Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / کھمم کی درگاہ حضرت مولا تعلیم کا مقدمہ عدالت میں زیر دوران

کھمم کی درگاہ حضرت مولا تعلیم کا مقدمہ عدالت میں زیر دوران

اوقافی اراضیات پر قبضہ کی تردید ، مفادات حاصلہ کی نیت خراب ، جناب زاہد علی خاں سے ضلع کے وفد کی ملاقات
حیدرآباد۔ 16 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) ضلع کھمم سے تعلق رکھنے والے اقلیتی افراد کے ایک وفد نے آج ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کی اور ضلع میں اہم اوقافی جائیدادوں کی تباہی کی صورتحال سے واقف کرایا۔ وفد نے بتایا کہ بعض خود ساختہ اقلیتی قائدین منظم طریقہ سے اوقافی جائیدادوں پر نہ صرف قابض ہیں بلکہ انہیں فروخت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ نور باشا دودے کلا مسلم ویلفیر سوسائٹی کے ذمہ داروں اور مقامی اقلیتی افراد نے اس سلسلہ میں عہدیدار مجاز وقف بورڈ اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو پیش کی گئی یادداشت کی نقل بھی حوالہ کی۔ انہوں نے بتایا کہ بعض مفادات حاصلہ خود کو اوقافی اراضیات کا محافظ ظاہر کرتے ہوئے ناجائز قبضے کر رہے ہیں۔ وفد نے بتایا کہ درگاہ حضرت مولا تعلیم اور اس سے متعلق اراضی اور ملگیات پر قابض افراد دوسروں پر قبضے کا بے بنیاد الزام عائد کر رہے ہیں۔ وفد نے مسجد قاضی پورہ، قدیم عیدگاہ کھمم ، عاشور خانہ پنجتن پاک ، عاشور خانہ حسینی، مدینہ مسجد مارکٹ کھمم اور دیگر اداروں پر ناجائز قبضوں کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ درگاہ حضرت مولا تعلیم کا مقدمہ عدالت میں زیر دوران ہیں ۔ ان قائدین نے گنج شہیداں کی اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضوں سے متعلق اطلاعات کی تردید کی ۔ انہوں نے بتایا کہ وقف بورڈ نے سروے نمبر 495 اور 496 کے تحت اس اراضی کو شیخ کریمہ نامی خاتون کو لیز پر دیا ہے، جہاں دینی مدرسہ سمیہ للبنات قائم ہے۔ اس مدرسہ کے ذریعہ مقامی لڑکیوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کیا جارہا ہے۔ نور باش طبقہ سے تعلق رکھنے والے شیخ مدار نے موقوفہ اراضی پر اپنے ذاتی قرض سے یہ مدرسہ تعمیر کرایا۔ وفد نے کہا کہ بعض مفادات حاصلہ اس اراضی پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ وفد میں شیخ مدار ، سید محبوب علی ، شیخ سفینہ ، سدا صاحب، سید محمود علی ، محمد عبدالحکیم ، شیخ چھوٹے بابا ، محمد عبدالغنی ، محمد یوسف اور شیخ عبدالقدیر موجود تھے ۔ وقف بورڈ کے حکام نے ان معاملات کی جانچ کرنے اور ناجائز قابضین کے خلاف کارروائی کا تیقن دیا۔

TOPPOPULARRECENT