Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ’’کوہ نور ‘‘ایسٹ انڈیا کمپنی کو دیا گیا

’’کوہ نور ‘‘ایسٹ انڈیا کمپنی کو دیا گیا

ملک واپس لانے کے تعلق سے حکومت کا موقف ، سپریم کورٹ کا محتاط رویہ
نئی دہلی ۔ 18 اپریل ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) دنیا کا سب سے قیمتی اور منفرد 108 قیراط کا ہیرا کوہ نور کا سرقہ کیا گیا اور نہ برطانوی حکمراں اسے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے بلکہ سابقہ پنجاب کے حکمرانوں نے 167 سال پہلے اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کو دیا تھا ۔ حکومت نے آج سپریم کورٹ میں اپنا یہ موقف پیش کیا ہے جبکہ وہ اسے واپس لانے کیلئے تمام قانونی راستے کھلے رکھنے کی خواہاں ہے ۔ سالیسٹر جنرل رنجیت کمار نے چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی زیرقیادت بنچ کو بتایا کہ کوہ نور ہیرہ کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسے زبردستی لے جایا گیا یا پھر اس کاسرقہ کیا گیا تھا کیونکہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے جانشینوں نے 1849 ء میں اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کو سکھ جنگوں میں اُن کی مدد کے معاوضہ کے طورپر دیا تھا۔ وزیر ثقافت مہیش شرما نے کوہ نور واپس لانے کیلئے اُن کی وزارت کی جانب سے کسی کارروائی کا امکان مسترد کردیا ۔ انھوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس ضمن میں کوئی اقدامات کئے جاسکتے ہیں تو وہ صرف سفارتی سطح پر ہی ممکن ہیں۔ سپریم کورٹ نے حکومت سے یہ جاننا چاہا کہ کیا وہ کورہ نور پر اپنا دعویٰ پیش کرنا چاہتی ہے جو اس وقت دنیا کا سب سے مہنگا ہیرا ہے اور اس کی قیمت 200 ملین ڈالر سے زیادہ ہے ۔ سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کوہ نور واپس لانے کا مطالبہ پارلیمنٹ میں بھی بار بار کیا جاتا رہا ہے۔ اگر ہم کوہ نور جیسے خزانہ کو دیگر ممالک سے واپس لانے کا دعویٰ کریں تو ہر ملک اپنی اشیاء پر اپنا دعویٰ کرنا شروع کردے گا ۔ ایسی صورت میں ہمارے میوزیمس میں کچھ بھی بچا نہیں رہے گا ۔انھوں نے کہاکہ یہ وزارت ثقافت کا موقف ہے اور اس معاملے میں وزارت اُمور خارجہ کے جواب کا انتظار ہے کیونکہ وہ بھی ایک فریق ہے ۔ کوہ نور ہیرے کو برطانیہ سے ہندوستان واپس لانے کی خواہش کرتے ہوئے دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کے دوران بنچ نے یہ جاننا چاہا کہ کیا حکومت اپنا دعویٰ پیش کرنا چاہتی ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ عدالت نے یہ واضح بھی کیا کہ وہ اس درخواست کو فوری طورپر مسترد کرنا نہیں چاہتی ۔ اگر وہ ایسا کرے گی تو برطانیہ یہ کہہ سکتا ہے کہ خود آپ کی سپریم کورٹ نے اس درخواست کو مسترد کردیا ہے چنانچہ حکومت اپنے قانونی دعوے کے حق سے محروم ہوجائے گی ۔ بنچ نے یہ احساس ظاہر کیا کہ مفاد عامہ کی اس درخواست کو مسترد کرنے کی حکومت متحمل نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ آئندہ ایک رکاوٹ بن جائے گی ۔ چنانچہ عدالت نے حکومت کو جواب دینے کیلئے چھ ہفتوں کا وقت دیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT