Tuesday , October 24 2017
Home / مذہبی صفحہ / کیاابھی بیدار ہونے کا وقت نہیں آیا شریعت کیخلاف مغرب کی قلمی یلغار

کیاابھی بیدار ہونے کا وقت نہیں آیا شریعت کیخلاف مغرب کی قلمی یلغار

حال ہی میں مجھے ایک امریکی پادری دوست نے ای میل کیا اور نارتھ کارولینا کے مقامی اخبار میں شائع ایک سنجیدہ امریکی کا مضمون ارسال کیا، جس میں مضمون نگار نے اسلامی شریعت یا شرعی لاء پر تنقید کی، میرے دوست Mike Watts کا تقاضہ تھا کہ میں فی الفور اس کا رد کروں، لیکن میں نے اس سلسلہ میں عجلت نہیں کی ، جس پر میرے دوست ہی نے مختصر اور جامع مضمون ’’شرعی لاء سے مسلمانوں کی مراد‘‘ پر تحریر کیا اور وہ مضمون مقامی اخبار میں شائع ہوا ۔ اس کے بعد مجھے شرعی لاء سے متعلق مغرب کے اسکالرس اور مصنفین کے افکار و نظریات کو جاننے کا خیال ہوا ، آن لائن جاکر چند کتابیں طلب کیں، اُن میں ایک کتاب بڑی زہر آلود ہے ، جس کی تالیف کا اہم مقصد ہی اسلام سے متعلق امریکہ کی خواتین کو بطور خاص بدظن و گمراہ بنانا ہے ، جس کا نام ہے : “Sharia Law How to Control Women” یہ کتاب شوہر اور بیوی مارٹن (Martin) اور پیٹریسیا ریووٹ (Patricia Reott) کی مشترکہ تصنیف ہے جو درحقیقت “Islamorealist Series” کی پانچویں پیشکش ہے ، جس کا بنیادی مقصد انہی کے مطابق شرعی قانون کے زیر اثر خواتین و اطفال کے ساتھ ظالمانہ بدسلوکی کو آشکار کرنا ہے ۔ “Sharia Law How to Control Women….. is an eye-Opening report of the brutal mistreatment of women and children under Sharia Law.”

اس کتاب میں تین مزعومہ حقائق کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے (1) مسلمان امریکہ کو “The great satan” سب سے بڑا شیطان سمجھتے ہیں اور وہ امریکہ میں امریکی قانون کے بجائے شرعی قانون کو نافذ کرنا چاہتے ہیں ۔ (2) شرعی لاء درحقیقت خواتین کو مکمل زیرتسلط رکھنے کی دعوت دیتا ہے ، شریعت اسلامی کی رو سے خواتین کے کوئی حقوق نہیں ہے ، وہ محض مردوں کی تاحیات ملکیت ہیں۔ (3) امریکہ اور دوسرے مقامات پر مسلمان غیرمسلم عورت کو اسلام قبول کروانے کے لئے نشانہ بناتے ہیں تاکہ ساری دنیا میں اسلامی تسلط قائم کرنے میں مدد ملے ۔
کتاب کے مصنفین مارٹن اور پیٹریسیا دونوں بھی تعلیمی و تدریسی پیشہ سے وابستہ رہے اور وہ دونوں پانچ لڑکیوں اور ایک لڑکے کے مانباپ ہیں، جن کے (۱۹) پوتا ، پوتی اور نواسا نواسی ہیں اور ان کے (۱۰) پڑ پوتے و پڑنواسے نواسیاں ہیں یعنی وہ اپنی بات کو چھوٹے سادہ لوح معصوم بچوں کے ذہن و دماغ میں بڑی خوش اسلوبی سے جمانے میں کافی مہارت و تجربہ رکھتے ہیں ۔ ان صلاحیتوں کا اس کتاب میں بھرپور مظاہرہ کیا گیا اور بڑی مہارت سے اسلام کی حقیقت کو اس کا عیب بتانے کی کوشش کی ہے ۔ چنانچہ ’’اسلام امن کا مذہب ہے اس میں کوئی دورائے نہیں ۔ لیکن مذکورہ مصنفین اس حقیقت کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور تحریر کرتے ہیں
islam will only be a religion of peace when everyone in the world had converted to Islam, or been killed! Yes you’ve read that correctly, Muslims are intructed in the Quran , their holy book, to spread their religion by the sword and kill any dissenters (as commanded by Allah)
یعنی اسلام اس وقت امن کا مذہب ہوسکتا ہے جب کہ ساری دنیا کے لوگ یا تو مسلمان ہوجائیں یا قتل کردیئے جائیں۔ ہاں آپ نے صحیح پڑھا ہے ۔ مسلمانوں کو قرآن میں حکم دیا گیاہے کہ مذہب کو تلوار کے زور پر پھیلایا جائے اور اپنے حریفوں کو قتل کردیا جائے ۔ ( مسلمان اس پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں) ۔

قابل مصنفین نے متذکرہ (۶۶) صفحات پر مشتمل کتاب میں ’’تقیہ ، کِتمان ، خواتین کے خلاف مسیحی لڑائی ، غیرت کے نام پر مسلمان خواتین کا قتل ، خاتون کے مرنے کے بعد ہمبستری کرنا ، شخصی دلہنیں ، تعداد ازدواج ، عارضی شادیاں( متعہ) ، ڈانس پارٹی پر قتل کی سزا ، شرعی قانون میں مرد کی بالادستی جیسے عنوانات پر روشنی ڈالی گئیںاور یہ تاثر دینے کی کی کوشش کی گئی کہ اسلام میں عورت کی کوئی حیثیت نہیں ۔ اس کو جب چاہے طلاق دی جاسکتی ہے ۔ تین طلاق کے بعد حلالہ کا حکم ہے ۔ چوری پر ہاتھ کاٹے جاتے ہیں ۔ نیز بیٹیوں اور بیویوں کی ادنیٰ غلطی پر ان کو قتل کیا جاسکتا ہے ، شادی پر مجبور کیا جاسکتا ہے ۔ تبدیلی مذہب کیلئے اغواء ، قتل سب درست ہیں۔ زنا بالجبر میں عورت کو چار گواہ پیش کرنے پڑتے ہیں ورنہ اس کو اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں گے ۔ زنا کا شکار خواتین کو زانی مرد سے شادی پر مجبور کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح افغانستان طالبان کو ساری دنیا کے مسلمانوں کا رہنما و نمائندہ بناکر پیش کیا گیا اور اکا دکا واقعہ کو اسلامی حکم سے موسوم کیا گیا۔ سلیقے سے نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کی ذات گرامی کو متھم کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ایک اقتباس ہماری آنکھوں سے پٹی کھولنے کیلئے کافی ہوگا ۔ وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھا کی نکاح کے وقت عمر پر روشنی ڈالنے کے بعد نعوذباﷲ لکھتے ہیں کہ مسلمان اتباع کے لئے ۹ سال کی کم عمر بچیوں سے شادی کرتے ہیں :

Reports of mass marriages of 9 year old girls to mature Men have been reported, as Muslims try to follow the example of Mohammed, Whom they revere as “the Perfecct Man”
آج ہم مسلمان باہم ایک دوسرے کی تکفیر ، تضلیل میں مصروف ہیں، ہندوستان میں ہمارا زور چند مخصوص افراد کو کافر قرار دینے میں صرف ہورہا ہے ۔ سو سال سے ہم صرف چند مخصوص افراد کی تکفیر کا آموختہ کررہے ہیں ہمیں پتہ ہی نہیں ہے کہ دنیا میں علمی دانشگاہوں اور تحقیقی مواد کے ذریعہ کس طرح روز بہ روز نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی گستاخی و بے ادبی میں دنیا کی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کیا یہ وقت نہیں ہے کہ ہم ساری دنیا میں اپنے آقا و مولیٰ کی پاکیزہ سیرت کو عام کرنے ، آپ کا دفاع کرنے کیلئے کمربستہ ہوجائیں اور دشمنانِ دین کا منہ توڑ جواب دیں۔
ایک اقتباس پر مضمون کو ختم کرتا ہوں جس سے بخوبی اندازہ ہوگا کہ ان مکار و ظالم مصنفین کے دل میں اسلام اور مسلمانوں سے متعلق کس حد تک خباثت بھری ہوئی ہے کہ وہ مسلمانوں کو بدجانور سے بدتر بتانا چاہتے ہیں ، لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو Self Control ہے ہی نہیں اور بدجانور کو نجس سمجھتے ہیں :
Based on the rules of islam, and what Muslim Clerics, allow against woment, it would seem that Muslim Men have no self control. And yet they claim to think pigs are dirty what a bunch of sickos!

TOPPOPULARRECENT