Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / کووند معمولی مکان سے 340کمروں والے راشٹرپتی بھون منتقل

کووند معمولی مکان سے 340کمروں والے راشٹرپتی بھون منتقل

منتخب صدرجمہوریہ رامناتھ کی پیدائش کانپور کے چھوٹے دیہات میں ہوئی
نئی دہلی22جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کبھی پھوس کے چھپر سے بارش کے دنوں میں ٹپکتے پانی سے بچنے کے لئے بھائی بہنوں کے ساتھ چھوٹے سے کونے میں دبکنے والا شخص اب دنیا کی دوسری سب سے بڑی سرکاری عمارت کی زینت بڑھا رہا ہے ۔یہ کوئی اور نہیں کانپور دیہات کے ایک چھوٹے سے گاؤں پروکھ میں پیدا ہوئے مسٹر رام ناتھ کووند ہیں، جو ملک کے سب سے اعلی آئینی عہدہ صدر جمہوریہ کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ پروکھ کی تنگ گلیوں میں بچپن گزارنے والے مسٹر کووند ملک کے 14ویں صدر بنے ہیں اور ان کا استقبال کرنے کے لئے تیار ہے رائے سینا ہلس واقع 340 کمروں اور 750 ملازمین والا راشٹرپتی بھون ۔ملک کے اولین شہری کی یہ رہائش گاہ و سکریٹریٹ اٹلی کے روم واقع کیورنل پیلس کے بعد دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سرکاری رہائش گاہ ہے ۔سال 1912 میں اس کا تعمیراتی کام شروع ہوا تھا، جو 17 سال کی محنت کے بعد 1929 میں بن کر تیار ہوا تھا۔ اس کی تعمیر میں تقریبا 29 ہزار مزدور لگائے گئے تھے ۔1911میں جب ہندوستان کے دارالحکومت کو کولکاتہ سے دہلی منتقل کیا گیا تھا، تو برطانوی حکومت کو اسے بنانے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی، جس کے لئے ایک تجویز منظور کی گئی تھی۔ سال 1950 کے بعد اس میں ہندوستان کے صدر قیام کرنے لگے اور اس کا نام وائسرائے ہاؤس سے بدل کر راشٹرپتی بھون ہو گیا۔ معروف معمار سر لینڈسیر لٹین کی نگرانی میں رائے سینی اور مالچا نامی دو دیہاتوں کو ہٹا کر ان کی جگہ اس تاریخی عمارت کی تعمیرکی گئی تھی۔ اسی لیے اسے رائے سینا ہلز کا نام دیا گیا۔ آزادی سے پہلے اسے وائیسرائے ہاؤس کے نام سے جانا جاتا تھا اور یہ ہندوستان کی سب سے بڑی رہائش گاہ تھی۔ فی الحال ہندوستان کے صدر، ان کمروںمیں نہیں رہتے ، جہاں وائے سرائے رہتے تھے ، بلکہ وہ مہمان خانوں کے لئے مختص کمروں میں رہتے ہیں۔ تقریبا 70 کروڑ اینٹوں اور 35 لاکھ مکعب فٹ (85000 کیوبک میٹر) پتھر سے بنی اس عمارت میں لوہے کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہوا تھا۔

TOPPOPULARRECENT