Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / کھلے ذہن سے کشمیر کا دورہ : مرکزی وزیرداخلہ

کھلے ذہن سے کشمیر کا دورہ : مرکزی وزیرداخلہ

چار روزہ سرکاری دورہ ، تمام برادریوں کے نمائندوںسے ملاقات اور تبادلہ خیال کی تجویز
نئی دہلی ۔ 8 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے دورہ سے قبل مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے آج کہا کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ کشمیر جارہے ہیں اور کسی سے بھی جو ان کے ساتھ تبادلہ خیال کرنا چاہتا ہو، ملاقات کیلئے تیار ہیں کیونکہ حکومت تمام مسائل کی یکسوئی چاہتی ہے۔ اپنے چار روزہ دورہ کے موقع پر جس کا آغاز کل سے ہورہا ہے، راجناتھ سنگھ سرینگر، اننت ناگ، جموں اور راجوری کا دورہ کریںگے اور شہری معاشرہ کے ارکان، سیاسی اور سماجی تنظیموں کے قائدین، تاجر برادری کے قائدین اور دیگر سے ملاقاتیں کریں گے۔ اس اقدام کو وزیراعظم یوم آزادی تقریر کا تسلسل سمجھا جارہا ہے جس میں انہوں نے وادی کے عوام سے رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے ایک تقریب میں علحدہ طور پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے دورہ کے موقع پر گورنر این این ووہرہ اور چیف منسٹر محبوبہ مفتی سے بھی ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم کے 80 ہزار کروڑ روپئے مالیتی ترقیاتی پیاکیج سے متعلق کاموں کا بھی جائزہ لیں گے۔ اس پیاکیج کا اعلان 2015ء میں کیا گیا تھا۔ وہ ریاست کی صیانتی صورتحال کا بھی جائزہ لیں گے۔ راجناتھ سنگھ جموں و کشمیر پولیس، سی آر پی ایف اور بی ایس ایف کے ارکان عملہ سے بھی ملاقات کریں گے جو ریاست میں انسداد عسکریت پسندی کارروائیوں میں پیش پیش رہے ہیں۔ یہ ملاقات اننت ناگ میں ہوگی۔ اتوار کے دن مرکزی وزیرداخلہ توقع ہیکہ ایک جامع صیانتی جائزہ اجلاس میں شرکت کریں گے جس میں چیف منسٹر اور فوج، سی آر پی ایف اور جموں و کشمیر پولیس کے اعلیٰ عہدیدار بھی موجود ہوں گے۔ راجناتھ سنگھ امکان ہیکہ سرینگر میں کالج کے طلبہ سے تبادلہ خیال کریں گے تاکہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں ان کی رائے حاصل کی جاسکے۔ مرکزی وزیرداخلہ پیر کے دن سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے اور جموں کیلئے روانہ ہوجائیں گے۔ وہ راجوری میں بی ایس ایف کے ایک کیمپ کا بھی دورہ کریں گے۔ جموں میں ان کی ملاقات تاجروں، تارکین وطن، کشمیری پنڈتوں اور گجروں اور بکروالوں کے علاوہ دیگر برادریوں کے نمائندوں سے بھی ہوگی۔
15 اگست کی تقریر میں وزیراعظم نریندر مودی نے کشیدگی سے متاثرہ کشمیریوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر کے مسئلہ کی یکسوئی گولیوں یا بدگوئی سے نہیں ہوسکتی۔ اس مسئلہ کی یکسوئی تمام کشمیریوں کو گلے لگانے سے ہی ہوسکتی ہے۔ راجناتھ سنگھ خود بھی 19 اگست کو کہہ چکے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کی بشمول دہشت گردی ، نکسلزم اور شمال مشرقی ہند کی شورش پسندی کی یکسوئی 2022ء سے پہلے کردی جائے گی۔ سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا کی زیرقیادت شہریوں کا ایک گروپ 17 تا 19 اگست کشمیر کا دورہ کرچکا ہے اور اپنی رپورٹ پیش کرچکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT