Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

کرپشن… شکاری خود اپنے جال میں
نجیب جنگ… کیا واقعی جنگ ہار گئے ؟

رشیدالدین
کالے دھن سے ملک کو پاک کرنے کا دعویٰ کرنے والے وزیراعظم نریندر مودی خود اپنے جال میں پھنستے دکھائی دے رہے ہیں ۔ نوٹ بندی کے ذریعہ کالا دھن رکھنے والوں کو بے نقاب کرنے کے نام پر محنت کی کمائی رکھنے والوںکو سڑکوں پر کھڑا کردیا گیا لیکن اب وہی عوام نریندر مودی کے کرپشن کے انکشافات سے حیرت میں ہیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ شکاری خود اپنے جال میں پھنس چکا ہے۔ دن رات ملک کو ایمانداری اور دیانتداری کا درس دینے والے آج خود پر لگے کرپشن کے الزامات کی وضاحت کے موقف میں نہیں ہیں۔ انتخابات سے قبل یو پی اے خود حکومت کے اسکامس کو ووٹ میں تبدیل کرنے والے آج خاموش کیوں ہیں؟ ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ کرپشن کے مسئلہ پر حکومتوں کا زوال ہوا۔ عوام سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن کرپشن وہ بھی وزیراعظم کی سطح پر ، کس طرح قبول کریں گے۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے جارحانہ تیور اپناتے ہوئے وزیراعظم پر کرپشن میں ملوث ہونے کا الزام عائد کردیا۔ نوٹ بندی کے مسئلہ پر جب پارلیمنٹ میں کارروائی تعطل کا شکار تھی ، راہول گاندھی نے وزیراعظم کے شخصی کرپشن کو پارلیمنٹ میں بے نقاب کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن جب پارلیمنٹ میں موقع نہیں ملا تو انہوں نے اس انکشاف کیلئے وزیراعظم کی ریاست گجرات کا انتخاب کیا۔ انکم ٹیکس دستاویزات کا حوالہ سے یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ نریندر مودی نے سہارا اور برلا کمپنیوں سے کروڑہا روپئے حاصل کئے ہیں۔ یہ رقومات گجرات اور پھر لوک سبھا کی انتخابی مہم کے دوران حاصل کی گئیں۔ راہول گاندھی کے الزامات سے بی جے پی پر جیسے سکتہ طاری ہوگیا۔ ہر چھوٹی بات پر اپوزیشن کو نشانہ بنانے میڈیا کی زینت بننے والے قائدین بھی گوشہ نشینی میں عافیت محسوس کر رہے ہیں۔ الزامات اس قدر سنگین اور ثبوت کے ساتھ ہیں کہ بی جے پی کے سرکاری ترجمانوں کو آگے کردیا گیا۔ کہاں ہیں وینکیا نائیڈو ، روی شنکر پرشاد ، مختار عباس نقوی جنہیں تو ہمیشہ میڈیا کی جیسے تلاش رہتی ہے، تاکہ اپوزیشن کا مذاق اڑایا جائے لیکن اب یہ میڈیا سے دور ہیں۔ کیوں زباں بہ لب ہیں مودی کے وزیر باتدبیر امیت شاہ جنہیں پارٹی کی صدارت تحفہ میں دی گئی۔ الزامات کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے خود مودی کو اپنی صفائی کیلئے آگے آنا پڑا ۔ انہوں نے الزامات کی تردید کے بجائے راہول گاندھی کا مذاق اڑایا اور ڈائیلاگ ڈیلیوری کے ذریعہ عوام کی توجہ اصل مسئلہ سے ہٹانے کی کوشش کی۔ اگر الزامات میں سچائی نہ ہو تو پھر تحقیقات کا سامنا کرنے سے گھبراہٹ کیوں ہے۔ مودی الزامات کا راست جواب دیں۔ یہ انتخابات نہیں کہ ڈائیلاگ بازی کریں، ملک الزامات کی حقیقت جاننا چاہتا ہے ۔ برسر خدمت جج کے ذریعہ تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر اپنی ایمانداری کا ثبوت دینا ہوگا۔ راہول کے الزامات کی سچائی کے بارے میں عوام کے ذہنوں میں اس لئے بھی شبہات پیدا ہورہے ہیں کہ سہارا گروپ کے سربراہ کو مسلسل پیرول پر رہائی مل رہی ہے۔ حکومت کو ان سے ہمدردی کیوں ؟ راہول نے گجرات میں مودی کے کرپشن کا انکشاف کرتے ہوئے جرات مندی کا مظاہرہ کیا اور عوام کا ردعمل بھی مخالف مودی دیکھا گیا۔ جس کسی نے بھی حکمرانوں کے کرپشن کو بے نقاب کیا، عوام نے اسے سر آنکھوں پر بٹھایا۔ دہلی میں اروند کجریوال کی مثال موجود ہے، جنہوں نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی اور عوام نے دو تہائی سے زیادہ اکثریت اسمبلی میں عطا کی ۔ راہول گاندھی کو اس بات کی وضاحت کرنی ہوگی کہ پارلیمنٹ میں وہ جن باتوں کا انکشاف کرنا چاہتے تھے ، وہ کیا تھیں۔ کیا سہارا اور برلا گروپ سے معاملت سے ہٹ کر بھی مزید کچھ انکشافات باقی ہیں؟ نریندر مودی نوٹ بندی کے مسئلہ پر اپنے بیانات سے مسلسل عوام کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ پہلے انہوں نے قطاروں میں کھڑے افراد کو کالا دھن رکھنے والے قرار دیا تھا اور یہاں تک کہہ دیا کہ جب صفائی کی جاتی ہے تو گندگی کی بو آتی ہے ۔ وہ ان غریب اور متوسط طبقات کو گندگی قرار دے رہے ہیں جو اپنی محنت کی کمائی کیلئے اذیتیں برداشت کر رہے ہیں۔ مودی کا یہ دعویٰ کہ عوام ان کے ساتھ ہیں، مضحکہ خیز ہے۔ کیا نوٹ بندی پر کوئی ریفرنڈم کرایا گیا تھا ؟ 1975 ء میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد اندرا گاندھی بھی اسی غلط فہمی کا شکار تھیں لیکن 1977 ء کے انتخابات میں عوام نے اقتدار سے بیدخل کردیا۔ نوٹ بندی اور کرپشن کے مسئلہ پر بی جے پی کو یو پی اور پنجاب میں عوامی ناراضگی کا سامنا یقینی ہے۔ اپوزیشن نے جب کبھی حکومت کے کرپشن کو بے نقاب کیا، اقتدار تبدیل ہوگئے ۔ انتخابات سے قبل مودی یو پی اے حکومت کے خلاف جس لہجہ میں بات کرتے رہیں ، آج راہول گاندھی اسی تیور میں دکھائی دے رہے ہیں۔جواہر لال نہرو کے خلاف رام منوہر لوہیا نے عوامی رقومات کے استعمال بیجا کی مہم چلائی تھی۔ اندرا گاندھی کے خلاف جئے پرکاش نارائن میدان میں آئے جبکہ راجیو گاندھی کے بوفورس معاملہ کو وی پی سنگھ نے بے نقاب کیا تھا۔ اندرا اور راجیو کو اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ جہاں تک نریندر مودی کی جانب سے سہارا اور برلا گروپ سے رقومات حاصل کرنے کا معاملہ ہے ، نامور قانون داں پرشانت بھوشن نے نومبر میں سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے اور 11 جنوری کو اس مقدمہ کی اہم سماعت مقرر ہے۔ کہا یہ جارہا ہے کہ سپریم کورٹ اس معاملہ میں کچھ نہ کچھ فیصلہ ضرور دے گا ۔ پرشانت بھوشن کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ثبوت عدالت کے حوالے کردیئے ہیں۔ 11 جنوری مودی کے سیاسی مستقبل میں اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے ۔ کرپشن کے مسئلہ پر حکومت اور بی جے پی میں جس طرح کا سناٹا ہے ، اس سے شبہ کیا جارہا ہے کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ دال میں ضرور کچھ کالا ہے یا پھر پوری دال ہی کالی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس معاملہ سے بی جے پی کے بعض اہم قائدین بھی واقف ہوں۔

کے بعد صورتحال بہتر بنانے کیا اقدامات کئے جاسکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق نوٹ بندی کے فیصلہ کو وزیراعظم اور ان کے چند قریبی افراد کے حد تک جس طرح راز میں رکھا گیا ، اس سے ریزرو بینک آف انڈیا کو متبادل انتظامات میں دشواری ہوئی۔ ریزرو بینک اور اس کے گورنر کو نوٹ بندی کے فیصلہ کے بارے میں تاریکی میں رکھے جانے کی اطلاعات عام ہیں۔ مودی نے 50 دن میں صورتحال بہتر نہ ہونے کی صورت میں سزا بھگتنے کا اعلان کیا تھا۔ اب جبکہ 50 دن قریب الختم ہے اور صورتحال جوں کی توں برقرار ہے تو پھر مودی کیلئے سزا کا تعین کون کرے گا۔ لوگ آج بھی قطاروں میں مر رہے ہیں لیکن مودی کا دل ہے کہ نرم ہونے کا نام نہیں لیتا ۔ ہر مسئلہ پر ٹوئیٹ کرنے والے نریندر مودی نے تقریباً 150 افراد کی قطاروں میں موت پر ہمدردی کا ایک لفظ بھی ٹوئیٹر پر نہیں لکھا۔ کیا یہی عوام سے ہمدردی ہے جس کا نریندر مودی بارہا دعویٰ کرتے رہے ہیں۔ حکومت کے دباؤ کے تحت ریزرو بینک آف انڈیا روزانہ نت نئے فیصلے کر رہا ہے لیکن کئی فیصلے چند گھنٹوں میں ہی واپس کئے جارہے ہیں۔ نریندر مودی نے کالا دھن تو بیرون ملک سے لانے کا اعلان کیا تھا لیکن اب عوام کی محنت کی کمائی کو کالے دھن سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ سرکاری ایجنسیوں کے دھاؤں میں ملک کے مختلف حصوں میں جو کالا دھن پکڑا گیا ، ان میں زیادہ تر بی جے پی اور حکومت سے قربت رکھنے والے افراد کا ہے۔ نوٹ بندی سے عین قبل کئی ریاستوں میں بی جے پی کے اکاؤنٹس میں بھاری رقومات جمع ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ اس فیصلہ کے ذریعہ دولتمندوں کو طرح طرح کی راحتیں دی گئیں لیکن غریبوں کو سڑکوں پر کھڑا کردیا گیا۔ اگر نوٹ بندی کا فیصلہ ملک اور عوام کے مفاد میں ہے تو پھر 50 دن کی تکمیل کے بعد مودی کو مزید مہلت کے بجائے قوم سے معذرت خواہی کرنی چاہئے ۔ نوٹ بندی کا معاملہ اترپردیش کی سیاست میں بھی اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ اکھلیش یادو نے بی جے پی کو اقتدار سے روکنے کیلئے منصوبہ بندی کا آغاز کردیا ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر نوٹ بندی کے منفی اثرات اسی طرح برقرار رہیں تو اکھلیش یادو مقررہ مدت سے قبل اسمبلی کی تحلیل کا قدم اٹھا سکتے ہیں۔ دوسری طرف دارالحکومت دہلی کے لیفٹننٹ گورنر نجیب جنگ آخر کار کجریوال سے ایڈمنسٹریشن پر بالادستی کی جنگ ہار گئے۔ نجیب جنگ نے اچانک استعفیٰ پیش کرتے ہوئے دوبارہ تعلیمی سرگرمیوں سے وابستہ ہونے کا اعلان کردیا۔ اروند کجریوال اور ان کی حکومت کو ہراساں کرنے کیلئے مرکز نے نجیب جنگ کو آلہ کار کے طور پر استعمال کیا تھا۔ کجریوال کی ایسی حکومت ہے جس کو بھاری اکثریت حاصل ہے لیکن مرکز کے اشارہ پر نجیب جنگ نے وہ سب کچھ کیا جس سے مودی اور ان کے ہم نواؤں کی خوشنودی حاصل ہوسکے لیکن آخر کار انہیں اس کا صلہ کچھ اس طرح ملا کہ وزیراعظم نے استعفیٰ سے ایک دن قبل ملاقات کیلئے وقت تک نہیں دیا۔ نجیب جنگ کے ذریعہ کجریوال حکومت کیلئے قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں لیکن آخر کار اس جنگ میں نجیب جنگ کی ہار ہوئی۔ ایسے وقت جبکہ لیفٹننٹ گورنر کے اختیارات پر سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ آئندہ ماہ متوقع ہے ، مرکز نے اپنا دامن جھاڑلیا ہے۔ دہلی میں خدمت کے عوض نجیب جنگ کو کوئی متبادل اہم عہدہ ملے یا نہ ملے لیکن یہ بات طئے ہے کہ جس طرح ایک مسلمان کو سنیاریٹی کے باوجود فوج کا سربراہ مقرر نہیں کیا گیا، اسی طرح ایک اہم لیفٹننٹ گورنر کو عہدہ چھوڑنے پر مجبور کردیا گیا۔ مودی پر کرپشن کے الزامات پر مرزا غالب کا یہ شعر یاد آگیا  ؎
بے خودی بے سبب نہیں ہے غالب
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

TOPPOPULARRECENT