Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / کیا اسرائیل پر حماس کا موقف نرم ہوگا؟

کیا اسرائیل پر حماس کا موقف نرم ہوگا؟

 

عقیل احمد
فلسطینی اسلام پسند گروپ حماس اسرائیل کی تباہی کے اپنے دیرینہ مطالبے سے دستبردار ہورہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اخوان المسلمین کے ساتھ اپنی وابستگی کو بھی ترک کرتے ہوئے نئی پالیسی دستاویز پیش کرچکا ہے۔ حماس کے اقدام کا مقصد مغرب، خلیجی عرب مملکتوں اور مصر کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا ہے، جو اخوان کو دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔ کئی مغربی ممالک حماس کو تشدد کی مذمت کرنے، اسرائیل کے حق وجود کو تسلیم کرنے اور موجودہ عبوری اسرائیلی۔ فلسطینی امن معاہدوں کو قبول کرنے میں ناکامی کے سبب دہشت گرد گروپ کے زمرہ میں رکھتے ہیں۔ اسرائیل نے اس دستاویز کو مسترد کرتے ہوئے اسے حماس کی جانب سے دنیا کو دھوکہ دینے کی کوشش قرار دیا کہ وہ زیادہ اعتدال پسند گروپ بن رہا ہے۔
خلیج عرب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس جس کا غزہ پٹی پر 2007ء سے کنٹرول ہے، اپنی دستاویز کے ذریعہ بیان کررہا ہے کہ وہ 1967ء والی سرحدوں سے عبوری فلسطینی مملکت پر متفق ہے، جہاں اسرائیل نے عرب مملکتوں کے ساتھ جنگ میں غزہ، مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم پر قبضہ کرلیا تھا۔ اسرائیل غزہ سے 2005ء میں دستبردار ہوگیا۔ 1967ء کی سرحدوں سے غزہ، مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم کا احاطہ کرتے ہوئے مستقبل میں مملکت کا حصول حماس کی بڑی سیاسی حریف فتح تحریک کا مقصد ہے جس کی قیادت صدر محمود عباس کرتے ہیں۔ اُن کی فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے ساتھ امن بات چیت میں اسی بنیاد پر شامل ہوئی، ویسے آخری راؤنڈ جو امریکی ثالثی میں ہوا، تین سال قبل بُری طرح ناکام ہوا تھا۔
حماس کے نظرثانی شدہ سیاسی دستاویز میں بالواسطہ طور پر یہی اعلان ہے کہ وہ اسرائیل کے حق وجود کو ہنوز مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف ’’مسلح جدوجہد‘‘ کی تائید کرتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو کے ترجمان ڈیوڈ کیئس نے کہا کہ تنظیم حماس دنیا کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہی ہے لیکن اسے کامیابی نہیں ملے گی۔ انھوں نے دہشت گردی کی سرنگیں کھودے اور اسرائیلی شہریوں پر ہزاروں اور ہزاروں میزائیل داغے ہیں۔ یہی حقیقی حماس ہے۔ اس نے 2007ء سے اسرائیل کے ساتھ تین جنگیں لڑی ہیں اور اس نے تین دہے قبل اپنی تشکیل کے بعد سے اسرائیل اور اسرائیلی مقبوضہ علاقوں میں سینکڑوں مسلح حملے کئے ہیں۔
حماس کے 1988ء والے چارٹر میں اسرائیل کی تباہی پر زور دیا گیا تھا اور وہ اس اسلام پسند گروپ کا اقرارنامہ مانا جاتا ہے۔ تاہم ، نئی پالیسی دستاویز کے اعلان کے بعد مصر اور خلیجی عرب مملکتوں سے فوری کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔ عرب ذرائع نے کہا کہ حماس دستاویز کا ربط کسی نہ کسی طرح محمود عباس کے دورۂ واشنگٹن سے ہے کیونکہ ڈونالڈ ٹرمپ نظم و نسق اسرائیلی۔ فلسطینی امن کیلئے تجدیدی جہد کررہا ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ نظرثانی شدہ دستاویز حماس کو مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی لانے اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن جس کی سربراہی بھی اب محمود عباس کررہے ہیں، اس کے ساتھ مصالحتی معاہدہ کیلئے راہ ہموار کرے گی۔
حماس کا چارٹر جاری ہونے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اس فلسطینی تنظیم نے اپنی کسی پالیسی کا تحریری اعلان کیا ہے۔اس دستاویز میں حماس نے پہلی بار 1967ء سے قبل کی سرحدوں کے مطابق عبوری فلسطینی مملکت کے قیام پر رضا مندی ظاہر کی ہے مگر اس میں اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا گیا۔پالیسی دستاویز میں کہا گیا ہے کہ حماس کی جدوجہد یہودیوں کے خلاف نہیں بلکہ ’’قابض صیہونی جارحیت پسندوں‘‘ کے خلاف ہے۔
سنہ 1988 میں جاری کردہ حماس کے چارٹر کو یہودی مخالف خیالات پر مبنی ہونے کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ غزہ پٹی میں برسراقتدار حماس کی اس پالیسی کے اعلان کو تنظیم کی جانب سے اپنی حمایت میں اضافے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حماس کے ترجمان فوزی برہون کا کہنا ہے کہ اس دستاویز سے انھیں بیرونی دنیا سے جڑنے کا موقع ملے گا۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کیلئے ہمارا پیغام ہے کہ حماس کٹرپسند نہیں ہے۔ ’’ہم حقیقت پسند اور مہذب ہیں۔ ہم یہودیوں سے نقرت نہیں کرتے۔ ہم صرف اُن سے لڑتے ہیں جو ہماری زمینوں پر قبضہ کرتے ہیں اور ہمارے لوگوں کو مارتے ہیں۔‘‘
حماس کے مطابق یہ نئی دستاویز ان کے چارٹر کا نعم البدل نہیں ہے لیکن اس پالیسی دستاویز کے تحت وہ 1967ء میں قائم کی گئی سرحد کو تسلیم کرتے ہوئے فلسطین کی آزادی کے خواہشمند ہیں۔ اس سے پہلے حماس نے کبھی بھی سرحدوں کے معاملے پر لچک نہیں دکھائی تھی۔ حماس کو یا پھر اس کے عسکری ونگ کو اسرائیل، امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ سمیت دیگر متعدد ممالک دہشت گرد تنظیم تصور کرتے ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ترجمان نے کہا کہ حماس دنیا کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہی ہے مگر وہ اس میں کامیاب نہیں ہوگی۔
حماس نے ماضی میں کسی بھی قسم کے جغرافیہ سمجھوتے کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ اس نئی پالیسی دستاویز میں حماس نے عبوری فلسطینی مملکت کے قیام پر رضامندی تو ظاہر کی ہے۔ تاہم اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس دستاویز میں حماس نے اپنی سرپرست جماعت اخوان المسلمون کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا ہے جس پر مصر میں پابندی عائد ہے۔ حال ہی میں حماس اور مصر کے تعلقات میں بہتری آئی ہے اور حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ نے اس سال مصر کا دورہ بھی کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT