہائی کورٹ جج سی ایس کرنن کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کردیا تاکہ تحقیر عدالت کے کیس میں 31 مارچ کو کورٹ کے روبرو اُن کی حاضری کو یقینی بنایا جاسکے۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی سربراہی والی 7 رکنی بنچ نے کہاکہ جسٹس سی ایس کرنن کی حاضری کو یقینی بنانے کے لئے کوئی دیگر متبادل نہیں ہے۔ ہم 10 ہزار روپئے کی رقم کے قابل ضمانت وارنٹ جاری کرتے ہیں جو شخصی مچلکے کی نوعیت کے ہیں جن پر گرفتاری کرنے والے آفیسر کو اطمینان ہوجائے۔ بنچ نے مغربی بنگال کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت دی کہ جسٹس کرنن تک یہ گرفتاری وارنٹ شخصی طور پر پہنچائیں تاکہ سماعت کی اگلی تاریخ 31 مارچ کو عدالت کے روبرو اُن کی حاضری یقینی بنائی جاسکے۔ بنچ کے اراکین میں جسٹس دیپک مصرا، جسٹس جے چلمیشور، جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایم بی لوکور، جسٹس پی سی گھوش اور جسٹس کورین جوزف شامل ہیں۔ اِس بنچ نے اُس مکتوب پر غور کرنے سے انکار کردیا جو 8 مارچ کو فاضل عدالت کی رجسٹری کے لئے تحریر کیا گیا تھا جو جسٹس کرنن اپنے خلاف قبل ازیں جاری کردہ نوٹس پر جواب دیا تھا۔ سماعت کی شروعات میں اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہاکہ جسٹس کرنن نے سپریم کورٹ کے حکمنامے کی خلاف ورزی کی ہے اور فاضل عدالت کے قواعد برائے تحقیر اس کی خلاف ورزی کرنے والے کے لئے قابل ضمانت وارنٹ کی اجرائی کی گنجائش فراہم کرتے ہیں تاکہ اُس کی حاضری کو یقینی بنایا جاسکے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT