Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / کوڈنکلم نیوکلیئر توانائی پلانٹ قوم کے نام معنون

کوڈنکلم نیوکلیئر توانائی پلانٹ قوم کے نام معنون

ویڈیو کانفرنسنگ پر افتتاحی تقریب ، وزیراعظم مودی، روسی صدر پوٹن کا خطاب

کڈنکلم ۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی، روس کے صدر ولادیمیر پوٹن اور ٹاملناڈو کی چیف منسٹر جیہ للیتا نے 1000 میگاواٹ صلاحیتی نیوکلیئر توانائی پلانٹ I کو آج یہاں قوم کے نام معنون کیا اور یقین دلایا کہ یہ دنیا کے محفوظ ترین نیوکلیئر پلانٹس شمار ہوگا۔ وزیراعظم مودی نے دہلی سے ویڈیوکانفرنسنگ کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کڈنکلم 1 ہند ۔ روس پراجکٹ ہے جو ہندوستان میں صاف ستھری توانائی کی پیداوار میں اضافہ کیلئے جاری مساعی میں ایک اہم اضافہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں ہمیشہ ہی روس کے ساتھ دوستی کی بے پناہ قدر کرتا رہا ہوں اور یہ بات اس دوستی کی شایان شان ہیکہ کڈنکلم نیوکلیئر توانائی پلانٹ 1 کو ہم مشترکہ طور پر معنون کررہے ہیں۔ یہ دراصل سبز ترقی کیلئے رفاقت سازی کیلئے ہمارے مشترکہ عزم کا اشارہ بھی ہے۔ پوٹن نے ماسکو سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ توانائی پلانٹ روس کی انتہائی عصری ٹیکنالوجی سے آراستہ کیا گیا ہے۔

یہ محض توانائی پلانٹ کی تعمیر اور شروعات ہی نہیں ہے۔ یہ مر معروف ہے کہ نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں سرکردہ ممالک میں روس بھی شامل ہے اور ہمیں ہندوستانی رفقاء کے ساتھ اپنی نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں ساجھیداری پر بیحد خوشی ہے‘‘۔ ٹاملناڈو کی چیف منسٹر جیہ للیتا نے چینائی سے اس ویڈیو کانفرنس میں شامل ہوتے ہوئے کہا کہ کڈنکلم نیوکلیئر توانائی پلانٹ ہند اور روس کے درمیان دیرپا گہری دوستی کے جشن کی ایک یادگار ہے۔ ٹاملناڈو کے ضلع ترونل ویلی میں اس پراجکٹ پر عمل آوری کیلئے وہ (جیہ للیتا) اپنے 10 سالہ دوراقتدار کے دوران بھرپور تائید و مدد کرتی رہی تھیں۔ کڈنکلم نیوکلیئر توانائی پراجکٹ (کے این پی پی) افزودہ یورینیم پر مبنی روسی طرز کے رٹیکرس ری ایکٹرس کے استعمال سے بنایا گیا ہے جس کے دوسرے یونٹ کا اواخر سال آغاز متوقع ہے۔

مقامی عوام کے احتجاج کے سبب پہلے یونٹ کی تکمیل میں تاخیر ہوئی تھی۔ اس پراجکٹ کے آغاز سے قبل عوام نے تحفظ کے بارے فکروتشویش کا اظہار کیا تھا۔ روسی ٹیکنالوجی پر مبنی ایک جولائی 2014ء میں تیار ہوگیا تھا اور اسی سال 31 ڈسمبر سے اس کی تجارتی پیداوار شروع ہوچکی تھی، جس کے ذریعہ توانائی کی سخت ضرورتمند ریاست ٹاملناڈو کو غیرمعمولی مدد ملی تھی۔ وزیراعظم مودی نے کہا کہ کے این پی پی 1 کا آغاز ہند ۔ روس تعلقات میں مزید ایک اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے این پی پی میں فی کس 1000 میگاواٹ صلاحیت کے مزید پانچ یونٹس قائم کئے جائیں گے۔ جیہ للیتا نے کہا کہ نیوکلیئر توانائی، صاف، بند اور ٹھوس توانائی ہے جس کی ٹاملناڈو جیسے ایک تیز رفتار ترقی پذیر ریاست کو فی الواقعی اس کی سخت ضرورت تھی۔

TOPPOPULARRECENT