Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / کیا آندھرائی باشندے آندھرا جائیں گے؟

کیا آندھرائی باشندے آندھرا جائیں گے؟

حیدرآباد۔ 25 ۔ ڈسمبر ( سیاست نیوز) امراوتی میں تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ طلبہ کو سہولتیں فراہم کرنے کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ کیا ماہ جون سے ریاست آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے خاندان امراوتی منتقل ہوجائیں گے ؟ تعلیمی سال 2016-17 ء سے زیر تعمیر شہر امراوتی میں طلبہ کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے تیز رفتار اقدامات کئے جانے لگے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ امراوتی میں اعلیٰ معیاری تعلیمی سہولتوں کی فراہمی پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کے بعد عہدیداروں نے اسکولوں کیلئے اجازت ناموں کی اجرائی کا عمل شروع کردیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ مستقبل میں درپیش چیلنجس سے نمٹنے کی منصوبہ بندی کی جانے لگی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ آئندہ تعلیمی سال کے آغاز کیلئے اب جبکہ صرف 6 ماہ کا وقت رہ گیا ہے ۔ ایسی صورت میں محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو متحرک کئے جانے سے تعلیمی سال کے آغاز پر بہتر نتائج برآمد ہونے کی توقع ہے ۔ شہر حیدرآباد میں موجود آندھرائی شہری ان اطلاعات سے پس و پیش میں مبتلا ہوچکے ہیں لیکن ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آندھرائی شہری بالخصوص ملازمین آئندہ تعلیمی سال کا آغاز امراوتی میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ماہ فروری کے اواخر تک یہ نہیں کہا جاسکتا کہ امراوتی میں تعلیمی اداروں کے آغاز پر بہترین نتائج برآمد ہوں گے اور تعلیمی اداروں میں داخلہ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوگا چونکہ ماہ فروری میں سی بی ایس سی اسکولوں میں داخلوں کا عمل مکمل ہوجاتا ہے ۔ شہر حیدرآباد سے کئی طلبہ جو آندھرا سے تعلق رکھنے والے وہ امراوتی اپنے داخلے منتقل کروانے کے متعلق منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ضلع کرشنا کے ڈی ای او نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جاریہ تعلیمی سال یعنی 2015-16 کے دوران زائد از 10,000 داخلوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امراوتی میں تعلیمی سہولتوں کی فراہمی کے آ غاز کے ساتھ مزید داخلے بڑھیں گے۔ چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ ریاست کے صدر مقام امراوتی میں فی الفور تعلیمی سہولتوں کے آغاز پر توجہ مرکوز کی جائے تاکہ حیدرآباد یا تلنگانہ کے دیگر اضلاع سے آندھراپردیش منتقل ہونے والے ملازمین کے بچوں کی تعلیم کے علاوہ شہریوں کو بہتر  اور اعلیٰ تعلیم کے حصول کے مواقع دستیاب رہ سکیں۔

TOPPOPULARRECENT