Saturday , July 22 2017
Home / مضامین / کہانی لکھوں کہ افسانہ

کہانی لکھوں کہ افسانہ

محمد مصطفیٰ علی سروری
مارچ کی دو تاریخ تھی ، احمد بھائی دفتر سے تھک ہار کر لوٹے تھے اور فریش ہوکر کھانا کھانے بیٹھے تھے ، ٹیلی ویژن پر کچھ سیریل چل رہے تھے لیکن جب احمد بھائی آگئے  تھے تو بچوں نے فوری ایک نیوز چیانل لگادیا اور ٹیلی ویژن کے سامنے سے ہٹ کر ادھر اُدھر  ہوگئے۔ احمد بھائی اپنی اہلیہ کے ساتھ رات کا کھانا ابھی ختم بھی نہیں کرے تھے کہ کسی نے گھر کی گھنٹی بجادی ۔ احمد بھائی کا چھوٹا لڑکا باہر جاکر دیکھا اور آکر اطلاع دی کہ ڈیڈی آپ سے ملنے کیلئے کوئی انکل آئے ہیں، احمد بھائی نے جب کہا کہ جاؤ بیٹا اُن کا نام کیا ہے پوچھو تو لڑکے نے واپس آکر بتلایا ڈیڈی انہوں نے کہا آپ ان کو نہیں پہچانتے؟ ضروری کام ہے ، آپ سے بات کرنا ہے ۔ خیر سے کھانا ختم کر کے احمد بھائی گھر سے باہر نکلے تو دیکھا کہ ایک نوجوان باہر کھڑا ہے ، قبل اس کے کہ وہ کچھ پوچھتے وہ آگے بڑھ کر ان کو سلام کرتا ہے اور ہاتھ ملاتے ہوئے گھر میں بیٹھ کر ضروری بات کرنے کی درخواست کرتا ہے ۔ احمد بھائی اپنے گھر کا دیوان خانہ کھول کر اس نوجوان کو اندر بلا لیتے ہیں۔ اپنے ہاتھ میں کالج کا بیاگ لئے وہ اندر آجاتا ہے ۔
گھر میں آکر وہ نوجوان جو باتیں بتاتا ہے ، وہ تو احمد بھائی کے ہوش و حواس اڑادینے کیلئے کافی ہوتی ہیں۔ احمد بھائی تو ایک لمحے کیلئے سکتے میں ہی آجاتے ہیں اور انہیں اپنے آپ کو سنبھالنے میں کچھ وقت لگ جاتا ہے۔ کون تھا وہ نوجوان اور اس نے ایسی کیا بات کہہ دی کہ احمد بھائی کے حواس ہی اُڑ گئے ۔ سب سے پہلے تو وہ نوجوان احمد بھائی کو اپنا تعارف کرواتا ہے کہ اس کا نام ارشد ہے اور وہ ان کی بڑی لڑکی کا دوست ہے ۔ احمد بھائی فوری غصہ سے آگ بگولہ ہوجاتے ہیں کہ کوئی اجنبی نوجوان ان کی لڑکا کانام لے کر اس کو اپنا دوست بتلا رہا ہے ۔ تھوڑا سا سنبھل کر وہ پوچھتے ہیں کہ تم میری لڑ کی کو کیسے پہچانتے ہو اور وہ تو ہمیشہ سے ہی لڑکیوں کے اسکول اور لڑکیوں کے ہی کالج میں پڑھتی آئی ہے ۔ احمد بھائی اپنے بڑے لڑکے وقار کو بھی آواز دیکر بلا لیتے ہیں لیکن ارشد نامی جو نوجوان ہے وہ پورے اعتماد اور سکون سے اپنا موبائیل فون نکال کر بتلاتا ہے کہ میں آپ کی لڑکی کو پچھلے 5 برسوں سے جانتا ہوں ،ہم لوگ فیس بک پر دوست بھی تھے ۔ ابھی حال ہی میں جب میں نے آپ کی لڑکی سے شادی کی بات کی تو اس نے مجھے (unfriend) کردیا ہے ۔ احمد بھائی نے ارشد کی بات چیت کو درمیان میں ہی روکتے ہوئے سوال کیا کہ تمہارے پاس اپنی بات کو ثابت کرنے کیا۔ ثبوت ہے تو ارشد جواب دیتا ہے ، انکل وہی تو بتلانے جارہا ہوں۔ یہ دیکھئے آپ کی بچی نے مجھے جو تصاویر بھیجی تھی اور یہ دیکھے وہ (Messages) جو آپ کی بچی نے بھیجے تھے ، ہم دونوں ایک دوسرے کو چاہتے ہیں اور شادی کرنا چاہتے ہیں۔ احمد بھائی  نے جب فوٹوز پر نظر ڈالی تو پہلے تو ان کی لڑکی کی ہی فوٹوز تھیں اور چند فوٹوز میں تو ارشد خود ان کی لڑکی کے بازو بیٹھا تھا۔ ارشد نے مزید یہ بھی بتلایا کہ ان کی لڑکی کے پاس Jio کا جو فون ہے وہ بھی اس نے دلوایا ہے ۔ ارشد تو مزید بولتا ہی جارہا تھا مگر احمد بھائی کے آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا ، وہ سوچنے لگے تھے کہ آخر ان کی لڑکی ایسا کیسا کرسکتی ہے ۔ انہوں نے تو ایسی برائیوں سے بچانے کیلئے اپنی بچیوں کو (Girls) اسکول اور (Girls) کالج میں ہی پڑھایا تھا ۔ وہ تو سوچ ہی رہے تھے کہ اب جیسے ہی ان کی بچی کی ڈگری کا فائنل سمسٹر ختم ہوگا اس کیلئے رشتہ کی تلاش میں تیزی لائیں گے ، وہ تو اپنی لڑکی کو ہمیشہ برقعہ میں ہی کالج بھیجا کرتے تھے پھر یہ سب کیسے ہوا۔
احمد بھائی دیوان خانہ سے نکل کر گھر کے اندر گئے ۔ بیوی کو پوچھا یہ سب کیا قصہ ہے اور کب سے چل رہا ہے ، ان کی بیگم نے کہا کہ اجی وہ سب چھوڑو لڑکا کون ہے کیا کر رہا ہے پوچھو، میں بچی سے پوچھی تو رو رو کر برا حال کرلی ہے اور بولی وہ اس لڑ کے  کو جانتی ہے لیکن اب ہم لوگ جو بھی فیصلہ کریں گے اس کو قبول کرتی بولی ، آپ کچھ بھی نکو بولو ، پہلے بچے سے بات کرکے بڑھادو پھر میں آپ کو سب سمجھاتی ہوں۔
احمد بھائی واپس دیوان خانے میں گئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا لڑ کا وقار اور ارشد ایک دوسرے کا گلہ پکڑکر لڑ رہے ہیں ان کا بچہ مار پیٹ کے ساتھ گالیاں دے رہا ہے اور ارشد باہر کھڑے کسی شخص کو مدد کیلئے آواز دے رہا ہے ۔ احمد بھائی آگے بڑھ کر وقار کو الگ کرتے ہیں اور ارشد سے پوچھنے لگتے ہیں کہ تم بتاؤ تم کیا کرتے ہو تمہارے ماں باپ کہاں ہیں، تم نے کہاں تک تعلیم حاصل کی اور تمہاری جاب کہاں ہے وغیرہ۔ اس دوران لڑائی جھگڑے کی آوازوں پر احمد بھائی کے بیگم اور سب بچے بھی دیوان خانے میں آجاتے ہیں، لڑکا (ارشد) کہتا ہے کہ وہ ابھی ایم بی اے کر رہا ہے اور تعلیم کے فوری بعد اس کے ڈیڈی اس کو ویزا بھجوانے والے ہیں اور وہ بھی سعودی عرب جانے والا ہے ۔
ابھی بات چل رہی ہوتی کہ اندر سے احمد بھائی کو ان کی لڑ کی کے زور زور سے رونے اور بھیا میرے کو مت مارو کی آوازیں آتی ہیں۔ دوڑ کر وہ اندر جاتے تو دیکھتے ہیں کہ ان کا لڑکا وقار اپنی بہن کو مارنے دوڑ رہا ہے اور ان کی بچی مار سے بچنے روتے ہوئے ادھر ادھر دوڑ رہی ہے ۔ پھر کیا ہوتا ہے کہ معلوم نہیں کہاں سے ارشد کے ہاتھ میں ہتھیار آجاتا ہے اور وہ دوڑکر وقار کو مارنے کی کوشش کرتا ہے کہ ارشد کے ہاتھ میں ہتھیار دیکھ کر احمد بھائی پاس میں پڑی کرکٹ بیاٹ اٹھاکر دوڑتے ہیں تب تک ارشد ان کی بچی کی گردن پکڑ کر دھمکانے لگتا ہے کہ دیکھو میں عزت سے بات کر رہا ہوں ، اگر گڑبڑی کریں گے تو میں کچھ بھی کرسکتا ہوں۔
کرکٹ کی بیاٹ کا مار ارشد کے ہاتھ کے بجائے پیٹھ پر لگ جاتا ہے ، ادھر احمد بھائی کے ہاتھ سے بیاٹ گرتی ادھر ارشد کی چاقو احمد بھائی کے ہاتھ پر لگ جاتی ہے ۔ سب کی چیخیں نکل پڑتی ہیں ، اس دوران احمد بھائی کی بیوی بھاگ کر سامنے آتی ہیں اورایک اوڑھنی احمد بھائی کے ہاتھ پر باندھنے لگتی ہیں ، گھر کیا تھا لڑائی کا میدان بن گیا تھا ۔ کون کدھر ہے پتہ ہی نہیں لگ رہا تھا ۔ احمد بھائی حالات کو بگڑتا دیکھ کر ارشد سے کہہ رہے تھے کہ وہ بات کرنے تیار ہے ، وہ ہتھیار استعمال نہ کرے لیکن تب تک احمد بھائی کے لڑکے نے نیچے گری بیاٹ اٹھاکر ارشد کو مارنی چاہی ، ارشد تو ایک طرف کھسک گیا اور بیاٹ جاکر دیوار سے ٹکرایا اور وہاں سے احمد بھائی کی لڑکی کے ہی سر پر لگ گیا ۔ لڑکی کے سر پر بیاٹ کی مار پڑی تھی یا ماں باپ کے روبرو عزت کے چلے جانے کا صدمہ وہ نیچے میاٹ پر گر گئی تھی ۔ ارشد بھی شائد ایک لمحہ کیلئے چونک  گیا تھا ، ادھر وہ نیچے اپنی گرل فرینڈ کو دیکھ کر ہا تھا ، ادھر کسی نے اس کے چہرے پر پانی پھینکا ، پانی کیا تھا نہیں معلوم آنکھوں میں جلن ایسی کہ وہ پہلے تو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ہوا کیا تبھی احمد بھائی کی بیگم نے چیخ کر ا پنے بیٹے وقار کو کہا کہ اس کو پکڑو اور اس رسی سے باندھو میں نے مرچی کا پاؤڈر ملاکر پانی پھینکا ہے ۔
کس طرح ارشد کو پکڑلیا گیا ، وہ صرف چیخ ہی نہیں رہا تھا بلکہ گالیاں بھی بک رہا تھا۔ ارشد کو پکڑ کر دیوان خانہ میں گرا دیا گیا کیونکہ وقار کے گھونسوں اور لاتوں کا سلسلہ رک نہیں رہا تھا ، ادھر پڑوسی بھی چیخ  پکارے کو سن کر جمع ہوگئے تھے ۔ کسی نے پولیس کو فون کردیا تھا ۔ پندرہ سے بیس منٹ میں پولیس والے پتہ پوچھتے احمد بھائی کے گھر آہی گئے تھے ۔ صرف ارشد ہی نہیں احمد بھائی ان کا لڑکا وقار بھی پولیس کی جیپ میں اسٹیشن لے جائے گئے ۔ صرف ایک جیپ ہی نہیں پولیس کی دوسری جیپ بھی پولیس اسٹیشن پہونچی جس میں احمد بھائی کی بیگم اور ان کی لڑکی پولیس کی خاتون اہلکاروں کے ساتھ تھی ۔
سرکاری دواخانے میں احمد بھائی کی مرہم پٹی کروائی گئی اور پھر پولیس والوں نے ارشد کی ہی نہیں بلکہ ہر ایک کی بات سنی ۔ پولیس کے اعلیٰ اہلکار نے وقار سے پوچھا میاں جب تمہاری بہن کے پاس نیا فون آیا اس وقت تمہیں سوچنا چاہئے تھا کہ آخر یہ فون کہاں سے آیا ۔ احمد بھائی سے اے سی پی صاحب کہنے لگے ، ارے او بھائی صاحب آپ بار بار بول رہے ہیں کہ میں تو بچی کو قرآن پڑھایا ۔ برقعہ اوڑھایا ، بچیوں کے کالج کو بھیجا پھر میری بچی ایسا کیوں کری؟ میں بھی پولیس میں کام کر رہا ہوں اور مسلمان بھی ہوں ۔ روز روز کے حالات دیکھ کر میں نے اپنے بچوں کو صرف دینی تعلیم نہیں بلکہ دین کیا ہے سکھانے کی کوشش کی ہے۔ قرآن صرف پڑھنے کو نہیں بلکہ سمجھنے کو کہتا ہوں۔ اپنی بچی کو برقعہ پہننے کیلئے زبردستی نہیں کی ، ہاں برقعہ مسلم عورتیں کیوں پہننا چاہتے سمجھا دیا ہوں۔ اب میری بچی اپنی مرضی سے پر دہ کرتی ہے اور برقعہ پہنتی ہے۔
میں پولیس والا ہوں ، ہفتہ میں ایک دن میرے گھر والے سب بیٹھتے ہیںاور میری بیوی قرآن کی تفسیر بیان کرتی ہے ۔ احمد بھائی یہ مت بھولو اپنے بچوں کو تربیت دینا اپنا کام ہے اسکول کالجس میں تو صرف تعلیم دی جاتی ہے ۔
قارئین آپ آج کا کالم پڑھ کر  سوچ رہے ہوں گے یہ کیا ہے ؟ اور سب سے پہلا سوال کیا یہ سچا واقعہ ہے ، آپ کے ذہن میں گونج رہا ہوگا ، اس قصے میں نام تو فرضی ہوسکتے ہیں مگر اخبار کے قاری کو اس واقعہ کی سچائی اور اصل تہہ تک پہونچنا مشکل نہیں مگر ان سب سے اہم سوال جو کہ بنیادی نوعیت کا ہے کہ کیا ہم کچھ سیکھنے کیلئے تیار ہیں یا ہماری بے حسی کی چادر اس وقت تک نہیں اترنے والی ہے ۔ جب تک طوفان نہ آجائے ۔
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے
کہ تیرے ب

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT