Tuesday , August 22 2017
Home / مضامین / کون بنے گا صدر جمہوریہ

کون بنے گا صدر جمہوریہ

فیض محمد اصغر
سیاسی لحاظ سے اہم ترین ریاست اترپردیش میں بی جے پی کی شاندار کامیابی سے ہندوتوا طاقتوں کے موقف میں غیر معمولی مضبوطی آئی ہے اور اس بات کی امیدیں بھی بڑھ گئی ہیںکہ ملک کے باوقار عہدہ صدارت پر راشٹریہ سیوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کس قائد کو فائز کیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ملک کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا یہ منفرد واقعہ ہوگا اور منفرد تبدیلی ہوگی۔ واضح رہے کہ قوم پرستی کا دم بھرتے نہ تھکنے والی یہی وہ آر ایس ایس ہے جس نے برسوں اپنے ہیڈکوارٹر پر ملک کا قوم پرچم (ترنگا) نہیں لہرایا۔ آر ایس ایس قائدین کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے تحریک آزادی کے دوران انگریزوں کی مخبری کی جبکہ آر ایس ایس کے ہی ایک سابق رکن ناتھورام گوڈسے نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کو انتہائی بہیمانہ انداز میں قتل کیا۔ آثار و قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کی میعاد ختم ہوتے ہی اس عہدہ جلیلہ پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو فائز کیا جاسکتا ہے، لیکن عہدہ صدارت کی اس دوڈ میں سابق نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کے ساتھ ساتھ موجودہ وزیر داخلہ سشما سوراج بھی شامل ہیں۔ جہاں تک موہن بھاگوت کواس عہدہ پر فائز کئے جانے کا سوال ہے۔ وہ اس لئے ہوسکتا ہے کہ بی جے پی اور سنگھ پریوار ایسا کرتے ہوئے نہ صرف ہندوستان بلکہ ساری دنیا کو یہ پیغام دے سکتے ہیں کہ ہندوستان میں ہندوتوا طاقتیں مضبوط و مستحکم ہیں اور ہندوستان کو ہندو راشٹرا (ہندو ملک) بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آر ایس ایس ایک منظم جماعت ہے جو تخم ریزی کے فوری بعد پھل کی توقع نہیں رکھتی بلکہ برسوں اس کا انتظار کرتی ہے اور پھل کے اچھی طرح پک جانے کے بعد اس پر اپنا ہاتھ صاف کردیتی ہے۔ اس کی سب سے اہم مثال بی جے پی کا قیام اور اس کا ارتقاع ہے۔ آر ایس ایس نے بی جے پی کو فوری قائم نہیں کیا بلکہ اس کے لئے راہ ہموار کرنے کی خاطر 1951ء میں شیام پرساد مکرجی نے بھارتیہ جن سنگھ قائم کی۔ 1977ء میں اندرا گاندھی کی جانب سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد آر ایس ایس کے اشاروں پر بھارتیہ جن سنگھ کو کئی جماعتوں کے ایک منظم گروپ جنتا پارٹی میں ضم کیا گیا۔ جنتا پارٹی نے 1977ء کے عام انتخابات میں شریمتی اندرا گاندھی کی زیر قیادت کانگریس کو شکست فاش دی۔ پھر آر ایس ایس کے اشاروں پر رقص کرتے ہوئے 1980ء میں جنتا پارٹی تحلیل کردی گئی اور سابق جن سنکھیوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی قائم کی۔ 1984ء میں اس پارٹی کو صرف 2 نشستیں حاصل ہوسکی لیکن ایل کے اڈوانی جیسے قائد نے رام جنم بھومی تحریک شروع کرتے ہوئے اسے قومی سطح پر اور ریاستوں میں کافی مستحکم کیا۔ 1996ء میں تو اس نے پارلیمنٹ میں سب سے بڑی پارٹی ہونے کا اعزاز حاصل کیا، لیکن اس کی حکومت صرف 13 یوم ہی چل سکی۔ 1998ء کے عام انتخابات کے بعد بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے نے اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں حکومت بنائی اور ایک سال تک یہ حکومت چلتی رہی پھر تازہ انتخابات کے بعد اٹل بہاری واجپائی کی زیر قیادت مخلوط حکومت نے اپنی میعاد مکمل کی۔ 2004ء کے عام انتخابات میں این ڈی اے کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس کے بعد کے دس سال تک بی جے پی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت رہی پھر 2014 میں چیف منسٹر گجرات نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی اور اس کی زیر قیادت اتحاد این ڈی اے کو واضح اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی۔ اب بی جے پی کی زیر قیادت اتحاد ملک کی کم از کم 17 ریاستوں میں اقتدار پر فائز ہے۔ بی جے پی کے اس سیاسی سفر سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آر ایس ایس انتہائی منظم طور پر کام کرتی ہے۔ اس میں شخصی مفادات یا شخصیت کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ کاز کو اہمیت دی جاتی ہے اگر شخصیت کو اہمیت دی جاتی تو اڈوانی جیسے شخص کو پارٹی میں بری طرح نظرانداز نہیں کیا جاتا۔ انہیں سیاسی تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکنے کی کوئی جرأت نہیں کرتا۔ بی جے پی دراصل آر ایس ایس کا سیاسی ونگ ہے جو اس کے اشاروں پر اقدامات کرتی ہے۔ ہم نے جیسا کہ سطور بالا میں ذکر کیا ہے کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو عہدہ صدارت پر فائز کیا جاسکتا ہے اس سلسلہ میں سنگھ پریوار نے اپنی کوششیں بلکہ اقدامات کا آغاز کردیا ہے چنانچہ مرکز اور ریاست مہاراشٹرا میں بی جے پی کی حلیف شیوسینا نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت عہدہ صدر جمہوریہ کے لئے موزوں شخصیت ہیں۔ شیوسینا نے ہی موہن بھاگوت کو عہدہ صدر جمہوریہ پر فائز کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ تاہم سیاسی حلقوں میں کہا جارہا ہے کہ فی الوقت بی جے پی اور شیوسینا میں کافی تناؤ پایا جاتا ہے ان حالات میں اس نے عہدہ صدارت کے لئے موہن بھاگوت کے نام کی تجویز پیش کرتے ہوئے ایک عیارانہ سیاسی چال چلی ہے۔ کیونکہ بی جے پی نے ریاست مہاراشٹرا کے بلدی انتخابات میں شیوسینا کو زمین چاٹنے پر مجبور کیا۔ ممبئی بلدیہ میں اس کے ارکان کی تعداد شیوسینا ارکان کے تقریباً مساوی ہے۔ اس کے علاوہ یوگی آدتیہ ناتھ کو یوپی کا چیف منسٹر مقرر کرتے ہوئے بی جے پی نے شیوسینا کو بتا دیا کہ وہی ہندوتوا کی علمبردار ہے اور ہندو راشٹرا کی سیاست پر اسی کا حق ہے۔ شیوسینا کا نہیں۔ موہن بھاگوت کو عہدہ صدارت پر فائز کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے شیوسینا لیڈر سنجے راوت کا کہنا تھا کہ ہیڈ گوار اور گولوالکر کے بعد ایک متحدہ ہندو ملک کے تئیں موہن بھاگوت سخت محنت کررہے ہیں۔ شیوسینا کا مشورہ ہے کہ موہن بھاگوت کو صدر کے عہدہ پر فائز کرنا ہندوستان کو ہندوراشٹر بنانے کے سمت ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ شیوسینا قائد کے مطابق اس معاملہ میں صدر شیوسینا ادھو ٹھاکرے ہی حتمی فیصلہ کریں گے۔ تاہم شیوسینا نے عہدہ صدارت کے لئے بھگوت کا نام پیش کرکے بی جے پی حلقوں میں ہلچل مچادی ، لیکن بی جے پی اور مودی کے لئے اطمینان کی بات یہ ہے کہ اترپردیش میں غیر متوقع کامیابی نے الکٹورل کالج میں اس کے ارکان اور ان کی قدر میں اضافہ کیا ہے۔ ایسے میں بیجو جنتادل، اے آئی اے ڈی ایم کے جیسی پارٹیوں کی تائید حاصل کرتے ہوئے بی جے پی شیوسینا کے اثر کو زائل کرسکتی ہے۔ شیوسینا فی الوقت کافی تلملائی ہوئی ہے۔ مہاراشٹرا بلدی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی وہ ہضم نہیں کر پارہی ہے۔ اسے خوف ہے کہ آنے والے برسوں میں بی جے پی ریاست سے شیوسینا کا ہی صفایا کردے گی۔اگرچہ ہندوتوا فورسس آر ایس ایس سربراہ کو اس عہدہ پر فائز کئے جانے کی وکالت کررہی ہیں لیکن خود موہن بھاگوت نے یہ کہہ کر اپنے سے متعلق قیاس آرائیاں ختم کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ عہدہ صدر جمہوریہ کی دوڑ میں شامل نہیں ہیں۔ اگر موہن بھاگوت صدر جمہوریہ بننے کے خواہاں نہیں ہیں تو پھر اس عہدہ کے لئے مسٹر ایل کے اڈوانی اور سشما سوراج طاقتور دعویدار ہوتے ہیں۔ اڈوانی کو ترجیح اس لئے دی جاسکتی ہے کیونکہ انہوں نے بی جے پی کے سیاسی سفر میں تن من دھن سے شامل رہتے ہوئے اسے اقتدار تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 2014ء کے عام انتخابات تک بھی ان کے ذہن و قلب میں عہدہ وزارت عظمی پر فائز ہونے کی خواہش انگڑائیاں لیتی رہی لیکن آر ایس ایس نے مودی کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے اڈوانی کے خوابوں کو چکناچور کردیا۔ اب جبکہ عہدہ صدارت پر ان کے فائز ہونے کے بہت زیادہ امکانات پائے جاتے ہیں۔ مرلی منوہر جوشی اور سشما سوراج رکاوٹ بن رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 89 سالہ اڈوانی کو اس عہدہ پر فائز کیا جاتا ہے یا نہیں ویسے بھی اڈوانی شہادت بابری مسجد مقدمہ کے ملزمین میں سے ایک ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو عہدہ صدر جمہوریہ پر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام جیسی دیانت دار، محب وطن اور وسیع الذین و وسیع القلب شخصیت کو فائز کیا جانا چاہئے۔ ڈاکٹر کلام جیسے لوگوں کے لئے عہدے نہیں بلکہ عہدوں کے لئے وہ اعزاز ہوا کرتے ہیں اور اگر اس تناظر میں بی جے پی پر نظر ڈالی جائے تو ایسی پارٹی میں ڈاکٹر کلام جیسا کوئی نظر نہیں آتا۔

TOPPOPULARRECENT