Sunday , October 22 2017
Home / مضامین / کوہِ نور ہیرا ہندوستانی نوادر کا تاج

کوہِ نور ہیرا ہندوستانی نوادر کا تاج

ہندوستان بیش قیمتی ہیرے کو واپس لانے کا اقدام کرے

ششی بھوشن
حکومت ہند نے چند روز قبل سپریم کورٹ میں دیئے گئے اپنے بیان سے انحراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوہِ نور ہیرے پر اس کا دعویٰ پہلے بھی تھااور آج بھی ہے۔ حکومت ہند نے بتایا کہ کوہِ نور پر ہندوستان کا دعویٰ نہیں، والی بات مودی سرکار نے نہیں بلکہ 1956 ہے ہی متعدد حکومتیں کرتی آ رہی ہیں۔ کورٹ کی سرزنش کے بعد مرکزی حکومت نے کہا کہ وہ اپنے دور اقتدار میں کوہِ نور کو لانے کی تمام کوششوں کو جاری رکھے گی ۔ مرکزی حکومت نے سالیسٹر جنرل رنجیت کمار کے بیان پر صفائی پیش کی کہ ان کی تنقید یا ریمارک حکومت کا اسٹینڈ نہیں ہے ۔ یہی نہیں حکومت نے تو یہاں تک کہا کہ 1956 ء سے سرکاریں یہی رخ اپنا رہی ہیں، جب جواہر لال نہرو وزیراعظم تھے ۔ پنڈت نہرو نے آن ریکارڈ کہا تھا کہ آرٹ کے خزانے کو واپس منگانے کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا ۔ کوہِ نور واپس لانے کی کوشش پریشانیاں بھی پیدا کرسکتی ہے۔ سرکار کا مذکورہ بیان سپریم کورٹ کی پھٹکار کے بعد تب آیا ہے جب مرکزی وزیر برائے ثقافت کی طرف سے سپریم کورٹ میں یہ کہا گیا کہ کوہِ نور ہیرا نہ تو چرایا گیا نہ ہی انگریز اسے جبراً لے گئے ۔ حکومت کے اس بیان سے تو ہندوستانی شہریوں کو بھی حیرانی ہوئی کیونکہ دہائیوں سے ملک میں یہی تصور ہے کہ یہ ہیرا ہندوستان کا ہے ۔ یہی تصور منگل کو بی جے پی کے سینئر قائد سبرامنیم سوامی کے سخت رخ میں بھی ظاہر ہوا ۔ سوامی نے سالیسٹر جنرل رنجیت کمار کے ذریعہ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رائے کی تنقید بھی کی ۔

دراصل سپریم کورٹ بھی وزارت ثقافت کے رخ سے مطمئن نہیں دکھائی دیا ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کوہِ نور واپس منگانے کیلئے دائر عرضی اس نے نے خارج کردی تو پھر اس ہیرے پر سے ہندوستان کا دعویٰ ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گا۔ ساتھ ہی وہ فیصلہ ایسی متعدد بیش قیمتی چیزوں کے معاملے میں بھی نظیر بن جائے گا جنہیں ماضی میں ملک سے باہر لے جایا گیا ہے ۔ اس کے بعد سالیسٹر جنرل نے لگ بھگ سنبھلتے ہوئے کہاکہ اس بارے میں وزارت خارجہ کا رخ سماعت کی اگلی تاریخ پر وہ کورٹ کو بتائیں گے ۔ یعنی انہوں نے صاف کردیا کہ ابھی حکومت کے پاس اس معاملے میں دوبارہ غور و خوض کا موقع ہے ۔ وزارت ثقافت نے کہا ہے کہ کوہِ نور ہیرے کو مہاراجہ رنجیت سنگھ کے پوتے دلیپ سنگھ نے 1849 ء میں انگریزوں اور سکھوں کے درمیان ہوئے جنگ کے بعد ہرجانے کے طور پر ایسٹ انڈیا کمپنی کو سونپا تھا ۔ مگر مہاراجہ کے وارثین وزارت ثقافت کی رائے سے اتفاق نہیں رکھتے۔ ان کے مطابق یہ ہیرا نابالغ مہاراجہ دلیپ سنگھ سے زبردستی لے لیا گیا تھا۔ کوہِ نور ہیرے کی تاریخ 1306 عیسوی سے لوگوں کے علم میں  ہے۔ اس کا  ذکر بابر نامہ میں بھی کیا گیا ہے ۔ انگریزوں کے ہاتھ لگنے کے پہلے اس نے متعدد ہندوستانی راجاؤں اور شہنشاہوں کی شان بڑھایا ہے۔ جب یہ انمول ہیرا برطانیہ کے ہاتھ لگا تب سے ملک میں یہ تصور قائم رہا ہے کہ اگریز طاقت کے زور پر اسے یہاں سے لے گئے ۔ اسی لئے آزادی کے بعد سے کوہ نور کو ہندوستان لانے کی مانگ ہوتی رہی ہے ۔ برطانوی حکومت نے 2013 ء میں اس مانگ کو خارج کردیا تھا ۔ کوہِ نور کے کئی دوسرے دعویدار بھی ہیں۔  1976 ء میں پاکستان نے اور 2001 ء میں افغانستان نے اس پر اپنا دعویٰ کیا تھا ۔ ایران اور بنگلہ دیش بھی اس پرانی دعویداری جتاچکے ہیں۔ ہندوستان کے 1972 ء کے بیش قیمتی نوادرات اور آرٹ قانون کے مطابق  غیر قانونی طور پر غیر ممالک بھیجی اشیاء پر دعویداری کی جاسکتی ہے ۔ اس طرح سے کئی چیزیں آئی بھی ہیں۔ اسی کے تحت جنوبی ہند کے ایک مندر سے چوری کی گئی ایک مورتی کو آسٹریلیا کی حکومت نے کچھ وقت قبل واپس کردیا جو وہاں کے ایک میوزیم کو فروخت کردی گئی تھی ۔ فی الوقت کوہِ نور برطانیہ کے شاہی خزانے میں رکھا ہوا ہے۔

اسے دنیا سب سے مہنگے ہیروں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ فی الحال سپریم کورٹ غیر سرکاری تنظیم انڈیا ہیومن رائٹس اینڈ سوشیل جسٹس فرنٹ کی عرضی پر سماعت کر رہا ہے ، جس میں ہند وستانی حکومت کو کوہِ نور واپس لانے کا حکم دینے کی گزارش کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے عرضی خارج نہیں کی، یہ سوچ کر کہ عرضی خارج کرنے پر برطانیہ اسے ڈھال بنالے گا کہ جب آپ کی عدالت عظمیٰ نے اس معاملے کو قابل غور نہیں سمجھا تو ہم اس پر کیوں غور کریں ۔ یہی نہیں ، عدالت نے وزارت خارجہ کو بھی اپنا موقف پیش کرنے کا حکم دے رکھا ہے ۔ وزارت ثقافت نے تو وہی کہا ہے جو بیش قیمتی نوادرات اور آرٹ قانون میں ہے ۔ امکان ہے کہ جب وزارت خارجہ کا جواب آئے تو اس میں کوئی سفارتی راستہ نکلے۔
اس سلسلے میں ایک بات ضرور کہی جاسکتی ہے کہ کوہِ نور ہیرا کی جو تاریخی اور فنی اہمیت ہے، اس کے پیش نظر یہ وراثت ہندوستان میں ضرور واپس آنی چا ہئے۔ اگر اسے اپنے ملک واپس لانے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی تو آئندہ ا یک ایسی مثال بن جائے گی جس کی رو سے دوسری نوادر اشیاء جو ہندوستان سے باہر چلی گئی ہیں اور جسے ہندوستانی واپس اپنے ملک میں لانے کے خواہش مند ہیں، اس کے لئے بھی مشکلیں پیدا ہوجا ئیں گی ۔ اس لئے حکومت کو اس سلسلہ میں سنجیدہ کوشش ضرور کرنی چاہئے تاکہ یہ پیش قیمت اثاثہ جو ہمارے ملک کی شان اور عظمت رفتہ کی نشانی ہے ، وہ ہمارے ملک میں واپس آسکے، اس سے ہماری حکومت کی بھی ستائش ہوگی اور سپریم کورٹ کے وقار میں بھی چار چاند لگ جائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT