Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / کچرے کی نکاسی کیلئے رکشاؤں کو برخاست کرنے کی مذمت

کچرے کی نکاسی کیلئے رکشاؤں کو برخاست کرنے کی مذمت

آٹو رکشاؤں کی سربراہی کے لیے حکومت کے فیصلہ پر سبیتا اندرا ریڈی کا احتجاج
حیدرآباد ۔ 8 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : سابق وزیر داخلہ شریمتی پی سبیتا اندرا ریڈی کی زیر قیادت کانگریس قائدین پر مشتمل ایک وفد نے آج کمشنر جی ایچ ایم سی سے ملاقات کرتے ہوئے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن اور حکومت تلنگانہ کی جانب سے جی ایچ ایم سی حدود میں کچرے کی نکاسی کے لیے استعمال کئے جانے والے رکشاؤں کو برخاست کرتے ہوئے آٹو رکشاؤں کی سربراہی سے متعلق کئے گئے فیصلہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس سلسلہ میں کمشنر جی ایچ ایم سی کو ایک یادداشت حوالے کی ہے ۔ یادداشت میں حکومت تلنگانہ پر الزام عائد کیا گیا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے عجلت میں کئے جانے والے غلط فیصلوں اور انتخابات کے موقع پر جی ایچ ایم سی کے صفائی ورکرس کو دئیے گئیے تیقنات پر عدم عمل آوری کے نتیجہ میں جی ایچ ایم سی ورکرس کئی مسائل سے دوچار ہیں ۔ یادداشت میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حدود میں صفائی کے لیے استعمال کئے جانے جانے والے رکشاؤں کو برخاست کرتے ہوئے آٹو رکشاؤں کی فراہمی کے فیصلہ سے دستبرداری اختیار کرے یا تو کچرے کی نکاسی کے رکشا مزدوروں کو ہی آٹو رکشائیں فراہم کرتے ہوئے انہیں آٹو چلانے کی تربیت دے کر لائسنس فراہم کرے تاکہ جی ایچ ایم سی کے حدود میں خدمات انجام دینے والے 35 تا 40 ہزار کچرے کی صفائی کے رکشا مزدوروں کو روزگار سے محروم ہونے سے بچایا جاسکے ۔ یادداشت میں حکومت پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے جی ایچ ایم سی کے صفائی وکرس کی تنخواہوں میں اضافہ سے متعلق دئیے گئے تیقنات کے باوجود صفائی ورکرس کی ہڑتال کے اختتام کے بعد تمام ورکرس کے ساتھ انصاف نہیں کرپائے بلکہ وہ اب کچرے کی نکاسی کرنے والے رکشا مزدوروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں جو ایک انتہائی معیوب مخالف مزدور امر ہے اور کہا گیا کہ حکومت اور جی ایچ ایم سی کی جانب سے کچرے کی نکاسی کے لیے استعمال کئے جانے والے رکشاؤں کی برخاستگی اور آٹو رکشاؤں کی سربراہی کے فیصلہ کے نتیجہ میں جی ایچ ایم سی کے حدود میں خدمات انجام دینے والے 35 تا 40 ہزار کچرے کی نکاسی کے رکشا مزدور روزگار سے محروم ہوجانے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے ۔ جب کہ مذکورہ رکشا مزدور ایک عرصہ دراز سے اپنے قدیم اور پرانے رکشاؤں کے ذریعہ ہی اپنا روزگار حاصل کر کے گذارا کررہے ہیں جب کہ رکشا مزدوروں کی اکثریت غیر تعلیم یافتہ ہے جو دیگر کام کرنے کے لائق نہیں ہیں اسی لیے حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مذکورہ رکشا مزدوروں سے انصاف کرے تاکہ رکشا مزدوروں اور ان کے افراد خاندانوں کو پیش آنے والے معاشی مسائل سے محفوظ رکھا جاسکے ۔ کانگریس قائدین کے وفد میں سابق وزیر مسٹر پراساد کمار صدر کانگریس کمیٹی ضلع رنگاریڈی مسٹر کے ملیش ، سابق رکن اسمبلی مسٹر سدھیر ریڈی ، مسٹر ایم سریدھر ، مسٹر بی لکشما ریڈی ، مسٹر بھکشا پتی یادو ، مسٹر پی کارتیک ریڈی کے علاوہ دیگر سینئیر کانگریس قائدین بھی شامل تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT