Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / کچھ شاہد آفریدی کی حمایت میں

کچھ شاہد آفریدی کی حمایت میں

میرا کالم            سید امتیاز الدین
کرکٹ کے شائقین خوب جانتے ہیں کہ آج کل پاکستان کی کرکٹ ٹیم ٹی 20 ورلڈ کرکٹ میچ کھیلنے کے لئے ہندوستان آئی ہوئی ہے ۔ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی ہیں جن کا شاید یہ آخری میچ ہوگا ۔ شاہد آفریدی نے کولکاتا کی سرزمین پر اترتے ہی ایک چھکا مارا جو ان کے حق میں نہایت خطرناک ثابت ہوا ۔ شاہد آفریدی نے کولکاتا کی ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ میں نے کہیں بھی کرکٹ کھیلتے ہوئے اتنا لطف نہیں محسوس کیا جتنا لطف ہندوستان میں کھیلنے میں آتا ہے ۔ میں اپنے کرکٹ کیریئر کی آخری منزل میں ہوں اور میں کہہ سکتا ہوں کہ جو محبت مجھے ہندوستان میں ملی اسے میں ہمیشہ یاد رکھوں گا ۔ ایسی محبت تو ہم کو پاکستان میں بھی نہیں ملی ۔ یہ جملے وفورِ جذبات میں کہے گئے تھے جسے ایک مہمان کی میزبان کے خلوص کی پذیرائی کی نظر سے دیکھنا چاہئے تھا ، لیکن لاہور کے ایک سینئر وکیل صاحب جن کا اسم گرامی اظہر صادق ہے نہایت برافروختہ ہوئے اور شاہد آفریدی کو ایک قانونی نوٹس جاری کردی ۔ اظہر صادق نے کہا کہ انھوں نے شاہد آفریدی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے کارگزار صدر نجم سیٹھی کو پاکستان سے زیادہ ہندوستان سے محبت کے بارے میں قانونی نوٹس جاری کردی ہے ۔ یہاں (یعنی پاکستان میں) کوئی انھیں معاف نہیں کرے گا ۔ انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر شہریار خاں کو بھی تحقیقات کرنے کے لئے کہا ہے ۔ وکیل صاحب کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان ہندوستان سے میچ ہار جاتا ہے تو اسے بھی ہندوستان سے محبت کا نتیجہ سمجھا جائے گا ۔ معلوم ہوا ہے کہ جاوید میاں داد بھی وکیل صاحب کے ہم خیال ہیں ۔

جب کوئی ملک اپنی ٹیم کسی دوسرے ملک کو بھیجتا ہے تو کوشش یہی رہتی ہے کہ ٹیم کے حوصلے بلند رہیں ۔ اگر ٹیم کے کپتان کو قانونی نوٹس جاری کی جائے اور اس کی حب الوطنی پر شک کیا جائے تو وہ یقیناً ذہنی تناؤ کا شکار ہوجائے گا ۔ ایسے میں وہ خود کیا کھیلے گا اور اپنی ٹیم کو کیا کِھلائے گا ۔ کھیل کا میدان اسے عدالت کا کٹہرا معلوم ہوگا ۔ بولر اس کی طرف گیند پھینکے تو اسے یوں لگے گا جیسے قانونی نوٹس چلی آرہی ہے ۔ پھر بھی ہمیں امید ہے کہ اگر شاہد آفریدی ، آفریدی پٹھان ہیں تو وہ ہمت سے کام لیں گے ، جس کا ثبوت انھوں نے پہلے ہی میچ میں دے دیا ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ انھیں تردیدی بیان دینا چاہئے کہ جیسی محبت ان کو اپنے وطن سے آج مل رہی ہے ، ویسی کبھی ہندوستان میں نہیں ملی ۔ اس کے برخلاف شاہد آفریدی نے آج کے اخبار میں بیان دیا ہے کہ وہ ہندوستان کی مہمان نوازی کے جواب میں ایک مثبت ردعمل ظاہر کرنا چاہتے تھے ۔ ان کی شناخت پاکستان سے ہے اور اپنے ہم وطنوں کی توہین وہ کبھی کر ہی نہیں سکتے ۔ سنا ہے کہ شاہد آفریدی کو بخار بھی آگیا اور انھوں نے مشق سخن یعنی کرکٹ پریکٹس بھی نہیں کی ۔

یہ تو ہوئی شاہد آفریدی کی بات جن کے ایک خیر سگالی کے جملے نے انھیں پریشانی میں ڈال دیا ۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ہمارا ملک ہزار درجہ غنیمت ہے ۔ ہمارے فن کار پڑوسی ملک کے ادیبوں ، شاعروں ، گلوکاروں کا دلی خیر مقدم کرتے ہیں اور کوئی اعتراض نہیں کرتا کہ آپ پاکستان کے شہریوں کی اتنی عزت کیوں کرتے ہیں ۔ اردو کے مشہور شاعر تھے جگن ناتھ آزاد ۔ جگن ناتھ آزاد کو اقبال سے والہانہ عقیدت تھی  ۔ اقبال کا سارا کلام انھیں ازبر تھا ۔ اقبال کی صحیح تاریخ پیدائش کے لئے انھوں نے باقاعدہ ریسرچ کی تھی ۔ اقبال کیا کھاتے تھے ، کیا پیتے تھے ۔ ان کے احباب کون تھے ۔ ان کی روز کی مصروفیات کیا رہتی تھیں ۔ غرض علامہ کی شاعری سے لے کر ان کے خطبات ، مضامین  ، ان کے خطوط ہر بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی چیز وہ جانتے تھے ۔ اقبال کی نظم مسجد قرطبہ انھیں اتنی پسند تھی کہ وہ مسجد قرطبہ کی زیارت کے لئے اسپین بھی گئے تھے ۔ کسی نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ حضرت کلام اقبال کی دیوانگی میں آپ کو مسجد تک جانے کی کیا ضرورت تھی ۔ جگن ناتھ آزاد کا ایک شعر ہے ۔
کیا پتہ کیا بات اس کے کفر میں پوشیدہ تھی
ایک کافر کیوں حرم والوں کو یاد آیا بہت
ہندوستان کے کسی وکیل نے انھیں قانونی نوٹس جاری نہیں کی کہ فوراً ان حرم والوں کی فہرست عدالت میں پیش کیجئے جن کو آپ کی یاد ستاتی ہے۔
پنڈت ہری چند اختر اردو کے بہت اچھے شاعر تھے ۔ جب ملک کی تقسیم ہوئی تو انھوں نے تصفیہ کیا کہ وہ لاہور ہی میں رہیں گے اور ترک وطن نہیں کریں گے ۔ جب اگست 1947 میں فسادات کے شعلے بہت زیادہ بھڑک اٹھے تو ہری چند اختر کے بعض قریبی دوست ان کو بحفاظت سرحد تک لائے اور ہندوستان روانہ کیا ۔ پنڈت ہری چند اختر شاعر آدمی تھے ۔ بے نیازی ان کی فطرت میں تھی ۔ کئی شرنارتھیوں نے لاکھوں کی جائیدادیں حاصل کرلیں ، لیکن ہری چنداختر دو گز زمین کے مالک بھی نہ بن سکے  ۔ ان کا ایک طنزیہ شعر ان کے حسب حال ہے ۔

خدا تو خیر مسلماں تھا اس کا کیا شکوہ
مرے لئے مرے پرماتما نے کچھ نہ کیا
قتیل شفائی بھی پاکستان کے بہت اچھے شاعر تھے ۔ اقبال بانو کا گایا ہوا ان کا گیت ’’پایل میں گیت ہیں چھم چھم کے‘‘ ۔ آج بھی نہایت مقبول ہے  ۔جب قتیل شفائی ہندوستان آتے تھے تو کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کے مہمان ہوتے تھے  ۔ ان کے اعزاز میں مشاعرے ہوتے تھے ۔ فلم ڈائرکٹرس اپنی فلموں کے لئے ان سے گانے لکھواتے تھے ۔
دیوان بریندر ناتھ دہلی میں رہتے تھے ۔ ان کا ادبی نام ظفر پیامی تھا ۔ ان کی بیگم منورما دیوان بہت اچھی ادیبہ تھیں ۔ ان دونوں کو حفیظ جالندھری سے بے پناہ عقیدت تھی ۔ حفیظ جالندھری نے منورما دیوان کو اپنی بیٹی بنالیا تھا ۔ حفیظ جالندھری دہلی آتے تو دیوان بریندر ناتھ کے مہمان ہوتے تھے ۔ کسی نے بریندر ناتھ سے یہ نہیں پوچھا کہ آپ ایسے شاعر سے اتنی محبت کیوں کرتے ہیں جس نے پاکستان کا قومی ترانہ لکھا ہے ۔
خوشتر گرامی سے کون واقف نہیں ۔ وہ بھی پنجابی تھے ۔ ان کا رسالہ بیسویں صدی اپنی طرز کا واحد رسالہ تھا ، جس میں ہندوستان ، پاکستان کے ادیبوں ، شاعروں کی تخلیقات شائع ہوتی تھیں ۔ ’بیسویں صدی‘ کو دونوں ملکوں کے درمیان ایک پُل سمجھا جاتا تھا ۔ خوشتر گرامی سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ آپ نے ایسا نام کیوں اختیار کیا ۔
صادقین آرٹسٹ تھے اور فنِ خطاطی کے ماہر ۔ وہ ہندوستان آئے تو ان کی اتنی قدردانی ہوئی کہ وہ کافی عرصے تک یہیں مقیم رہے ۔ قرآن شریف کی آیات اور ان کے تیار کردہ طغروں کی کئی جگہ نمائش ہوئی خود صادقین نے کہا تھا۔
البرز نہ الوند کا باشندہ ہوں
دلی نہ سمرقند کا باشندہ ہوں
ساری دنیا مرا وطن ہے یارو
میں ارضِ خداوند کا باشندہ ہوں
مہدی حسن غزل سرائی میں یکتا تھے ۔ ان کے فن کو ہندوستان میں جتنا سراہا گیا شاید خود پاکستان میں بھی اتنا نہیں سراہا گیا ۔ جب وہ سخت بیمار ہوئے اور گانے سے لاچار ہوگئے تو لتا منگیشکر اور بعض دوسرے فن کاروں نے امداد کی پیشکش کی تھی  ۔
آفریں آفریں جیسے نغمے کے خالق نصرت فتح علی خاں کو جو مقبولیت ہندوستان میں ملی اس کی مثال ملنی مشکل ہے ۔ آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ جب لندن میں نصرت فتح علی خاں کا انتقال ہوا تو میں نے اخبار میں دیکھا تھا کہ بال ٹھاکرے نے بھی اظہارِ تعزیت کیا تھا ۔

1982 ء میں ایشین گیمز کے موقع پر جو کلچرل پروگرام پیش ہوئے تھے ان میں ملکہ پکھراج ، ان کی بیٹی اور ریشماں کو بھی مدعو کیا گیا تھا ۔ ملکہ پکھراج نے ابھی تو میں جوان ہوں کے علاوہ کئی غزلیں پیش کی تھیں  ۔ان فنکاروں نے جب پنجابی نغمے پیش کئے تو سارا مجمع بے قابو ہوگیا ۔
غلام علی بھی ہندوستان میں نہایت مقبول ہیں ۔ گو کہ ان کا بمبئی کا پروگرام ملتوی کرنا پڑا لیکن اس کی تلافی کولکاتا میں ہوگئی ۔
حال ہی میں ہم نے کہیں پڑھا تھا کہ عدنان سمیع کو ہندوستانی شہریت مل گئی جس کے لئے وہ کوشاں تھے ۔
فیض عظیم شاعر تھے ۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں ان کی قدر ومنزلت تھی ۔ لیکن ان کو اپنے ہی ملک میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنی پڑیں ۔ ان کی زندگی کا بہت بڑا حصہ جلاوطنی میں کٹا ۔ جب وہ ہندوستان آتے تھے تو کئی شہر اور بے شمار ادبی انجمنیں ان کا استقبال کرتی تھیں ۔ اندرا گاندھی ان کو عشائیے پر بلاتی تھیں۔ لیکن فیض جیسے شاعر کو بھی مجبوراً کبھی بیروت ، کبھی فلسطین اور کبھی لندن میں رہنا پڑا ۔ فیض کا ایک شعر ہے ۔
ہم نہ کوئی یوسف نہ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے
اپنی کیا کنعاں میں رہے یا مصر میں جا آباد ہوئے
ہمارے ملک میں کئی پاکستانی بچے بچیوں کا مفت علاج بھی ہواہے اور ان کے والدین نے احسان مندی کے بیانات بھی دئے ہیں ۔
اتنا کچھ لکھنے کے بعد یہ اقرار بھی کرنا پڑتا ہے کہ خود ہمارے ملک میں اگلی سی رواداری اور تواضع میں کمی آرہی ہے ۔ بھانت بھانت کے لوگ نمودار ہوگئے ہیں ، جنھیں غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے کی عادت سے پڑی ہوئی ہے۔ بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو ملک کی بہت بڑی آبادی کو ترکِ وطن کا مشورہ بھی دے ڈالتے ہیں جبکہ وہ خود بھی جانتے ہیں کہ ان کے اس مشورہ کی کیا حقیقت ہے ۔ اور خود اس ملک پر ان کی اجارہ داری کیا ہے ۔
دنیا بھر میں ہندوستان کی قدر و قیمت اس لئے بھی ہے کہ یہ کئی تہذیبوں کا سنگم ہے ۔ یہاں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ کئی طرح کے موسم ، کئی طرح کے پہناوے ہیں ۔ اگر ہم اس ملے جلے کلچر کو کسی ایک رنگ میں رنگنا چاہیں تو یہ بہت بڑی غلطی ہوگی ۔

شاہد آفریدی ایک بہت اچھے اور طوفانی کھلاڑی ہیں ۔ وہ اپنے زبردست چوؤں اور چھکوں کے لئے بوم بوم بیانگ Boom Boom bang کہلاتے ہیں ۔ وکیل صاحب کی نوٹس کے جواب میں انھوں نے 19 گیندوں میں 49 رن بنائے اور 27 رن دے کر دو وکٹ حاصل کئے ۔ حب الوطنی کا عملی ثبوت اور کیا چاہئے۔ لیکن 36 سالہ یہ کھلاڑی ’’فصلِ بہار آخر شد‘‘ کے مرحلے سے گزر رہا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ بیس پچیس سال کے بعد دنیا انھیں بھول بھی جائے ۔ لیکن دنیا میں کئی نامور شخصیتیں ایسی بھی گزری ہیں ، جو اپنے ملک کی جغرافیائی حدود سے نکل کر ساری دنیا میں مشہور ہوئیں ۔ ٹی ایس ایلیٹ بیسویں صدی میں انگریزی کا سب سے بڑا ادیب اور شاعر تھا ۔ وہ امریکہ میں پیدا ہوا تھا لیکن اس نے برطانیہ کی شہریت اختیار کرلی تھی۔ کبھی برطانیہ کے لوگوں نے اس کی شہریت کا سوال نہیں اٹھایا اور نہ امریکہ نے اس سے باز پرس کی ۔ عمر خیام کی رباعیات کا فٹزجرالڈ نے لاجواب ترجمہ کیا تھا ۔ ایک اہم موقع پر فٹزجرالڈ کی قبر سے گلاب کی ایک ٹہنی ہزاروں میل دور خیام کی قبر کو بھیجی گئی اور وہاں لگائی گئی ۔ جغرافیائی سرحدیں بھی ضروی ہیں لیکن دلوں کی کوئی سرحد نہیں ہوتی ۔ دوسرے کیا کہتے ہیں اور کیا کرتے ہیں اس سے ہم کو مطلب نہیں ۔ ہم ہندوستانی اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں اور ساری دنیا کے لئے بھی دل کشادہ رکھتے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT