Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / کونسی زمیں اُن کے عاشقوں سے خالی ہے

کونسی زمیں اُن کے عاشقوں سے خالی ہے

شجاعت علی ۔آئی آئی ایس
عالم اسلام کے جیدعالم دین عبدالرحمن بن علی بن محمد عرف ابوالفرج ابن جوزی (510ہجری تا 597ہجری ) اپنی تصنیف میں لکھتے ہیں کہ ابولہب نے اپنے کسی رشتہ دار کے خواب میں آکر یہ بتلایا کہ اس کی قبر میں اسے ہر روز اذیت ناک سزائیں دی جارہی ہیں لیکن اپنی ایک انگلی سے ہر پیر کے دن اسے غیرمعمولی راحت ملتی ہے جس کے ذریعہ وہ اپنی پیاس بجھاتا ہے ۔ یہ وہ انگلی تھی جس کے اشارہ سے اس نے اُس لونڈی کوآزاد کیا تھا جس نے اسے یہ خوشخبری سنائی تھی کہ تمہارے بھائی کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوا ہے۔ یہ لڑکا کوئی اور نہیں تھا بلکہ وہ نور مجسم تھے جسے ساری دنیا محسن انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے نام سے جانتی ہے اور جن کا فیض ساری دنیا میں اس طرح عام ہے جیسے ہوا ‘ روشنی ‘ اور پانی ہماری حیات کا حصہ ہیں۔ آپ غور فرمائیے کہ ایک ایسے کافر پر دوشنبہ یعنی پیر کے دن یعنے ہمارے پیارے نبی محمد صلی اللہ علیہ و سلم کی ولادت کا مژدہ سنانے والی لونڈی کو آزاد کرنے کی ادا پر اللہ تعالیٰ کا یہ انعام نازل ہوتا ہے تو ذرا سوچئے اپنے نبی و رسول ؐ پر جان چھڑکنے والے امتیوں کو کس قدر فیض پہنچے گا  جو ان کے لئے ہر روز کروڑوں درودوں کا نذرانہ بھیجتے ہیں۔صحیح مسلم کے بشمول کئی روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ آقائے دو جہاں سے کسی نے پوچھا کہ اے اللہ کے رسولؐ آپ ہر شنبہ کو روزہ کیوں رکھتے ہیں؟ تو حضورؐ نے فرمایا کہ یہ میرا یوم پیدائش ہے میں روزہ رکھتے ہوئے اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے اظہار تشکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھ پر کرم کیا۔ ترکی کے شیخ الاسلام حافظ تقی الدین احمد ابن تیمیہ اپنے فتویٰ کے ذریعہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی حب نبویؐ اور رسول ؐکے تقدس کا اعتراف کرنے کے لئے عید میلاد مناتا ہے تو وہ بہت بڑے انعام کا حقدار ہوگا۔ حکایت ہے کہ جس محفل میں ہمارے پیارے نبی محمد ؐ ذکر ہوتا ہے تو وہاں سے فرشتے اڑتے ہوئے عرش معلی پر پہنچتے ہیں اور اللہ کے حضور میں یہ عرض کرتے ہیں کہ اے پروردگار فلاں کی مجلس میں آپ کے محبوب پیغمبر حضرت محمد ؐ کا ذکر ہورہا ہے تو اللہ تعالیٰ فرط مسرت سے فرشتوں سے کہتے ہیں کہ تم گواہ رہنا میں نے اس محفل کے شرکا کو بخش دیا ہے۔ نہ صرف اس محفل میں شریک لوگ بخش دئیے جائیں گے بلکہ یادو رکھو اس مجلس سے اٹھنے والی آواز جن جن کے کانوں تک پہنچے گی ان کو بھی بخش دیا جائے گا۔ ذرائع ابلاغ اور خاص طور پر انٹرنیٹ کے پھیلنے سے آ ج ساری دنیا کی نوجوان نسل حضوراکرم ؐ کی سیرت سے واقف ہوتی جارہی ہے۔ پچھلے ہفتے امریکہ‘ اور یوروپ کے بشمول ساری دنیا میں کہیں نہ کہیں سیرت النبیؐ سے متعلق جلسوں کا انعقاد بقول کسی شاعر کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ؎
سورج میں چاند تاروں میں گل میں نبات میں
میرے رسول پاکؐ ہیں کل کائنات میں
آقائے دو جہاں کی سیرت پر نظر دوڑائی جائے تو یہ بات اظہرمن الشمس کی طرح ہمارے سامنے آئے گی کہ حضور کے ایک ایک عمل پہ متاثر ہوکر  لوگ آغوش اسلام میں آتے گئے۔ آپ ؐنے اسلام کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے عمل کا سہارا لیا۔ تقریروں کا نہیں۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ’’حضور صلعم کی زندگی قرآن کی عملی شکل ہے‘‘۔ دکن کے قابل احترام عالم دین ابوالحسنات سید عبداللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری اپنی کتاب ’میلاد نامہ ‘ میں فرماتے ہیں نہ یہ عر ش تھا‘ نہ یہ کرسی تھی ‘ نہ زمین‘ نہ آسمان ‘نہ شجر‘ نہ حجر‘ نہ عشق ‘ نہ محبت‘ نہ دل تھا ‘ نہ دل جلے ایک فقط تن تنہا خدا وند قدوس کی ذات تھی اور نہ کوئی تھا۔
جب نہ تھا کونین کا بالکل پتا
محو اور تنہا تھی  ذات کبریا
محو اور بے خود تھا جس عالم میں رب
گنج مخفی بولتے ہیں اس کو سب
سچ پوچھئے تو اگر بے عشق و محبت کے سارا عالم بھی بنتا تو فضول تھا خدائے تعالیٰ کو منظور ہوا کہ کچھ حسن و عشق کی بہار دکھائی جائے‘ اس لئے پہلے نوری محمد صلعم کو پیدا کرکے اس سے تمام عالم پر ٹھاٹھ جمایا۔ اب وقت آگیا تھا کہ کسی نہ کسی طرح حسن دکھائے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے نور محمدی صلعم کو پیدا کیا۔ پھر اس نور سے تمام عالم بناکر اپنی قدرت کا ظہور کیا۔ اللہ تعالیٰ مخفی تھا اپنے آپ کو آشکارا کرنے کے لئے نور محمدی  صلعم سے انسان بنایا اور انسان میں عشق و محبت کا چرچا پھیلایا۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں
اپنے اس بیان کا خلاصہ کرتے ہوئے حضرت عبداللہ شاہ صاحب مزید فرماتے ہیں کہ ’’اللہ ‘ انسان بناکر آشکارا ہوا ‘ عالم بناکر اپنی قدرت دکھایا‘ نور محمدیؐ بناکر حسن وعشق کو ظاہر کیا اسی واسطے آپ کی امت میں ایسے ایسے عاشقان الہی پیدا ہوئے ہیں کہ دوسری امت میں ان کی نظیر نہیں ملتی۔‘‘
ہمارے نبی مکرم ؐ نے یہ پیشن گوئی فرمائی تھی کہ میری امت میں 72فرقے ہوں گے تو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہر معاشرہ میں اختلاف کا ہونا فطری عمل ہے۔ ہمارے کئی دوست احباب ہیں جو یوم قرآن تو مناتے ہیں لیکن صاحب قرآن کا یوم منانے میں انہیں اختلاف ہے۔ اگر ان کا اختلاف اس بنیاد پر ہے کہ میلاد النبیؐ کے دوران کچھ لوگ اپنی حدوں کو پار کردیتے ہیں شائستگی کا دامن چھوڑدیتے ہیں تو یقینا ان کا اعتراض جائز ہے اور ان کے اعتراض کا احترام کرنا ضروری ہے۔ میلاد النبیؐ خلوص‘ احترام اور شائستگی سے منائی جاتی ہے تو یقینا ان لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہوگا۔ میلاد النبی ؐکے جلسوں سے حیات طیبہؐ کو اجاگر کرنے کا موقع ملتا ہے اور پھر آپ کا ذکر بھی عبادت سے کیا کچھ کم ہے۔
محسن انسانیت حضور اکرم  ؐ کا ایک ایک عمل ‘جس کا تعلق حق و باطل کی جنگوں سے ہو یا پھر دوران امن سے دنیا کے لئے ایک عظیم پیغام ہے۔ جنگ کے دوران اسلام کی تعلیمات و ہدایات اقوام متحدہ کے چاپٹر میں شامل ہوگئے ہیں۔ بیٹیوں کو زندہ دفن کردینے کے خلاف آپ کی مقدس مہم آج دنیا بھر میں قانون بن کر ابھر آئی ہے۔ سارا عالم آپؐ کا احسان مند ہے۔ ساری دنیا آپؐ کی ولادت کو گھنگھور اندھیروں میں ’’نور ‘‘کا درجہ دیتی ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں ہر سو ہر گھڑی آپؐ کی عظمت کے اعتراف کے لئے مسلسل جلسوں کا انعقاد یہی تو تو ظاہر کرتا ہے ناکہ ؎
کونسی زمیں اُن کے عاشقوں سے خالی ہے
ہر طرف ہے پروانے شمع ہے مدینہ میں
shujath ali sufi facebook

TOPPOPULARRECENT