Monday , October 23 2017
Home / مضامین / کہیں ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کا ہٹلر نہ بن جائے

کہیں ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کا ہٹلر نہ بن جائے

ظفر آغا

امریکی صدارتی انتخابی مہم نے ساری دنیا کو خوفزدہ کردیا ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ امریکی پرائمری سطح پر ریپبلکن پارٹی کی جانب سے ڈونالڈ ٹرمپ صدارتی امیدوار کے طور پر سب سے آگے ہیں اور ڈونالڈ ٹرمپ کی پوری کیمپئن نفرت پر مبنی ہے ۔ ان کو مسلمان ہی نہیں اسلام سے نفرت ہے ۔ ٹرمپ کو امریکہ میں باہر سے آکر بسنے والوں خاص کر لاطینی امریکیوں سے نفرت ہے ۔ گو وہ خود ایک تاجر ہیں لیکن وہ امریکی دولت مندوں کے بھی خلاف ہیں ۔ لیکن ٹرمپ کی اس پر نفرت کیمپئن نے امریکیوں کو ان کا دیوانہ بنادیا ہے ۔ الغرض اس وقت دنیا کی واحد سپر پاور جو خود کو دنیا کا سب سے مہذب ملک سمجھتا ہے وہاں نفرت کا بازار  گرم ہے اور یہی سبب ہے کہ نفرت کا پجاری ڈونالڈ ٹرمپ اس وقت اسی طرح امریکیوں کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا ہے جیسے کبھی ہٹلر 1930 اور 1940 کی دہائی میں جرمن عوام میں مقبول تھا ۔
یہ تو عالم ہے امریکہ کا جہاں ڈونالڈ ٹرمپ نفرت کا بازار گرم کئے ہوئے ہے ۔ اس طرح اگر عالم اسلام بالخصوص عرب دنیا پر نگاہ ڈالیں تو دہشت گردی کی آڑ میں ابوبکر البغدادی نے مغرب کے خلاف نفرت کا بازار گرم کررکھا ہے ۔ بغدادی نے مغرب کے خلاف جہاد کا پرچم بلند کیا ہوا ہے جو نفرت پر مبنی ہے ۔ اس اکیسویں صدی میں بغدادی کے ہمنوا انسانوں کو جانوروں کی طرح ذبح کررہے ہیں ۔ عورتوں کے ساتھ بدترین مظالم کررہے ہیں ۔ معصوموں کا خون بہایا جارہا ہے ۔ یہ جہادی خود مسلمان ہو کر مسلمانوں کا خون بہارہے ہیں ۔ الغرض تمام عالم اسلام نفرت کی آگ میں جھلس رہا ہے اور عراق سے پاکستان تک دہشت کا ڈنکا بج رہا ہے۔ یعنی اگر مغرب میں امریکہ میں نفرت کا بول بالا ہے تو دنیا کی دوسری سب سے بڑی قوم مسلمان بھی نفرت کا پرچم بلند کئے ہوئے ہے ۔ اسی طرح اس وقت ہندوستان میں بھی نفرت کی آواز بلند ہورہی ہے ۔ الغرض دنیا کی سیاست اس وقت ایک عجیب و غریب منزل پر پہنچ گئی ہے جس میں انسان دوستی ، رواداری اور دیگر تہذیبی قدروں کا فقدان ہوتا جارہا ہے اور اس کے بجائے نفرت کی آگ ہے جو سیاست کا مرکز بنتی جارہی ہے۔ دراصل کرسچین ڈونالڈ ٹرمپ ، مسلم ابوبکر بغدادی کا دوسرا روپ ہے ۔ ٹرمپ امریکی اور مغربی تہذیب کا کمانڈر اور لیڈر ہے تو بغدادی اسلامی تہذیب کے ٹھیکیدار بن گیا ہے اور دنیا اس وقت نفرت کی سیاست میں ڈوبتی جارہی ہے ۔ دراصل یہ ایک انتہائی سنگین صورت حال ہے جو عالم انسانیت کو تمام تر ترقی کے باوجود درپیش ہے ۔ ایک جانب اسمارٹ فون کی ترقی ہے جس نے انسان کے لئے دنیا کی ہر دیوار توڑدی ہے تو دوسری جانب ٹرمپ اور بغدادی جیسے لیڈر ہیں جو دنیا کو اسی طرح نفرت کی آگ میں جھونک کر پوری انسانیت  کے لئے خطرہ بنتے جارہے ہیں جیسے کبھی ہٹلر  دنیا کے لئے خطرہ تھا ۔

آخر یہ انسان کو ہوا کیا ہے ؟ ایک طرف تو وہ ترقی کی وہ منزلیں چھو رہا ہے جس کا گمان بھی نہیں کیا جاتا تھا اور دوسری طرف انسان خود انسان کا دشمن ہوتا جارہا ہے ۔ کیا انسان ایک بار پھر کسی تیسری جنگ عظیم کا شکار ہو کر خود کو فنا کرلے گا ۔ اس خطرہ سے نیوکلیئر  ہتھیاروں کے دور میں انکار نہیں کیا جاسکتا ہے  ۔ کیونکہ کل کو اگر ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے صدر بنتے ہیں تو وہ مسلمانوں کے خلاف ایک عالمی جنگ چھیڑ سکتے ہیں اور اس عالمی جنگ کے جو اثرات ہوں گے اس کے بارے میں اتنا تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ ساری دنیا کو تباہ کرسکتی ہے ۔ تو آخر کیا بات ہے کہ 1930 کی دہائی کی طرح ایک بار پھر دنیا کو ایک نئے ہٹلر کا سامنا ہے ؟
دراصل 1930 اور آج کے دور میں کافی مماثلت ہے ۔ وہ ایسی دہائی تھی جب دنیا کو زبردست ترقی کا سامنا تھا ۔ اس وقت انڈسٹریل انقلاب اپنے عروج پر تھا اور انڈسٹریل ترقی نے غریب اور امیر کے بیچ کا فاصلہ بہت حد تک ختم کردیا تھا ۔ یہ وہ دور تھا جب انسان برابری اور آزادی کی جنگ لڑ کر انسانیت کو ایک بلند و بالا ترقی یافتہ تہذیب کی جانب لے کر بڑھ رہا تھا ۔ بس اس بات سے پرانا نظام خائف تھا ۔ اس کو یہ خوف تھا کہ اب اقتدار  اس کے ہاتھوں سے نکل کر نئے ترقی یافتہ گروہوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا ۔ اسی خوف نے تبدیلی کے خلاف نفرت پیدا کی تھی جس کا علمبردار ہٹلر تھا جس نے ساری دنیا کو ایک عالمی جنگ میں جھونک کر پوری انسانیت کے لئے خطرہ پیدا کردیا تھا ۔

جیسے 1930 کی دہائی میں انڈسٹریل ترقی نے انسان کے لئے ترقی کی نئی راہیں کھول کر پرانی دیواروں کو گرادیا تھا ، ویسے ہی اس اکیسویں صدی میں کمپیوٹر اور اسمارٹ فون جیسے ذرائع نے انسانیت کو ایسی بلاخیز ترقی کی راہ پر لاکھڑا کیا ہے ، جہاں انسان کی بنائی ہوئی پرانی دیواریں ڈھائی جارہی ہیں  ۔مثلاً آج سے دس برس قبل یہ تصور نہیں کیا جاسکتا تھا کہ کوئی افریقی نسل حبشی امریکہ کا صدر ہوسکتا ہے ۔ اس وقت امریکہ میں بارک اوباما صدر ہیں جن کے آبا و اجداد کو گورے امریکی نفرت سے نیگرو کہتے تھے ۔ کیا پتہ کل کو عرب نسل کا ایک مسلمان امریکہ کا صدر بن جائے ۔ اسی طرح عالم عرب میں تیل کی دولت نے جو زبردست انڈسٹریل ترقی کی ہے اس نے جو نئی عرب نسل پیدا کی ہے وہ اب آزادی اور تبدیلی کی طلبگار ہے ۔ اسی طرح اسمارٹ فون لے کر گھومنے والی نسل کے کل ہر طرح کی پرانی دیوار گرتی جارہی ہے ۔
دنیا کی اس زبردست ترقی اور آزادی نے انسانیت کو ایک زبردست تبدیلی کے دروازے پر لاکھڑا کیا ہے جہاں گورے کالے اور امیر و غریب کا امتیاز توکیا،  اب تو قوم پرستی اور نسل پرستی جیسے پرانے نظریات کو ہی کھوکھلا اور بے معنی کردیا ہے ۔ اس زبردست ترقی نے اس اکیسویں صدی میں انسان کے تقاضے تو بدل دیئے ہیں لیکن ابھی بھی انسان انہیں پرانی قدروں میں جکڑا ہواہے جو اسمارٹ فون کے دور سے قبل کی قدریں تھیں ۔  نئی نسل کو نئی قدروں پر مبنی ایک نئی تہذیب کی تلاش ہے ، جو نسل پرستی اور قوم پرستی (Nationalism) سے پرے ایک عالمی تہذیب Global civilization کو جنم دے ۔ ظاہر ہے کہ پرانا نظام اس تبدیلی سے خائف ہے ۔ وہ ڈونالڈ ٹرمپ اور ابوبکر البغدادی کی شکل میں نفرت کا ڈھول بجا کرکسی طرح انسانیت کو ایک نئے دور میں داخل ہونے سے روکنے کوشاں ہے ۔ انسانیت اس وقت نئے اور پرانے کے اسی تضاد سے گزر رہی ہے ، جو ہٹلر پیدا کرتا ہے ۔ تب ہی تو اس وقت انسانیت پر ٹرمپ اور بغدادی جیسوں کا سایہ ہے جو ایک انتہائی خطرناک موڑ ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا ٹرمپ اور بغدادی جیسے قدامت پسند دنیا کو ہٹلر کی طرح ایک تیسری عالمی جنگ میں جھونکتے ہیں یا پھر انسان تاریخ سے سبق لے کر کسی طرح اس خطرے سے نکل جائے گا ، لیکن اس بات سے قطعی انکار نہیں کیاجاسکتا ہے کہ اس وقت ٹرمپ دنیا کے لئے تیسری عالمی جنگ کا سایہ بن گئے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT