Friday , September 22 2017
Home / مضامین / کیا بڑے کرنسی نوٹوں پر مرکز کا امتناع قانونی ہے ؟

کیا بڑے کرنسی نوٹوں پر مرکز کا امتناع قانونی ہے ؟

دانش قادری
بڑے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کی قانونی حیثیت کو سیاسی اور قانونی حلقوں میں چیلنج کیا جا رہا ہے ۔ مدراس ہائیکورٹ نے ایک درخواست کو اس سلسلہ میںمسترد کردیا ہے اور یہ کہا ہے کہ بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنا ہندوستان کیلئے بہتر ہے ۔ مفاد عامہ کی عرضی کرناٹک اور بمبمئی ہائیکورٹس میں بھی دائر کی گئی ہیں اور انہیں بھی مذکورہ بالا بنیادوں پر مسترد کردیا گیا ہے ۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ حالانکہ مرکزی حکومت کے حکمنامہ پر حکم التوا جاری نہیں کریگا تاہم اس نے مرکز سے کہا کہ وہ اپنا جواب داخل کرے ۔ عدالت نے مرکز کو نوٹس بھی جاری نہیں کی ہے ۔ اس نے حکومت سے کہا کہ وہ عوام کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیل بتائے ۔ ہائیکورٹس اور سپریم کورٹ کے فیصلے پر بھی سوال کئے جا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ جب اقتصادی اور معاشی پالیسی کا مسئلہ آجاتا ہے تو ان کی سماعت سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ یہ استدلال پیش کیا جا رہا ہے کہ سیاسی عاملہ اکثر و بیشتر اپنے سیاسی اور انتخابی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرتی ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ وہ منصفانہ اور آزادانہ طور پر فیصلے نہ کرے ۔ تاہم اگر حکومت کی قانونی ونگ سے اقدامات کئے جائیں تو اس سے نہ صرف قانون ساز ایوان میں نہ صرف مباحث کا موقع ملے گا بلکہ ایسے فیصلے کسی انتخابی مفاد کے عنصر سے بھی پاک ہوسکتے ہیں۔
اس موقع پر یہ ریکارڈ کرنا ضروری ہے کہ نوٹ بندی قانونی طریقہ سے 1978 میں کی گئی تھی جب بڑے کرنسی نوٹوں کا قانون نافذ ہوا تھا ۔ اس قانون کی دستوری حیثیت کو جینتی لال رتن چند شاہ بمقابلہ ریزرو بینک آف انڈیا میں چیلنج کیا گیا تھا اور یہ کہا گیا تھا کہ یہ فیصلہ در اصل تجارت اور کاروبار کو آگے بڑھانے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں یہ لازمی ہوجاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے کسی معاوضہ کے بغیر جائیداد خریدی جائے ۔ سپریم کورٹ کی دستوری بنچ نے اس استدلال کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن منسوخ کرنے کا قانون وسیع تر عوامی مفاد میں ہے ۔ غیر محسوب دولت اور پیسہ پر قابو پانا کسی بھی پہلو سے درخواست گذاروں کے مفادات کی خلاف ورزی میں نہیں ہے ۔
قانونی حیثیت : ریزرو بینک آف انڈیا ایکٹ کے دفعہ 26 کے ذیلی دفعہ 2 کے مطابق مرکزی حکومت کو یہ اختیار ہے کہ مرکزی بورڈ کی سفارش پر کسی بھی مالیت کی کرنسی کو غیر قانونی قرار دینے کا حق حاصل ہے ۔ مرکزی حکومت نے اسی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے 8 نومبر کو 500 اور 1000 روپئے کے کرنسی نوٹوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ۔ یہ فیصلہ غیر محسوب دولت کی لعنت پر قابو پانے کیلئے کیا گیا تھا ۔ اس مسئلہ پر جو قانون ہے وہ ہوسکتا ہے کہ موثر اور بہتر ہو لیکن ان حالات میں عدالتیں یہ نہیں دیکھنا چاہتیں کہ کیا اچھا ہے ‘ کیا کیا جانا چاہئے بلکہ وہ یہ دیکھ رہی ہیں کہ یہ قانونی اور دستوری اعتبار سے درست اقدام ہے ۔ اگر کوئی معاشی پالیسی شہریوں کے بنیادی حقوق کو سلب کرتی ہے تو کس حد تک عدالتیں اس میں مداخلت کرسکتی ہیں ؟ ۔ سپریم کورٹ نے بالکو ملازمین بمقابلہ انڈین یونین مقدمہ میں اس پر وضاحت کردی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ ایک جمہوریت میں کسی بھی منتخبہ حکومت کا یہ اختیار تمیزی ہے کہ وہ اپنی خود کی پالیسیوں پر عمل کرے ۔ حکومتوں کی تبدیلی کے نتیجہ میں معاشی پالیسیوں میں تبدیلی ہوجاتی ہے یا پھر توجہ بدل جاتی ہے ۔ اس طرح کی کوئی تبدیلی کچھ مفادات حاصلہ پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے ۔ جب تک کوئی غیر قانونی کام نہ کیا جائے پالیسی پر عمل آوری یا پھر دوسرے فیصلوں کی وجہ سے ہونے والی تبدیلیوں میں عدالتیں مداخلت نہیںکرسکتیں۔ کسی بھی طرح کی معاشی پالیسیوں میں عدالتوں کی دانشمندی اور مشورہ اس وقت تک لاگو نہیں ہوسکتا جب تک یہ واضح نہ ہو جائے کہ یہ پالیسیاں اور فیصلے کسی بھی طرح سے قانون اور دستور کی مخالفت کرتی ہوں۔ دوسرے الفاظ میں یہ کام عدالتوں کا نہیں ہے کہ مختلف معاشی پالیسیوں کے میرٹ کو جانچے یا پرکھے اور یہ غور کرے کہ اس میں دا نشمدانہ اقدام کیا ہے اور کیا بہتر ہوسکتا ہے ۔ دوسرے مقدمات میں بھی عدالت نے عاملہ اور مقننہ کے امور میں مداخلت سے گریز کیا ہے ۔ ایسے میں جب تک کوئی پالیسی غیر قانونی اور غیر دستوری نہ ہو عدالتوں کو اس میں مداخلت نہیں کرنا چاہئے ۔
ایک جمہوریت میں حکومت عوام کی جانب سے منتخبہ نمائندوں کی جانب سے تشکیل دی جاتی ہے ۔ یہ فیصلہ کرنا ان کا کام ہے کہ عوام کی بہتری کو یقینی بنانے کیلئے کیا کچھ کیا جانا چاہئے ۔ اگر حکومت اپنی دانش میں یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنا ملک کے مفاد میں ہے اور  بادی النظر میں ایسا دکھائی دیتا ہے تو عدالتیں بیٹھ کر اس پر کوئی فیصلہ نہیںکرتیں۔ برائی کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے جو اقدام عاملہ کی جانب سے اس کے تدارک کیلئے کیا جاتا ہے اس کے تعلق سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ عوامی مقصد کیلئے نہیں کیا گیا ہے ۔ وسیع تر عوامی مفاد میں کیا گیا فیصلہ صوابدید پر کیا جانے والا فیصلہ نہیں کہا جاسکتا ۔ آزادی تجارت و کاروبار کی خلاف ورزی کا جو استدلال ہے وہ بھی غلط تاویل کے مترادف ہے کیونکہ اس میں بھی یہ گنجائش موجد ہے کہ وسیع تر عوامی مفاد میں اس پر تحدیدات عائد ہوسکتی ہیں۔ ایک استدلال یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کسی بھی شخص کو قانونی اختیار کے بغیر اس کی پراپرٹی سے محروم نہیںکیا جاسکتا ۔ یہ استدلال بھی قبول نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس فیصلے میں کسی ملکیت سے محروم نہیں کیا جارہا ہے ۔ تمام شہریوں کی محسوب دولت حسب سابق برقرار رہے گی ۔ شہری صرف اس دولت سے محروم ہوسکتے ہیں جو غیر محسوب ہو اور جو قانونی طریقہ سے حاصل نہیں کی گئی ہو۔ کرنسی کا چلن بند کئے جانے سے ہوسکتا ہے کہ بدعنوان سیاستدانوں ‘ وکلا ‘ ڈاکٹرس ‘ تاجروں کاروباریوں ‘ مندروں ‘ مساجد ‘ اکھاڑوں ‘ خانگی یونیورسٹیز اور اسکولس وغیرہ کیلئے مشکلات پیدا ہوگئی ہوں جن کے پاس غیر محسوب دولت ہو ۔ تاہم ان کے پاس اس غیر محسوب دولت کو باقاعدہ بنانے کیلئے کافی وقت بھی ہے ۔ کوئی بھی اس امکان سے انکار نہیں کرسکتا کہ پچھلے دروازے سے اس بار بھی کچھ معاملتیں ہو رہی ہوں لیکن یہ بہت کم ہونگی ۔ بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن اچانک بند کئے جانے سے غیرقانونی طریقوں سے تجارت کرنے والے تاجروں کیلئے مشکلات ضرور پیدا ہوگئی ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بالکل پہلی مرتبہ دیانتدار اور جائز دولت رکھنے والوں میں اطمینان کی صورت پیدا ہوئی ہے ۔ کیا دیانتداری سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد یہ ذہنی اطمینان کے حقدار نہیں ہیں ؟ ۔ دیانتداری کو برقرار رکھنے اور ٹیکس دہندگان کی حوصلہ افزائی کرنے حکومت کو وقفہ وقفہ سے اس طرح کے سخت گیر اقدامات کرنا ضروری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT