Sunday , September 24 2017
Home / ہندوستان / کُل جماعتی اجلاس میں اتراکھنڈ پرمباحث

کُل جماعتی اجلاس میں اتراکھنڈ پرمباحث

حکومت اور اپوزیشن کا متضاد اوراٹل موقف ‘ عدالت میں زیرالتواء رہنے کا سرکاری ادعا
نئی دہلی ۔24اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) اتراکھنڈ میں صدر راج کا نفاذ آج اسپیکر لوک سبھا کی منعقدہ کُل جماعتی اجلاس کا مرکزی موضوع رہا ‘ جب کہ حکومت اور اپوزیشن نے اس سلسلہ میں اپنا متضاد موقف ظاہر کیا اور اس پراٹل رہے ۔ حکومت کا ادعا تھا کہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرالتواء ہے اور اس کے فیصلہ تک کوئی بھی کارروائی نہیں کی جاسکتی جب کہ اہم اپوزیشن کانگریس کا موقف یہ تھا کہ ریاست سے ہائیکورٹ کے احکام کے مطابق صدر راج برخواست کردیا جائے ۔ چیف منسٹر ہریش راؤت کی حکومت کو برطرف کردینے کے متنازعہ اقدام اور صدر راج کے نفاذ کو اتراکھنڈ ہائیکورٹ نے مسترد کرتے ہوئے چیف منسٹر کو دوبارہ خطہ اعتماد حاصل کرنے کی ہدایت کی تھی ۔ اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے اس تنازعہ کی یکسوئی کیلئے لوک سبھا کے آئندہ اجلاس سے قبل ایک کُل جماعتی اجلاس طلب کیا تھا ۔ لوک سبھا میں کانگریس پارلیمانی پارٹی کے قائد ملکارجن کھرگے نے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ تحریک التواء پیش کرتے ہوئے اس مسئلہ پر دستور کی دفعہ 56کے تحت مباحث کا مطالبہ کریں گے ۔ تاہم وزیر مملکت برائے پارلیمانی اُمور راجیوپرتاپ روڈی نے ادعا کیا کہ اُن کے علم اطلاع کے بموجب معاملہ عدالت میں زیرالتواء ہے اور اس کا فیصلہ ہنوز نہیں ہوا اس لئے اس مسئلہ پر مباحث کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تاہم فیصلہ کرنا اسپیکر کا کام ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسپیکر سمترامہاجن بھی حکومت کے نقطہ نظر سے متفق ہے ۔ عدالت نے 27اپریل تک ہائیکورٹ کے فیصلہ پر حکم التواء جاری کیا ہے اور ان کے خیال میں 27اپریل تک ’’ مباحث نہیں ہوسکتے ‘‘ سمترا مہاجن نے اتراکھنڈ کے مسئلہ پر مباحث کی اجازت دینے کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے یہ تبصرہ کیا ۔ تاہم کھرگے کا اصرار تھا کہ اس مسئلہ پر مباحث بہت اہم ہے اور کئی اپوزیشن ارکان مباحث کا انعقاد چاہتے ہیں ۔ کھرگے نے کہا کہ اس مسئلہ پرمباحث کئی اپوزیشن ارکان کی خواہش ہے ۔

TOPPOPULARRECENT