Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / کھمم میں وقف اراضی الاٹ کرنے کا لالچ ، لاکھوں روپئے لوٹ لیے گئے

کھمم میں وقف اراضی الاٹ کرنے کا لالچ ، لاکھوں روپئے لوٹ لیے گئے

خود ساختہ تنظیم کی دھوکہ دہی ، ضلع کے وفد کی جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست سے ملاقات
حیدرآباد ۔  14 ستمبر  (سیاست  نیوز) کھمم ضلع میں درگاہ حضرت مولیٰ تعلیم  کی اوقافی جائیداد کے کرایہ داروں نے آج ایڈیٹر روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کی اور مقامی وقف عہدیداروں کی جانب سے غیر قانونی طورپر بھاری رقومات کی وصولی کی شکایت کی۔ وفد نے اس سلسلہ میں چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ کو بھی تحریری طور پر شکایت کی ہے۔ 10 کرایہ داروں نے شکایت کی کہ 2012 ء میں مینجنگ کمیٹی نے کرایہ داروں کو نوٹس جاری کی اور ایک خود ساختہ تنظیم کے ذمہ دار کی ملی بھگت کے ذریعہ بھاری رقومات حاصل کی۔ کرایہ داروں نے شکایت کی کہ وقف بورڈ کی جانب سے اراضی الاٹ کرنے کا لالچ دے کر فی کس 80 ہزار روپئے وصول کئے گئے ۔ اس کے علاوہ ماہانہ ایک ہزار روپئے کرایہ مقرر کیا گیا۔ کرایہ داروں نے شکایت کی کہ اکتوبر 2012 ء تا اگست 2015 ء انہوں نے مقامی انسپکٹر آڈیٹر کو کرایہ ادا کیا لیکن آج تک انہیں ملگیاں الاٹ نہیں کی گئیں۔ انہوں نے شکایت کی کہ ایک مقامی خود ساختہ تنظیم کے صدر اور وقف عہدیداروں نے غیر قانونی طریقہ سے بھاری رقومات حاصل کرتے ہوئے انہیں دھوکہ دیا ہے۔ انہوں نے اوقافی جائیداد سے غیر مجاز قبضوں کی برخواستگی پر کوئی توجہ نہیں دی۔ وفد نے الزام عائد کیا کہ خود ساختہ مسلم تنظیم کے صدر مختلف اوقافی جائیدادوں پر قبضہ کے ذمہ دار ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے گنجہ شہیداں کی اوقافی اراضی پر قبضہ کیا۔ وفد نے غیر قانونی سرگرمیوں کی تحقیقات اور خاطیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے شکایت کی کہ ان سے فی کس ایک لاکھ 60 ہزار روپئے وصول کرلئے گئے جس کا دستاویزی ثبوت ان کے پاس موجود ہے۔ ان کرایہ داروں نے ناجائز قبضوں کو برخواست کرتے ہوئے ملگیاں الاٹ کرنے کی اپیل کی ہے۔ جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کرنے والے وفد میں محمد امتیاز، محمد رجب علی ، شیخ نثار احمد ، سید علی ، محمد ستار، شیخ جانی میاں، شیخ مجاہد، محمد سلیم اور محمد رفیق شامل تھے۔

TOPPOPULARRECENT