Monday , July 24 2017
Home / مضامین / کووند کسے سربلند رکھیں گے دستور ِہند یا ہندو قوم پرستی؟

کووند کسے سربلند رکھیں گے دستور ِہند یا ہندو قوم پرستی؟

 

رام پنیانی
رامناتھ کووند کو صدارتی امیدوار نامزد کرتے ہوئے بی جے پی نے پوری طرح علامتی اقدام کی سیاست چلنے کی کوشش کی ہے۔ مسٹر کووند یو پی سے تعلق رکھنے والے دلت ہیں۔ بی جے پی پریوار کی طرف سے کئی نام زیرگشت رہے لیکن آخرکار وہ ایسے شخص پر مطمئن ہوگئے جو نام کے اعتبار سے دلت اور نظریہ کے اعتبار سے ہندو قوم پرست ہے۔ مودی سرکار کے گزشتہ تین برسوں میں نہ صرف مسلمانوں یعنی مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے بلکہ بالخصوص دلتوں کے خلاف بھی تشدد بڑھا ہے۔ آئی آئی ٹی مدراس میں پیریار اسٹیڈی سرکل پر پابندی عائد کرنے سے لے کر ایسے حالات پیدا کرنا جہاں دلت ریسرچ اسکالر روہت ویمولا کو اپنی زندگی ختم کرنے پر مجبور ہونا پڑا، اور اونا میں دلتوں کے خلاف ’’گاؤ تشدد‘‘ تک ایک سماجی گروپ کی حیثیت سے دلتوں کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جو ہندو قوم پرستانہ سیاست کا شاخسانہ ہے۔ اس کے علاوہ ایسی مثالیں بھی ہیں جہاں ایک مرکزی وزیر نے دلتوں کو کتوں سے تعبیر کیا، ایک بی جے پی لیڈر نائب صدر یو پی بی جے پی کرپا شنکر سنگھ نے کہا کہ مایاوتی فاحشہ سے بدتر ہے۔ اتفاق سے کرپاشنکر کی بظاہر سرزنش کی گئی لیکن پچھلے دروازے سے عمل کے مصداق ان کی بیوی کو اسمبلی انتخابات کیلئے پارٹی ٹکٹ دیا گیا اور پھر یو پی کی یوگی کابینہ میں منسٹری دی گئی۔ اس کے بعد زخم پر نمک چھڑکنے جیسا ہوا کہ سہارنپور میں دلتوں کے خلاف ہولناک تشدد دیکھا گیا کیونکہ مسٹر یوگی برسراقتدار آنے پر اونچی ذات والے خود کو زیادہ طاقتور محسوس کررہے ہیں۔ جب چندرشیکھر زیرقیادت بھیم آرمی نے دلتوں پر حملے کے خلاف احتجاج کیا تو نوجوان دلت قائدین کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ حملہ آوروں کو معمولی الزامات کے ساتھ چھوڑ دیا گیا۔
رامناتھ کووند کی نامزدگی کا یہ اقدام سماج میں دلتوں کو دیئے گئے گہرے زخم پر مرہم لگانے کی ظاہری کوشش معلوم ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ گجرات قتل عام جو گودھرا ٹرین جلنے کی آڑ میں منظم کرایا گیا اور جس سے بالخصوص گجراتی مسلمانوں کو کاری ضرب لگی، اس کے بعد مسٹر اے پی جے عبدالکلام کو بی جے پی نے صدرجمہوریہ ہند منتخب کیا تھا۔ وہ ایک اور علامتی اقدام ہوا، جس نے سماج میں زیادہ گہری مخالف اقلیت حرکیات کو تبدیل نہیں کیا۔ یہی کچھ ہے جو علامتی اقدام میں ہوتا ہے اور ایسا تاثر پیدا کیا جاتا ہے کہ مانو مدد کی جارہی ہے۔
مسٹر کووند آر ایس ایس سویم سیوک رہے ہیں؛ انھوں نے آر ایس ایس کے کام کیلئے اپنا آبائی مکان عطیہ میں دیا ہے۔ اُن کے خیالات جو اُن کے کئی بیانات سے معلوم ہوئے، ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسلام اور عیسائیت کو پردیسی مذاہب سمجھتے ہیں۔ یہ بات تب ظاہر ہوئی جب وہ رنگناتھ مشرا کمیشن رپورٹ پر مباحث میں حصہ لے رہے تھے اور اسلام یا عیسائیت قبول کرلینے والے دلتوں کیلئے ریزرویشن کی بات زیربحث آئی۔ مسٹر کووند کا کہنا ہے کہ تعلیم کو تحفظات پر برتری حاصل ہونا چاہئے، اور اس طرح دلتوں کیلئے ریزرویشن کی اہمیت کو گھٹادیا۔

بی جے پی کی حکمت عملی کے تحت کووند خاص طور پر یو پی میں غیرجاٹو دلتوں کو راغب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ بی جے پی۔ آر ایس ایس نے کئی دلتوں کی تائید و حمایت جیتی ہے۔ بعض قائدین جیسے رام ولاس پاسوان جو شخصی اقتدار کی خاطر دلتوں کے مفادات پر مفاہمت کرتے آئے ہیں، انھوں نے کہا کہ ان سب کو مخالف دلت سمجھا جانا چاہئے جو کووند کی مخالف کریں! آج دلت لیڈر ہونے کا مطلب کیا ہے؟ کووند اور پاسوان جیسے کئی قائدین ہیں جو اپنے لب سی لیتے ہیں جب دلتوں کے خلاف مظالم ہوتے ہیں اور بڑھتے جارہے ہیں۔ دلت قیادت آج مخمصہ میں مبتلا ہے۔ رام ولاس پاسوان طرز کے کئی دلت قائدین بی جے پی۔ آر ایس ایس کی ہندو قوم پرستانہ سیاست کے ساتھ جڑگئے ہیں کیونکہ یہ انھیں ترغیبی انعامات اور اقتدار دیتی ہے۔ لیکن بڑی تعداد میں دیگر بھی ہیں جو دلتوں کی بقا اور ان کے وقار کے مسائل پر اور مساوی شہریوں کے طور پر ان کے حقوق کیلئے سسٹم کے خلاف احتجاجوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ دلتوں کیلئے بڑی کامیابی ہندوستانی دستور کا وجود میں آنا رہی ہے، وہ دستاویز جس نے انھیں نظری مساوات دی ہے۔ یہ انھیں وہ بنیاد فراہم کرتی ہے جس پر وہ ڈٹ کر اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرسکتے ہیں۔

دوسری طرف آر ایس ایس کی سیاست ہندو قوم پرستی کے حق میں ہندوستانی قوم پرستی کی مخالفت رہی ہے۔ آر ایس ایس سیاست ایسی مقدس کتابوں کو مانتی آئی ہے جن میں ذات پات کے درجات کی گنجائشیں موجود ہوں۔ اس طرح ہندو قوم پرستی گزشتہ لگ بھگ ایک صدی میں طویل سفر طے کرچکی ہے۔ کیا یہ اتفاق ہے کہ آر ایس ایس کی تشکیل مہاراشٹرا کے ودربھ خطہ میں غیربرہمن تحریک کی شکل میں دلتوں کے بڑھتے احتجاجوں کے پس منظر میں ہوئی۔ دلت لوگ مساوات کیلئے ایجی ٹیشن اور تحریکات کے ذریعہ اپنی ضرورتوں کو صاف صاف پیش کررہے تھے۔ ہندو قوم پرستی نے قدیم نظام کو برقرار رکھا ہے؛ اس نے ذات پات کے ڈھانچے کو عیارانہ انداز میں قائم رکھا ہوا ہے۔ گذرتے وقت کے ساتھ بالخصوص دہا 1990ء کے بعد آر ایس ایس۔ بی جے پی کی سیاست ریزرویشن اور دلتوں کو مساوات کی مخالفت کرتی آئی ہے۔ اس نے کئی سطحوں پر کام کرتے ہوئے دلتوں کو اپنی سیاسی صف میں شامل کرلیا ہے۔ ونواسی کلیان آشرم جو آدیواسیوں کو ہندو بنانے کیلئے کام کرتا رہا ہے، اس میں اضافہ کے طور پر سماجیک سمراستا منچ (سوشل ہارمنی فورم) کی تشکیل ہوئی تاکہ ذاتوں میں ہم آہنگی کے حق میں ’سمتا‘ (مساوات) کیلئے جدوجہد کی مخالفت کی جائے۔ کلچرل میکانزم کے ذریعہ یہ بات پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ دلت لوگ اسلام کی طرف سے حملوں کے خلاف ہندومت کا دفاع کررہے ہیں۔حالیہ عرصے میں آر ایس ایس اتحاد نے امبیڈکر کو خراج پیش کرنے کی کوششوں میں انھیں ’گریٹ ہندو‘ قرار دیا، اُن کے یوم پیدائش کو بڑے پیمانے پر منایا ،وغیرہ وغیرہ۔ امبیڈکر کی سیاست اور ہندو قوم پرستانہ سیاست میں قطبی ضد ہے۔ امبیڈکر کا موقف آزادی، مساوات اور بھائی چارہ ہے جبکہ ہندو قوم پرستی ویدک وقتوں کے درجات والے اقدار کی حامی ہے۔ سماجی تعمیرات کے ذریعہ دلتوں کو بابری مسجد کے انہدام میں حصہ لینے اکسایا گیا اور مخالف مسلم تشدد میں بھی حصہ لینے راغب کیا گیا۔ مسٹر کووند کے بارے میں رائے کس طرح قائم کی جائے؟ کسی شخص کی سیاست کی رہنمائی پیدائش سے نہیں ہوتی، دلتوں کا ہندو قوم پرستی کو پھیلانا اور اس کیلئے کام کرنا خود دلتوں کو سنگین طور پر نقصان پہنچا رہا ہے، جبکہ غیردلتوں کا امبیڈکر کی راہ کو قائم رکھنا واقعی دلتوں کی بھلائی کیلئے کام کرنا ہے!
مسٹر کووند نے ضرور آر ایس ایس کا حلف لے رکھا ہے، جو ہندو قوم کی برتری پر زور دیتا ہے۔ دستورِ ہند تو ہندوستانی قوم پرستی کیلئے ہے۔ وہ صدرجمہوریہ ہند کے طور پر کسے سربلند رکھیں گے، اول الذکر یا آخرالذکر؟

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT