Friday , September 22 2017
Home / اداریہ / کیاش لیس معیشت کا مذاق

کیاش لیس معیشت کا مذاق

لغزش کا سہارا خود میرے جنوں نے
جب آپ کا نقشِ کفِ پا سامنے آیا
کیاش لیس معیشت کا مذاق
ملک کے عوام جب ناداں حکمراں کی پوشیدہ سازشوں کا روز بہ روز شکار ہوتے رہیں تو پھر قصور کس کا کہلائے گا یہ غور کرنا عوام کا ہی کام ہے۔ 8 نومبر کو نوٹ بندی کے اعلان کے بعد بنکرس اور آر بی آئی کے درمیان ہاں اور نا کی جگل بندی نے ملک کی معیشت اور عوام کی جیبوں کو خالی خالی رکھ چھوڑا ہے۔ پٹرولیم اشیاء کی خریداری کو کیاش لیس بنانے کے اعلان کے بعد یہ بھی ترغیب دی گئی تھی کہ پٹرول کی خریداری کے وقت اگر ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کا استعمال کیا  جائے تو صارفین کو مراعات دیئے جائیں گے۔ چند دنوں بعد یہ خبر پھیلائی گئی کہ پٹرول پمپس نے ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈس قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ صارفین کے ساتھ احمقانہ معاملہ روا رکھنے والے فیصلوں نے اس معاشرہ کے صبرکا بھی امتحان لیا ہے۔ وزیراعظم مودی نے جب سے نوٹوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا، اس کے بعد سے پٹرول پمپس سرخیوں میں ہی رہے ہیں۔ اب بینکوں نے پٹرول کی کارڈ کے ذریعہ خریدی کرنے پر پٹرول پمپس پر ایک فیصد لیوی وصول کرنے کا فیصلہ کیا۔ جب پٹرول پمپس نے بینکوں کے اس فیصلہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈس قبول کرنے سے ہی انکار کردیا تو بینکرس کے ہوش ٹھکانے پر آ گئے۔ کیاش لیس لین دین کے منصوبوں پر ضرب پڑتا دیکھ کر اپنا ایک فصید لیوی وصولی کا فیصلہ مؤخر کردیا۔ پٹرول پمپس کے حوالے سے حکومت نے ہر گذرتے دن نت نئے فیصلے کئے ہیں۔ 18 نومبر کو اعلان کیا گیا تھا کہ جو صارفین پٹرول پمپس سے ڈیبٹ کارڈس  سوائپ کرکے پٹرول حاصل کریں گے انہیں 2000 روپئے کیاش دیا جائے گا۔ حکومت نے اعلان کیا تھا کہ نئی کرنسی کے حصول کے خواہاں شہری پٹرول پمپس پہنچ کر اپنا کارڈ سوئپ کرتے ہوئے 2000 روپئے حاصل کرسکتے ہیں یہ اعلان پانی کے بلبلہ کی طرح غائب ہوگیا۔ ایک اور اعلان میں کہا گیا تھا کہ 15 ڈسمبر تک پٹرول پمپس پر پرانے 1000 اور 500 روپئے کے نوٹس قبول کئے جائیں گے لیکن بعدازاں 500 روپئے کی نوٹ قبول  کرنے کی مدت 2 ڈسمبر کی نصف شب سے ہی ختم کردی گئی۔ 8 ڈسمبر کو وزیرفینانس ارون جیٹلی نے مرکزی حکومت کی پٹرولیم کمپنیوں سے پٹرول اور ڈیزل خریدنے پر 0.75 فیصد کا ڈسکاونٹ دینے کا اعلان کیا تھا۔ وزیرفینانس نے اسی ایک دن 11 اعلانات کئے تھے، بعد کے دنوں میں یہ اعلانات مؤخر کردیئے گئے۔ جب بینکرس نے نوٹ بندی کے 60 دن ہونے کے بعد پٹرول پمپس پر ایک فیصد لیوی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تو پٹرول پمپس نے یہ لیوی صارفین سے لینا چاہی لیکن صارفین پر بوجھ ڈالنے سے گریز کرتے ہوئے بینکوں نے اپنے فیصلہ کو واپس لے لیا، جس کے بعد پٹرولیم ڈیلرس نے بھی ڈیبٹ کارڈ اور کریڈیٹ کارڈ قبول نہ  کرنے کی دھمکی بھی واپس لے لی۔ ایسی معاشی اتھل پتھل اور ملک کے عوام کے صبروتحمل کا امتحان لینے کے پے در پے فیصلوں نے یہ ثابت کردیا ہیکہ یہ ملک نادانوں کے حوالے کرنے کے نتائج کیا ہوتے ہیں۔ ملک کی معاشی زندگی کو کیاش لیس بنانے کا منصوبہ رکھنے والی حکومت ازخود معاشی محاذ پر غلط فیصلوں کی بھول بھلیوں کا شکار ہورہی ہے تو پھر آنے والے برسوں میں ہر شہری کو کیاش لیس لین دین کی ترغیب دینے والی حکومت ایسی مجہول پالیسیوں کے ذریعہ صارفین اور بینکرس کے درمیان بھروسہ کی بنیاد کو کھوکھلا کررہی ہے۔ مارکٹ میں صارفین اور دوکانداروں کا تعلق لین دین اور بھروسہ کی کسوٹی پر ہوتا ہے جب حکومت نے مائیکرو کریڈٹ کا تصور پیدا کیا ہی تھا تو اسے بینکرس اور استفادہ کنندگان کے درمیان بھروسہ کو مضبوط کرنے والے اقدامات بھی کرنے چاہئے تھے۔ کیاش لیس معاشرہ کو کامیاب بنانے کیلئے ضروری ہیکہ حکومت ترغیبات میں اضافہ کرے ورنہ آنے والے دنوں میں یہ کیاش لیس لین دین کا معاملہ ڈراونا خواب بن جائے گا۔ گذشتہ 60 سے زائد دن سے عوامی نظروں کے سامنے جو منظر پیش ہوئے ہیں انہیں دیکھ کر اندازہ ہونا چاہئے کہ جی حضوری کے فن سے آشنا لوگ کامیاب ہیں۔

TOPPOPULARRECENT