Sunday , September 24 2017
Home / مضامین / کیا اب ہندوستان میں بھی شاعری پر پابندی لگے گی ؟

کیا اب ہندوستان میں بھی شاعری پر پابندی لگے گی ؟

ظفر آغا
شنکر شاد مشاعرہ دہلی کی تہذیبی روایت کا ایک ایسا سنگ میل ہے ، جو برسہا برس سے ہر سال ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کا جشن اردو مشاعرہ کے ذریعہ مناتا ہے ۔ دراصل اس مشاعرہ کی بنیاد دہلی کے ایک دولت مند ہندو گھرانے نے اپنے اردو شاعر بھائی جن کا نام شنکر اور تخلص شاد تھا ،کے نام پر رکھی تھی ۔ 1950 کی دہائی سے لگاتار یہ مشاعرہ دہلی میں اس قدر شان و شوکت سے ہوتا تھا کہ اردو شاعری کے دیوانے ہر سال اس کا انتظار کرتے تھے ۔ بیچ میں کچھ عرصہ قبل یہ مشاعرہ بند ہوگیا تھا۔ لیکن چند برسوں قبل اس مشاعرہ کو اسی خاندان کے افراد نے پھر شروع کردیا ۔ اور ایک بار پھر شنکر شاد مشاعرہ دہلی کے تہذیبی افق پر چمک اٹھا اور کیوں نہ یہ مشاعرہ چمکتا ؟ جوش ملیح آبادی ، فراق گورکھپوری ، علی سردار جعفری ، فیض احمد فیض جیسے بلند پایہ شاعروں سے لے کر آج کے وسیم بریلوی اور جاوید اختر تک ہر اردو کے بڑے شاعر نے اس مشاعرے میں شرکت کی ۔
چنانچہ اپنی تمام قدیمی روایات کے ساتھ اس برس بھی یہ مشاعرہ پچھلے ہفتے دہلی کے ماڈرن اسکول میں ہوا ۔ اردو کے تمام نامی گرامی شعراء اس مشاعرے میں موجود تھے ۔ مشاعرہ بڑا کامیاب رہا ۔ وہ لوگ جو مشاعرے میں موجود تھے ، وہ وہاں کی شاعری ابھی بھولے بھی نہ تھے کہ زی نیوز چینل پر اس مشاعرہ سے متعلق ایک پروگرام دیکھ کر چونک اٹھے ۔ مشاعرے کے دو تین دن بعد یکایک شنکر شاد مشاعرے میں ایک شاعر گوہر رضا کی پڑھی جانے والی نظم پر زی نیوز نے ایک خصوصی پروگرام پیش کیا ۔ گوہر رضا پچھلے چند برسوں میں اردو شاعری کی دنیا میں ایک منفرد آواز بن کر ابھرے ہیں ، جن کی شاعری میں فیض اور ساحر کاانقلابی رنگ صاف جھلکتا ہے ۔ دراصل گوہر ایک مشہور سائنسداں بھی ہیں ، جو اردو شاعری کی قدیم انقلابی روایت کو بخوبی زندہ رکھے ہوئے ہیں اور ان دنوں اپنے منفرد انقلابی لب و لہجے کے سبب مشاعروں کی زینت بن گئے ہیں ۔ چنانچہ شنکر شاد مشاعرہ میں بھی انھوں نے اسی انداز کی ایک تازہ ترین نظم پڑھی ، جو حال ہی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور اخلاق احمد (دادری)کے واقعات سے پیدا ہونے والے ماحول کی عکاسی کرتے ہوئے حالات حاضرہ پر تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ قاری کے لئے اس نظم کا رقم کرنا اس لئے لازمی ہے کہ اس نظم کو پڑھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ زی نیوز کو اس نظم پر کیوں اعتراض ہوا ۔ گوہر رضا کی نظم یوں ہے:۔

دھرم میں لپٹی ، وطن پرستی کیا کیا سوانگ رچائے گی
مسلی کلیاں ، جھُلسا گلشن ، زرد خزاں دکھائے گی
یورپ جس وحشت سے اب تک سہما سہما رہتا ہے
خطرہ ہے وہ وحشت میرے ، ملک میں آگ لگائے گی
جرمن گیس کدوں سے اب تک خون کی بدبو آتی ہے
اندھی وطن پرستی ہم کو ، اس رستے لے جائے گی
اندھے کنویں میں جھوٹ کی ناؤ ، تیز چلی تھی مان لیا
لیکن باہر روشن دنیا ، تم سے سچ بُلوائے گی
نفرت میں جو پلے بڑھے ہیں ، نفرت میں جو کھیلے ہیں
نفرت دیکھو آگے آگے ، تم سے کیا کروائے گی
فنکاروں سے پوچھ رہے ہو ، کیوں لوٹائے ہیں سمّان
پوچھو کتنے چپ بیٹھے ہیں ، شرم انھیں کب آئے گی
یہ مت کھاؤ ، وہ مت پہنو ، عشق تو بالکل کرنا مت
دیش دروہ کی چھاپ تمہارے ، اوپر بھی لگ جائے گی
یہ موت بھولو اگلی نسلیں ، جلتا شعلہ ہوتی ہیں
آگ کردوگے چنگاری ، دامن تک تو آئے گی
بس شنکر شاد مشاعرہ میں اس نظم کو پڑھنے کے جرم میں زی نیوز چینل نے گوہر رضا کو ایک خصوصی پروگرام کے ذریعہ ’’دیش دروہی‘‘ ٹھہرادیا ۔ جی ہاں ، دو روز تک لگاتار زی نیوز اپنے ایک خصوصی پروگرام کے ذریعہ شنکر شاد مشاعرہ میں پڑھی جانے والی گوہر رضا کی اس نظم پر آگ اگلتا رہا اور گوہر کے خلاف شور مچاتا رہا ۔ کیا اب اس ملک میں پاکستان کی طرح شاعری پر بھی پابندی لگے گی ؟ یہ تو پاکستان کا رواج تھا کہ جہاں فیض احمد فیض جیسے شاعر کو انقلابی شاعری کے الزام میں جیل جانا پڑا تھا ۔ ہم ہندوستانیوں کو اپنی آزادی پر ناز تھا اور آج بھی ہے ۔ یہاں شاعر تو کیا ایک عام آدمی بھی آزاد ہے ۔ لیکن زی نیوز سے یہ برداشت نہیں ہورہا ہے ، تب ہی تو گوہر رضا جیسے حساس شاعر کی آواز بند کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

شنکر شاد مشاعرہ میں ایک انقلابی نظم پڑھنے کی جو سزا زی نیوز نے گوہر رضا پر ’دیش دروھی‘ کا  لیبل لگا کر دی ہے ، وہ محض گوہر رضا پر ہی نہیں بلکہ پوری اردو شاعری پر ایک حملہ ہے ۔ اور یہ حملہ اردو مشاعرے پر ہے کہ جہاں نظام کے خلاف آواز اٹھتی چلی آرہی ہے ۔ یہ حملہ اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب پر ہے جو آزادی اور انصاف کی روایت میں ڈوبی ہوئی تہذیب ہے ۔ یہ ایک انتہائی خطرناک پہل ہے ۔ اگر اس ملک میں ایک شاعر کی آواز کو کچل دیا گیا تو اس ملک کا ضمیر ہی کچل جائے گا ۔ اس لئے زی نیوز کو گوہر رضا کے خلاف کئے جانے والے حملہ کی سزا ملنی چاہئے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT