Thursday , June 29 2017
Home / شہر کی خبریں / کچرا نکاسی کے گاڑیوں کی ابتر صورتحال ، کئی گاڑیاں نمبر پلیٹ سے قاصر

کچرا نکاسی کے گاڑیوں کی ابتر صورتحال ، کئی گاڑیاں نمبر پلیٹ سے قاصر

دوران منتقلی تعفن سے راہگیروں کو پریشانی ، حالت نشہ میں ڈرائیونگ سے حادثات کا امکان
حیدرآباد۔20مارچ(سیاست نیوز) شہر میں کچہرے کی نکاسی کے لئے استعمال کئے جانے والے آٹوز کے علاوہ بڑی گاڑیوں کی ابتر حالت شہریوں کے لئے تکلیف کا سبب بننے لگی ہے۔ دونوں شہروں میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے کچہرے کی نکاسی کیلئے کئے جانے والے اقدامات کے طور پر جو آٹو ٹرالی تقسیم کئے گئے ہیں ان آٹو ٹرالی میں بھی ضرورت سے زیادہ کچہرا جمع کرتے ہوئے کچہرے کی منتقلی راہگیروں کے لئے مشکل کا سبب بننے لگی ہے اور یہی حالت شہر میں کچہرے کے کنڈیوں کو منتقل کرنے والی گاڑیوں کی ہے اور ان گاڑیو ںکی حالت کی ابتری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان گاڑیوں میں 50فیصد ایسی گاڑیاں ہیں جنہیں نمبر پلیٹ تک موجود نہیں ہیں اور پرانے شہر سے کچہرا منتقل کرنے والی بعض گاڑیاں تو ایسی ہیں جنہیں دروازے تک نہیں ہیں ۔رات کے اوقات میں ان گاڑیوں سے حادثہ ہونے کے قوی خدشات ہوتے ہیں کیونکہ کچہرے کی منتقلی کرنے والا بیشتر عملہ بشمول ڈرائیور حالت نشہ میں گاڑی چلاتا ہے جو کہ راہگیروں کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔اسی طرح مصروف ترین اوقات میں کچہرے کی منتقلی کے سبب سڑک کی صورتحال انتہائی ابتر ہوجاتی ہے کیونکہ کھلے کچہرے کی منتقلی کے سبب سڑک پر نہ صرف تعفن پھیلنے لگتا ہے بلکہ سڑک سے گذرنے والوں پر بھی کچہرا اڑنے لگتا ہے ۔ریاستی حکومت اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو چاہئے کہ فوری طور پر کچہرے کی بڑی کنڈیوں کو منتقل کرنے کی گاڑیوں کی تبدیلی کے اقدامات کرے اور جن آٹو ٹرالی میں کچہرا منتقل کیا جا رہا ہے انہیں بند کیا جائے تاکہ سڑکو ں پر بدبو و تعفن نہ رہے اور راہگیر بھی محفوظ رہ سکیں۔پرانے شہر ہی نہیں بلکہ شہر کے دیگر علاقوں مہدی پٹنم‘ ٹولی چوکی‘ ملک پیٹ‘ مانصاحب ٹینک‘ جوبلی ہلز ‘ بنجارہ ہلز کے علاوہ کئی علاقوں سے اس بات کی شکایات وصول ہورہی ہیں اور حکومت کے ساتھ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ کو بھی اس بات کا اعتراف ہے لیکن اس مسئلہ کے حل کے لئے اقدامات ناگزیر ہیں کیونکہ حکومت شہر حیدرآباد کو سیاحتیمرکز کے طور پر فروغ دینے کیلئے کوشاں ہے اور ایسے میں کھلے عام مصروف اوقات کے دوران کچہرے کی منتقلی کا عمل راہگیروں اور سیاحوں پر شہر کا منفی اثر ڈالنے کے لئے کافی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT