Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / کویتا کے بیان پر ماؤنوازوں کی شدید برہمی

کویتا کے بیان پر ماؤنوازوں کی شدید برہمی

اصل دھارے میں شمولیت کا مشورہ مسترد ، ٹی آر ایس حکومت پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام
حیدرآباد /21 اگست ( سیاست نیوز ) حکومت تلنگانہ کی پالیسیوں پر سخت ناراض ماوسٹ قیادت نے حکومت پر عوام کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا ہے ۔ رکن پارلیمنٹ نظام آباد و چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی دختر کویتا کے بیان پر برہم ماویسٹوں نے کہا کہ عوام دوست اور عوام مخالف پالیسی کبھی ایک نہیں ہوسکتے ۔ ماوسٹ کے ایک قائد نہ بتایا کہ بنگارو تلنگانہ کے نام پر تلنگانہ تشکیل دینے کی تیاری جاری ہے ۔ تاہم مخالف عوام پالیسیوں کے خلاف سابقہ تحریکوں کو دہرایا جائے گا اور ماوسٹ کسی بھی صورت میں تلنگانہ کو برباد ہونے نہیں دیں گے جبکہ موجودہ حکومت اس جانب اقدامات کر رہی ہے ۔ ماوسٹوں کی جانب سے فراہم کی گئی خفیہ اطلاع میں سخت ناراضگی اور برہمی کا اظہار کیا گیا اور کویتا کی جانب سے ماوسٹ تحریک اور ایجنڈہ کو حکومت کے ایجنڈہ سے تعبیر کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا ۔ ماوسٹوں کے خفیہ قاصد نے کہا کہ تلنگانہ کی تہذیب کو سر پر اٹھاتے ہوئے اور قبائیلی خواتین کے ساتھ ثقافتی رقص کرنا ان کی بہبود کے اقدامات نہیں ہیں ۔ انہوں نے رکن پارلیمنٹ کویتا سے سوال کیا کہ آیا اگر وہ اس بات کا دعوی کرتی ہے کہ ماوسٹوں کا ایجنڈہ اور تلنگانہ راشٹرا سمیتی کا ایجنڈہ ایک ہی ہے اور صرف جھنڈوں کا رنگ الگ ہے تو پھر انہیں چاہئے کہ وہ اراضی کو بے گھر اور بے زمین افراد میں تقسیم کریں ۔ نظام دور حکومت کی دہائی دینے والے چیف منسٹر کو حق نہیں بنتا کہ وہ معیاری صحت کے نام پر عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی عمارت کو منہدم کردے ۔ انہوں نے چیف منسٹر کے کے جی سے پی جی تک مفت تعلیم کے نعرہ کو بھی سازشوں کا پلندہ قرار دیا ۔ ماوسٹوں کے مطابق تلنگانہ کے چیف منسٹر کارپوریٹ ہاسپٹلس کو ترقی دینے اور انہیں مواقع فراہم کرنے کیلئے سرکاری نظام صحت اور سرکاری ہاسپٹلس کو تباہ کرنا چاہتے ہیں اور کے جی سے پی جی مفت تعلیم کا نعرہ ایک طرف بلند کر رہے ہیں اور دوسری طرف کئی سرکاری اسکولس بالخصوص اردو میڈیم مدارس بند کردئے جارہے ہیں ۔ ماسٹوں کے ایجنڈہ پر عمل آوری کا نعرہ دینے والی خاتون قائد کویتا سے ماوسٹوں نے سوال کیا کہ ماوسٹ صنعتی پالیسی اور شراب کی پالیسی کے خلاف کیا ان پالیسیوں سے حکومت دسبردار ہوجائے گی ۔ اپنے پیغام میں ماوسٹ کہ خفیہ قائد نے کہا کہ پبلک سیکٹر کو تباہ کرتے ہوئے خانگیانہ کی پالیسی پر کے چندر شیکھر راؤ عمل پیرا ہیں اور ریاست تلنگانہ میں اپنی مرضی چلانے کا چیف منسٹر پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف کسی بھی قسم کی آواز کو وہ برداشت نہیں کرنا چاہتے اور یہاں تک صحافت کی آواز کو بھی دبانے کی سازش کی جارہی ہے تاکہ ان کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھے اور نہ ہی ان کی عوام مخالف پالیسیوں کی عمل آوری میں کوئی رکاوٹ بنے۔ انہوں نے رکن پارلیمنٹ نظام آباد محترمہ کویتا کو چیالنج کیا اور کہا کہ اگر وہ واقعی ماوسٹ ایجنڈہ پر عمل کرنے والی حکومت کا حصہ ہیں تو پھر عمل آوری کو یقینی بنائیں۔
یا پھر حکومت پارٹی اور سیاسی سرگرمیوں سے دستبردار ہوجائیں ۔ انہیں کوئی حق نہیں بنتا کہ ماوسٹوں کے خلاف غلط پروپگنڈہ کرتے ہوئے عوام کو گمراہ کریں اور نہ ہی ماوسٹوں سے اپیل کریں کہ وہ سماجی دھارے میں شامل ہوجائیں ۔ جس سنہرے تلنگانہ کا خواب عوام کو دیکھایا گیا اس پر عمل آوری کی جانی چاہئے اور ہر ایک کہ ساتھ انصاف کو یقینی بنایا جائے ۔ ماوسٹ تحریک اور ایجنڈہ عوام کے حق میں ہے اور عوام کے ہی حق میں رہے گا اور اس ایجنڈہ کے خلاف اقدامات کرنے والوں کے خلاف ماسٹوں کی تحریک جاری رہے گی ۔

TOPPOPULARRECENT