Saturday , April 29 2017
Home / شہر کی خبریں / کھیل کود کے میدانوں میں پارکنگ، عوام میں مایوسی

کھیل کود کے میدانوں میں پارکنگ، عوام میں مایوسی

میدانوں کو ختم کرنے کی سازش، خلوت میدان کو بچانے کی ضرورت

حیدرآباد۔5فروری(سیاست نیوز) شہر میں کھیل کے میدان ختم ہوتے جا رہے ہیں اور حکومت بچوں کے بچپن کو بچانے کی بات کررہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ کھلی اراضیات اور کھیل کے میدانوں کو باقی رکھنے کے اقدامات کرنے چاہئے لیکن اس کے برعکس پرانے شہر کے کئی علاقوں کے لئے موجود ایک خلوت میدان بھی نوجوانوں کے لئے کھیل کود کی جگہ کے بجائے ٹریفک پولیس کی پارکنگ کی جگہ میں تبدیل ہو چکا ہے اور اس مسئلہ کو حل کرنے کے مطالبہ پر منتخبہ عوامی نمائندے نہ صرف خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیںبلکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ خلوت میدان میں کی جانے والی پارکنگ سیاحوں کیلئے ہے اسی لئے اس خالی کروایا جانا مناسب نہیں ہے۔ٹریفک پولیس نے خلوت میدان کے باہر باضابطہ سیاحوں کیلئے خلوت میدان میں پارکنگ کا بیانر نصب کیا ہے جبکہ روزانہ اس میدان میں کھیل کود کیلئے سینکڑوں نوجوان پہنچتے ہیں لیکن انہیں گاڑیوں کی موجودگی کے سبب مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ کھیل کود کے دوران اگر گاڑیوں کے کانچ ٹوٹتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں بھاری نقصان ہوگا۔اسی طرح یہ واحد میدان ہے جہاں اطراف کے علاقوں شاہ علی بنڈہ‘ شاہ گنج‘ محبوب چوک‘ قاضی پورہ ‘ پنچ محلہ کے علاوہ دیگر علاقوں کے عوام بالخصوص خواتین صبح کے وقت چہل قدمی کیلئے پہنچتے ہیں انہیں بھی ان حالات سے مایوسی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ چہل قدمی کرنے والوں کو گراؤنڈ میں فلموں کی شوٹنگ کے عمل کی موجودگی کے سبب تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ اکثر خلوت میدان جسے میلاد میدان کہا جاتا ہے اسے فلموں کی شوٹنگ کے عملہ کیلئے حوالے کیا جانے لگا ہے۔جناب محمد فاروق رکن ایگزیکیٹیو کمیٹی حیدرآباد کرکٹ اسوسیشن نے بتایا کہ میدانوں کی قلت کے سبب پرانے شہر کے عوام کو پریشانی ہو رہی ہے لیکن اس کے باوجود ٹریفک پولیس کی جانب سے میدان کو پارکنگ کی جگہ میں تبدیل کیا جانا بچوں کے حقوق کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔گراؤنڈ میں چہل قدمی کیلئے پہنچنے والے جناب فضل الرحمن کیمیکل انجنیئر نے بتایا کہ شہر میں میدان تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں اور موجودہ میدانوں کو بھی ایسے اغراض کیلئے استعمال کیا جانے لگے تو نوجوان کہاں جائیں؟ محترمہ ثروت صغری نے کہا کہ چہل قدمی کرنے کیلئے پہنچنے والے ان حالات کو دیکھتے ہوئے خلوت میدان بچاؤ کے لئے مہم شروع کرسکتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT