Tuesday , June 27 2017
Home / شہر کی خبریں / کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی پر حملہ کی مذمت

کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی پر حملہ کی مذمت

ٹی آر ایس سے معذرت خواہی کا مطالبہ ، محمد علی شبیر کا سخت ردعمل
حیدرآباد ۔ 17 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے علحدہ تلنگانہ ریاست کے لیے وزارت کی قربانی دینے والے کانگریس کے سینئیر رکن اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی پر ٹی آر ایس غنڈوں کے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کومٹ ریڈی سے غیر مشروط معذرت خواہی کرنے کا حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی اسمبلی میں ڈپٹی فلور لیڈر ہے ۔ علحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لیے کانگریس ہائی کمان پر دباؤ بنانے کے لیے وزارت کی قربانی دینے والے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی پر ٹی آر ایس کا حملہ غیر جمہوری حرکت ہے جس کی وہ سخت مذمت کرتے ہیں ۔ اپنے اسمبلی حلقہ میں منعقد ہونے والے پروگرام میں بحیثیت مقامی رکن اسمبلی شریک ہونا کومٹ ریڈی کا دستوری حق ہے ۔ سرکاری پروگرام میں شریک ہونے سے مقامی رکن اسمبلی کو روکنا جمہوری نظام کے دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے ۔ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کے خلاف عائد کردہ تمام مقدمات سے فوری دستبرداری اختیار کرتے ہوئے ان سے غیر مشروط معذرت خواہی کی جائے ۔ تلنگانہ کے لیے قربانی دینے والے قائد کی توہین کرنا قابل مذمت ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ مخالف تلنگانہ طاقتوں کو وزارت اور کارپوریشن و بورڈ کے صدر نشین عہدے دیتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے اور تلنگانہ کے لیے عہدوں کی قربانی دینے والوں کی توہین کی جارہی ہے ۔ حکومت سے عوامی مسائل پر سوال کرنے والوں یا حقوق کے لیے احتجاج کرنے والوں پر حکومت طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان کی آواز دبانے کی کوشش کررہی ہے سرکاری خزانے کا استعمال کرتے ہوئے کارکنوں کا اجلاس منعقد کرنے کی ٹی آر ایس عادی ہوگئی ہے ۔تین دن قبل کھمم میں دہشت گردوں کی طرح کسانوں کو ہتھکڑیاں پہنائی گئی ۔ 2 دن قبل دھرنا چوک پر پرامن دھرنا کرنے والوں پر پولیس لاٹھی چارج کرائی گئی اور کل کانگریس کے رکن اسمبلی پر نلگنڈہ میں حملہ کرتے ہوئے جمہوریت کا خون کیا گیا ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ ریاست میں ٹی آر ایس کے کارکن خانگی فوج میں تبدیل ہو کر حکومت کی ناکامی پر انگلی اٹھانے والوں پر حملے کررہے ہیں ۔ نلگنڈہ کے واقعہ پر پولیس نے صرف کانگریس کے رکن اسمبلی پر مقدمہ درج کرتے ہوئے جانبداری کی نئی مثال قائم کی ہے ۔ اس طرح کے اقدامات محکمہ پولیس کی نیک نامی کومتاثر کرتے ہیں ۔ انہوں نے کانگریس قائدین پر حملہ کرتے ہوئے گاڑیوں کو نقصان پہونچانے والے ٹی آر ایس قائدین اور کارکنوں کے خلاف بھی مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔ نلگنڈہ میں موسمبی کی مارکٹ قائم کرنے کا مقامی رکن اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی برسوں سے مطالبہ کررہے اس کے اعزاز میں انہیں محروم کرنے کے لیے ٹی آرایس کے قائدین نے ایک منظم سازش کے تحت ان پر حملہ کیا ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ سرکاری پروگرامس میں مقامی رکن اسمبلی کی صدارت پروٹوکال کا حصہ ہے ۔ جس کو نظر انداز کرتے ہوئے ریاست بھر میں سرکاری پروگرامس میں اپوزیشنجماعتوں کے منتخب عوامی نمائندوں کو دور رکھا جارہا ہے ۔۔

 

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT