Tuesday , May 23 2017
Home / آپ کے سوال / کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھا

کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھا

سوال :    میں نے سنا کہ حضور کا نام آپ سے پہلے کسی کا نہیں رکھا گیا تھا ۔ وہ کونسا نام پاک ہے ۔ ونیز اس کے معنی و مفہوم کیا ہے ۔ اس پر تفصیلی روشنی ڈالیں تو مہربانی ہوگی ؟
عبدالودودقادری،صنعت نگر
جواب :   حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اسمائے گرامی محمدؐ اور احمدؐ کا مادہ حمد ہے اور حمد کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کے اخلاق حسنہ اوصاف حمیدہ ، کمالات جمیلہ اور فضائل و محاسن کو محبت ، عقیدت اور عظمت کے ساتھ بیان کیا جائے ۔ اسم پاک محمدؐ مصدر تحمید (باب تفعیل) سے مشتق ہے اور اس باب کی خصوصیت مبالغہ اور تکرار ہے ۔ لفظ محمد اسی مصدر سے اسم مفعول ہے اور اس سے مقصود وہ ذات بابرکات ہے جس کے حقیقی کمالات ، ذاتی صفات اور اصلی محامد کو عقیدت و محبت کے ستاھ بکثرت اور بار بار بیان کیا جائے ۔لفظ محمد میں یہ مفہوم بھی شامل ہے کہ وہ ذات ستودہ صفات جس میں خصال محمودہ اور اوصاف حمیدہ بدرجہ کمال اور بکثرت موجود ہوں ۔ اسی طرح احمد اسم تفضیل کا صیغہ ہے ۔ بعض اہل علم کے نزدیک یہ اسم فاعل کے معنی میں ہے اور بعض کے نزدیک اسم مفعول کے معنی میں اسم فاعل کی صورت میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ مخلوق میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کرنے والا اور مفعول کی صورت میں سب سے زیادہ تعریف کیا گیا اور سراہا گیا۔ (الروض العرب اور تاج العروس ، بذیل مادہ) ۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے زمانہ جاہلیت میں صرف چند اشخاص ایسے ملتے ہیں جن کا نام محمد تھا ۔ لسان العرب اور تاج العروس میں سات آدمیوں کے نام ضبط کئے ہیں۔ ان لوگوں کے والدین نے اہل کتاب سے یہ سن کر کہ جزیرۃ العرب میں ایک نبی ظاہر ہونے والے ہیں ان کا نام محمد ہوگا ، اس شرف کو حاصل کرنے کے لئے یہ نام رکھ لیا۔ البتہ کسی نے احمد نام نہیں رکھا۔ مشیئت الٰہی دیکھئے کہ محمد نام کے ان لوگوں میں سے کسی نے بھی نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا ۔ فتح الباری 7 : 404 ، 405 ) حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اسم گرامی احمد قرآن مجید میں صرف ایک مر تبہ مذکور ہے  اور وہ بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی پیشگوئی کے طور پر : و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد (61 (الصف) : 6 ) ، یعنی میں (عیسی) اس پیغمبر کی بشارت سناتا ہوں جو میرے بعد آئیں گے اور جن کا نام احمد ہوگا ۔ آپؐ کا اسم گرامی محمدؐ چار مرتبہ قرآن مجید میں آیا ہے اور ہر مرتبہ آپؐ کے منصب رسالت کے سیاق و سباق میں : (۱) و ما محمد الا رسول (۳ (آل عمران ) : 144 ) ، یعنی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو اللہ کے رسول ہیں ۔ (۲) ما کان محمد ابا احد من رجالکم و لکن رسول اللہ و خاتم النبین (33 (الاحزاب) : 40 ) ، یعنی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور انبیاء (کی نبوت) کی مہر یعنی اس کو ختم کردینے والے ہیں، (۳) والذین اٰمنو وعملو الصلحت وامنوا بما نزل علی محمد و ھو الحق من ربھم ۔ کفر عنھم سیاتھم و اصلح بالھم (47 (محمد) یعنی اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور جو  (کتاب) محمدؐ پر نازل ہوئی اسے مانتے رہے اور وہ ان کے رب کی طرف سے برحق ہے ان سے ان کے گناہ معاف کردئے اور ان کی حالت سنوار دی۔ (۴) محمد رسول اللہ (48 (الفتح) : 29 ) ، عینی محمد اللہ کے رسول ہیں۔ ان چاروں آیات میں اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام لے کر آپؐ کی رسالت و نبوت کے منصب کو واضح طور پر بیان فرمایا ہے تاکہ کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اسی مناسبت کی بناء پر آپؐ نے اور آپؐ کی امت نے دنیا کی تمام قوموں اور امتوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ستائش کی اور قیامت تک کرتی رہے گی۔ ہر کام کے آغاز و اختتام پر اللہ تعالیٰ کی تعریف اور حمد کا حکم دیا گیا اور امت کا ہر فرد یہ فریضہ انجام دے رہا ہے ۔ بالکل اسی طرح حضور پاک صلی اللہ علہ و آلہ وسلم کے محامد و محاسن اور خصال محمودہ، اوصاف حمیدہ اور فضائل و کمالات کا بیان اور ذکر جس کثرت سے کیا گیا ہے اور ابد تک کیا جاتا رہے گا اس کی مثال بھی دنیا میں نہیں مل سکتی۔
تہجد کا وقت
سوال :   نماز تہجد کا ابتدائی اور انتہائی وقت کیا ہے ؟ کیا نماز فجر کے ابتدائی وقت سے دس (10) منٹ پہلے نماز تہجد ادا کی جاسکتی ہے اور کیا نماز تہجد کو سوکر اٹھنا ضروری ہے ؟
مدنی پاشاہ، مراد نگر
جواب :  تہجد کا وقت عشاء کی نماز کے بعد فجر سے پہلے تک ہے، بہتر یہ ہے کہ عشاء کی نماز پڑھ کر سوجائے پھر آدھی رات کے بعد اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھے اور اس کے بعد وتر پڑھے ۔ بشرطیکہ جاگنے کا اطمینان ہو ورنہ وتر کی نماز عشاء کے ساتھ پڑھ لے۔ پس فجر کے ابتدائی وقت سے دس منٹ قبل نماز تہجد ادا کی جاسکتی ہے ۔
فرضک ے بعد دعاء کا طریقہ
سوال :  فرض نمازوں کے بعد امام کی دعا جہراً (بلند آواز) سے ہو یا سراً ؟ کیونکہ شہر کی بعض مساجد میں امام صاحبان دعاء اس قدر آہستہ کرتے ہیں کہ مصلیوں کو کچھ بھی سنائی نہیں دیتا جبکہ قدیم سے ایسا عمل نہیں تھا۔ ظہر ، مغرب ، عشاء کے فرضوں کے بعد طویل دعاء کا کیا حکم ہے۔ نیز فجر ، عصر ، جمعہ وغیرہ میں ہمارے شہر کی مساجد میں فاتحہ پڑھی جاتی ہے، اس کو بھی بعض حضرات منع کرتے ہیں۔ شرعاً کیا حکم ہے ؟
محمد شبلی، کاروان
جواب :  اللہ سبحانہ کے ارشاد ادعونی استجب لکم ۔ فرمان رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم ۔ الدعا منح العبادہ سے دعاء کی اہمیت و فضیلت اور اس کا امر محمود و مستحسن ہونا ظاہر ہے ۔ انفرادی دعاء آہستہ اولی ہے  جہراً جائز ہے ۔ اجتماعی دعاء جہراً مشروع ہے کہ امام دعاء جہر سے کرے اور مقتدی آہستہ آمین کہیں۔ حضرت رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے اجتماعاً جو ادعیہ ثابت ہیں وہ جہر ہی سے ہیں تب ہی تو ادعیہ مبارکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے ہم تک پہونچے ہیں جو بکثرت کتب احادیث میں مروی ہیں۔ اگر وہ جہراً (آہستہ) نہ ہوں جیسے موجودہ دور میں بعض حضرات کا استدلال ہے تو بغیر سنے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کس طرح روایت فرماتے، حضرت امام سرخسی رحمتہ اللہ حنفی مذہب کے جلیل القدر امام اور مسائل ظاہر الروایت کے شارح ہیں۔ مبسوط سرخسی کے مؤلف ہیں جو حضرت امام محمد رحمتہ اللہ کے کتب ستہ کی مختصر شرح ہے۔ اس شرح میں ہے کہ حضرت امام ابو یوسف رحمتہ اللہ نے بیرون نماز دعاء پرقیاس فرماکر یہ بیان فرمایا ہے۔ امام قنوت فجر کو جہراً پڑھے اور مقتدی آہستہ آمین کہیں (چونکہ قنوت فجر کی بعض خاص حالات میں عندالاحناف اجازت ہے) حضرت امام ابو یوسف رحمتہ اللہ علیہ کا قنوت فجر کو بیرون نماز دعاء پر قیاس فرمانا بیرون نماز بالجہر دعاء کی مشروعیت پر دلالت کرتا ہے۔ و عن ابی یوسف رحمتہ اللہ تعالی ان الامام یجھرہ والقوم یومنون علی القیاس علی الدعاء خارج الصلاۃ (مبسوط السرخی جلد یکم ص : 166 ) دعاء ہو کہ قرات قرآن یا ذکر و تسبیح وغیرہ میں چیخنا چلانا یقیناً منع ہے کہ جن کے بارے میں نصوص وارد ہیں۔ ان کو پیش کر کے جہر سے منع کرنا اور دعاء میں اخفاء (آہستہ آواز) کی ترغیب دینا غیر صحیح ہے ۔ جن فرائض کے بعد سنن ہیں جیسے کہ ظہر ، مغرب، عشاء امام کو طویل دعاء سے احتراز کرنا چاہئے کیونکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے فرض و سنن کے درمیان ’’ اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام کے بقدر ہی توقف ثابت ہے اس لئے عندالاحناف مذکورہ مقدار سے زائد توقف مکروہ اور سنت کے ثواب میں کمی کا باعث ہے ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد اول ص : 77 میں ہے ۔ و فی الحجۃ اذا فرغ من الظھر والمغرب والعشاء یشرع فی السنۃ ولا یشتغل بادعیۃ طویلۃ کذا فی التاتر خانیہ مبسوط الرخسی جلد اول ص : 28 میں ہے ۔
اذا سلم الامام ففی الفجر والعصر یعقد فی مکانہ یشغل بالدعاء لانہ لا تطوع بعد ھما … واما الظھر والمغرب والعشاء یکرہ لہ المکث قاعدا لانہ المندوب الی النفل والسنن الخ درالمختار ص : 391 میں ہے ۔ و یکرہ تاخیر السنۃ الا بقدر اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذالجلال و الاکرام۔ اس کے حاشیہ رد المحتار میں ہے ۔ روی مسلم والترمذی عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قال کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یقعد الابمقدار مایقول اللھم انت السلام و منک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام۔
اب رہی یہ بات کہ فرض نمازوں کے بعد تسبیحات و بعض اذکار کی ترغیب جو احادیث میں وارد ہیں، ان کو علما ء احناف نے بعد الفرض سے انکا بعد سنن ہونا مراد لیا ہے کیونکہ سنن فرائض کے توابع اور اس کا تکملہ ہیں۔ جیسا کہ ردالمحتار جلد اول ص : 552 میں ہے۔
واما ماوردمن الاحادیث فی الاذکار عقیب الصلوٰۃ فلا دلالۃ  فیہ علی الاتیان بھا قبل السنۃ بل یحمل علی الاتیان بھا بعد ھا لان ا لسنۃ من لواحق الفریضۃ و تو ابعھا و مکملا لھا فلا تکن اجنبیہ عنھا فھما یفعل بعد ھا اطلق علیہ انہ عقیب الفریضۃ۔ جمعہ کے فرض  و فرض نمازوں کے بعد سورہ فاتحہ ، سورہ اخلاص ، سورہ فلق ، سورہ ناس ، آیت الکرسی ، سورہ بقرہ کی آخری آیات وغیرہ پڑھنے کی ترغیب بہت سی احادیث میں وار دہے۔ علامہ شامی عرف و عادات و آثار کی بناء فرض و سنن اور دعاء سے فراغت کے بعد سورہ فاتحہ پڑھنے کو مستحسن لکھا ہے ۔ فاتحہ سے ایصال ثواب مقصود ہے اور ایصال ثواب اور دعاء مغفرت ہر دو کتب احادیث سے ثابت ہیں اس لئے جن مساجد میں فجر ، عصر ، جمعہ کے سنن کے بعد دعاء کے اختتام پر ’’ الفاتحہ‘‘ کہا جاتا ہے اس میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں بلکہ باعث اجر و ثواب ہے کیونکہ بندہ جب اپنے نیک عمل کا ثواب مرحومین کے لئے ہدیہ کرتا ہے تو اس کا ثواب ان کو پہونچتا ہے اور خود ہدیہ کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ کنز العمال جلد چہارم ص : 164 میں ہے۔
من قرأ بعد الجمعۃ بفاتحۃ الکتاب و قل ھو اللہ احد و قل اعوذ برب الفلق و قل اعوذ برب الناس حفظ مابینہ و بین ا لجمعۃ الاخری در مختار ص : 418 میں ہے : قرأۃ الفاتحہ بعد الصلوۃ جھرالمھمات بدعۃ قال استاذ ناانھا مستحسنۃ للعادۃ والاثار  اور رد المحتار میں ہے ۔ (قولہ قال استاذنا) ھو البدلیع استاذ صاحب المجتبیٰ و اختار الامام جلال الدین ان کانت الصلاۃ بعد ہاسنۃ یکرہ والافلا اھ عن الھندیۃ  در مختار جلد اور ص : 943 ء میں ہے ۔ صرح علماء نا فی باب الحج عن الغیر بان للانسان ان یجعل ثواب عملہ لغیرہ صلاۃ او صوما او صدقۃ او غیرھا کذا فی الھدایۃ بل فی کتاب الزکاۃ فی التاتار خانیہ عن المحیط الافضل لمن یتصدق نفلا ان ینوی لجمیع المومنین و المومنات لانھا تصل الیھم ولا ینقص من اجرہ شئی اھ و ھو مذھب اھل السنت والجماعۃ۔
عقیقہ میں چاندی خیرات کرنا
سوال :   اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ بچوں کا سر منڈھانے کے بعد ان کے بال کا وزن کر کے اتنے مقدار میں چاندی خیرات کی جاتی ہے۔ شرعی لحاظ سے چاندی خیرات کرنا کیا حکم رکھتا ہے ؟
نام…
جواب :  عقیقہ کی حجامت کے بعد چاندی یا سونے کو بالوں سے وزن کر کے فقراء کو دینا مستحب ہے : فتاوی شای جلد 5  ص : 231 میں ہے : و یستحب ان یحلق رأسہ و یتصدق عند الائمۃ الثلاثۃ بزنۃ شعرہ فضۃ أو ذھبا۔
کیا سید کی بیوی‘ سید ہوتی ہے ؟
سوال :   اگر کوئی شخص سید ہو اور اس کی بیوی شیخ ہو کیا سید کی بیوی بھی سید کہلائیگی۔ اگر کوئی زکوۃ و صدقات سید کی بیوی کو دے تو کیا وہ لے سکتی ہے اور کسی مرحومہ کی برسی کے موقع پر مرحومہ کے یا دوسرے کپڑے وہ لے سکتی ہے۔ اس بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟
مبینہ پروین، پرانی حویلی
جواب :  زکوۃ اور صدقات واجبہ مثلاً فطرہ وغیرہ سادات بنی ہاشم کو دینا درست نہیں۔ کوئی خاتون سادات بنی ہاشم سے نہ ہو البتہ اس کا نکاح کسی سید سے ہوجائے تو سید سے نکاح کی وجہ سے وہ سادات بنی ہاشم میں شامل نہیں ہوگی۔ اگر وہ مستحق زکوۃ ہے تو اس کو زکوۃ اور صدقات واجبہ دے سکتے ہیں اور وہ خاتون زکوۃ کی رقم لیکر اپنے شوہر اور اولاد پر خرچ کرے تو شرعاً جائز ہے۔ مرحومہ کے کپڑے یا برسی کے موقع پر اگر کوئی ضرورتمند کوایصال ثواب کیلئے کپڑے دینا چاہتا ہے تو یہ نفل صدقات  سے ہوگا اور صدقات نافلہ ضرورتمند کو دے سکتے ہیں۔ سید و غیر سید کی کوئی تخصیص نہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT