Friday , August 18 2017
Home / دنیا / کیا امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل ہوگا؟

کیا امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل ہوگا؟

واشنگٹن۔ 21 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں اسرائیلی سفیر نے امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے سے متعلق منتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے وعدے کی تائید کی ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کی جانب سے اس ارادے کا اظہار طویل عرصے سے جاری امریکی پالیسی میں بڑی تبدیلی ہے۔اسرائیلی سفیر رون ڈیرمر کا یہ بیان ٹرمپ کی جانب سے ڈیوڈ فریڈمین کو اسرائیل میں آئندہ امریکی سفیر کے طور پر منتخب کرنے کے تقریباً ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ فریڈمین اسرائیل کے بڑے حامی ہونے کے ساتھ ساتھ یہودی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے اور امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے منتقل کرنے کی تائید کرتے ہیں۔اسرائیلی سفارت خانے میں منعقد ایک تقریب میں ڈیرمر کا کہنا تھا کہ امریکی سفارتی مشن کی منتقلی “امن کی جانب ایک بڑا قدم ہوگی” اور عرب دنیا کو ہر گز غضب ناک نہیں کرے گی۔اگر ڈونالڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے جانے والے اس وعدے پر عمل درآمد کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں کئی دہائیوں سے جاری امریکی پالیسی ختم ہوجائے گی اور اسلامی دنیا کے غم و غصے اور بین الاقوامی سطح پر مذمت کا سامنا ہوگا۔اس سے قبل ایک اہم اور نمایاں فلسطینی ذمہ دار صائب عریقات نے جمعہ کے روز خبردار کیا تھا کہ امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی اسرائیل کے ساتھ امن کے کسی بھی امکان کو تباہ کر دے گی۔امریکی تائید سے فلسطینی ریاست کے قیام کے حوالے سے امن بات چیت 2014 میں ناکام ہو گئی تھی۔

TOPPOPULARRECENT