Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / کویتا کی پہل ، نظام شوگر فیکٹری کی دوبارہ کشادگی کا امکان

کویتا کی پہل ، نظام شوگر فیکٹری کی دوبارہ کشادگی کا امکان

حیدرآباد ۔ 10 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : نظام شوگر فیکٹری کی دوبارہ کشادگی کی امید جاگی ہے ۔ فیکٹری کے ورکرز کو نظام آباد کی رکن پارلیمنٹ کے کویتا نے حوصلہ دیا ہے اور ورکرز امید کرتے ہیں کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی دختر اس مسئلہ کو ریاستی حکومت سے رجوع کریں گی اور فیکٹری کی کشادگی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ کے کویتا نے حالیہ بیانات میں کہا کہ ریاستی حکومت نظام شوگر فیکٹری کی تنظیم جدید کرے گی اور اسے کوآپریٹیو سوسائٹی کے تحت چلایا جائے گا اس موضوع پر مباحث ہورہے ہیں اور نیشکر پیدا کنندوں کو ترغیب دی جارہی ہے کہ وہ اس تجویز سے اتفاق کریں ۔ کویتا نے گنے کے کاشتکاروں کو حیدرآباد مدعو کیا اور ان کے مسائل پر بات چیت کی ۔ اگر اس ماہ نیشکر کی کاشت شروع کی جائے تو اگلے سیزن تک فصل تیار ہوگی اور فیکٹری میں مشنری تیار رہے گی ۔ نظام شوگر فیکٹری کا قیام بودھن میں سال 1938 میں عمل میں آیا ۔ قیام کے بعد سے اس فیکٹری نے کئی نشیب و فراز دیکھے ۔ حال میں اپوزیشن پارٹیوں بشمول کانگریس بی جے پی ، سی پی آئی ، سی پی ایم اور تلگو دیشم نے فیکٹری کی کشادگی کا مطالبہ کرتے ہوئے بند منایا اور احتجاجی جلسے منعقد کئے ۔ تلنگانہ جے اے سی کے صدر پروفیسر ایم کودنڈا رام فیکٹری کی دوبارہ کشادگی کے لیے بودھن تا نظام آباد پدیاترا کا فیصلہ کیا ۔ ٹی آر ایس نے 2014 کے انتخابات میں وعدہ کیا تھا کہ برسر اقتدار آنے کے ایک سو دن کے اندر فیکٹری کی دوبارہ کشادگی ہوگی لیکن ہنوز ایسا نہیں ہوا ہے ۔ اب کویتا کی شخصی دلچسپی کی وجہ سے اس بات کے امکانات روشن ہوئے ہیں کہ فیکٹری کی جلد دوبارہ کشادگی عمل میں آئے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT