Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / کوہیر منڈل پریشد اجلاس میں تیسری مرتبہ متفقہ قرارداد

کوہیر منڈل پریشد اجلاس میں تیسری مرتبہ متفقہ قرارداد

مسلمانوں کو% 12 تحفظات کیلئے حکومت پر دباؤ جاری

کوہیر منڈل پریشد اجلاس میں تیسری مرتبہ متفقہ قرارداد

کوہیر۔ 10 مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ضلع میدک کے کوہیر منڈل کے سرماہی جنرل باڈی اجلاس میں شریمتی جے انیتا صدرنشین کوہیر منڈل کی زیرقیادت میں مسلمانوں کو 12% تحفظات کے حصول کیلئے مسلسل تیسری مرتبہ متفقہ طور پر قرارداد منظور کرنے کا اعزاز حاصل ہورہا ہے۔ اس موقع پر اراکین منڈل پرجا پریشد اور سرپنچوں نے کہا کہ ٹی آر ایس پارٹی حکومت قائم ہونے کے بعد ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کو ملازمت اور شعبہ تعلیم میں 12% تحفظات دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب جبکہ حکومت قائم ہوئے 20 ماہ کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے، حکومت تحفظات کے معاملے میں غیرسنجیدہ نظر آرہی ہے۔ حکومت مسلمانوں کو 12% تحفظات جاری کرنے تک جمہوری انداز میں احتجاج کرنے کا عزم کیا ہے، اس موقع پر تلگو دیشم، کانگریس، ٹی آر ایس اور ایم آئی ایم کے اراکین کے ساتھ ساتھ غیرمسلم اراکین منڈل پریشد اور سرپنچوں نے متفقہ قرارداد کی بھرپور تائید کرتے ہوئے ایک یادداشت صدرنشین کوہیر منڈل کے حوالے کی۔ اس دوران اجلاس میں مسٹر شنکر کوہیر منڈل ایجوکیشن آفیسر نے اجلاس میں بتایا کہ 2016ء کا تعلیمی سال ختم ہورہا ہے، مارچ اور اپریل میں طلبہ کیلئے امتحانات کی تیاری کی جارہی ہے جس پر محمد شیخ جاوید نائب صدرنشین کوہیر منڈل اور محمد اشرف علی کوآپشن ممبر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ کا مسلمانوں کے ساتھ ہنوز سوتیلا سلوک جاری ہے۔ کوہیر منڈل میں تقریباً 1100 طلبہ اُردو میڈیم سے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے صرف 40% طلباء کو ہی درسی کتابیں سربراہ کی گئی ہیں، مابقی 60% طلباء کتابوں سے محروم ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ محکمہ تعلیمات ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کو شعبہ تعلیم میں پسماندہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔ ایک طرف اُردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کا وعدہ کیا جارہا ہے، دوسری طرف اُردو میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جارہا ہے، جس پر ایجوکیشن آفیسر شنکر نے آئندہ تعلیمی سے اُردو میڈیم طلبہ سے انصاف کا تیقن دیا۔ اس موقع پر محمد صابر حسین آر ڈبلیو ایس انجینئر نے بتایا کہ موسم گرما کی ابتداء ہی میں پینے کے پانی کیلئے عوام شدید تکالیف کا سامنا کررہے ہیں۔ اس گاؤں میں پانی کی قلت ہو، وہاں واٹر ٹینکرس کے ذریعہ پانی سربراہ کیا جارہا ہے اور باؤلیوں اور بورویلس خشک ہونے پر دوبارہ کھدوائی کرتے ہوئے بہرحال عوام کو پانی سربراہ کرنے کا عزم کیا ہے۔ مسٹر پرساد ایم پی ٹی سی نے بتایا کہ کوہیر کے چند محلہ جات میں پانی کی شدید قلت محسوس کی جارہی ہے، جس پر صابر حسین AEG نے بتایا کہ نشاندہی کرکے مسئلہ کا حل نکالا جائے گا اور عبدالقدیر سرپنچ مینارپلی نے کہا کہ موضع میں ساتویں جماعت تک کے طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ آٹھویں جماعت کیلئے دور جانا پڑتا ہے۔ اس لئے آٹھویں جماعت کے نظم کا مطالبہ کیا۔ کوہیر تحصیلدار بی گیتا نے اجلاس کو بتایا کہ ڈبل بیڈروم اسکیم کے تحت 60 مکانات منظور ہوئے ہیں جس میں کوہیر مستقر کو 20 موضع ، دیگوال کو 20، موضع سچاپور اور چنتل گھاٹ کو 10، 10 مکانات کی منظوری عمل میں آئی ہے۔ محمد اشرف علی کوآپشن ممبر نے بتایا کہ موضع منیارپلی میں ایس سی طبقہ کو 3 ایکر اراضی خریدکر دینے میں خردبرد کا الزام عائد کرتے ہوئے تحفظات کا مطالبہ کیا ہے۔ سرکاری زمین کو کسی طرح پٹہ کی اراضی میں تبدیل کیا گیا ہے۔ جامع تحفظات کا مطالبہ کیا جس تحصیلدار کوہیر نے بتایا کہ جامع تحقیقات کا آغاز ہوچکا۔ تفصیلات بہت جلد عوام کے سامنے ہوں گی۔ اس موقع پر شیخ جاوید نائب صدرنشین کوہیر، انجیا ناگی ریڈی پلی سرپنچ، ملک ارجن سرپنچ کے علاوہ سرکاری عہدیداروں سے دیگر اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT