Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / کیا سونیا گاندھی ہندوستانی نہیں ہیں؟

کیا سونیا گاندھی ہندوستانی نہیں ہیں؟

غضنفر علی خان

سونیا گاندھی کی وطنیت کے بارے میں یہ سوال کسی اور نے نہیں وزیراعظم مودی نے اٹھایا ہے۔ بی جے پی کے کسی دوسرے لیڈر نے اس قسم کا بے تکا سوال اٹھایا ہوتا تو درگذر کیا جاسکتا تھا لیکن مسٹر مودی کو ایسے بے مطلب کسی ایسے مسئلہ کو نہیں اٹھانا چاہئے تھا جو اب دقت اور سیاسی تبدیلیوں کے بعد ہر اعتبار سے ایک Dead Crsue بن چکا ہے۔ اب اگر کوئی 48 سال پرانا مسئلہ پیدا کرے تو اس کے سیاسی شعور کے بارے میں شکوک و شبہات کا ہونا لازمی بات ہے۔ خاص طور پر اس لئے بھی کہ اگر ملک کے وزیراعظم ایسے گئے گذرے مسئلہ کا وہ بھی خاص طور پر اپوزیشن کے لیڈر (سونیا گاندھی) کے تعلق سے حوالہ دیں تو ہر سنجیدہ ذہن یہی کہے گا کہ ’’بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو‘‘ 48 سال یعنی نصف صدی کے قریب کی بات ہے جب سونیا گاندھی نہرو خاندان کی بہو بن کر آئی تھیں۔ اس وقت ان کی ساس سابقہ وزیراعظم اندرا گاندھی برسراقتدار تھیں۔ سونیا گاندھی کی شادی راجیو گاندھی سے ہونے کے بعد انہوں نے اپنے شادی شدہ موقف Marital Status کی اساس پر ہندوستان کی شہرت حاصل کی۔ وہ ہندوستان میں تارک وطن کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ہندوستانی شہری کی حیثیت سے رہیں۔ ملک کی سیاست میں اہم کردار ادا کیا۔ ہماری پارلیمان کی رکن منتخب ہوئیں اور آج بھی ہیں۔ وہ ہندوستان کی رائے دہندہ ہے۔ اٹلی میں ان کی والدہ اور بہن اگر آج بھی مقیم ہے یا ان کی پیدائش اٹلی میں ہوئی ہے تو اس سے کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا۔ اتنی سی بات وزیراعظم کو سمجھ میں نہیں آئی۔ وقت کی نزاکت کو دیکھے اور سمجھے بغیر انہوں نے ایوان میں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ بے حد اہم شخصیتوں کیلئے ہیلی کاپٹرس کے معاملہ میں اٹلی کی عدالت نے سونیا گاندھی پر رشوت لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ اٹلی کی عدالت نے کبھی سونیا گاندھی یا کسی مخصوص لیڈر پر ایسا کوئی الزام عائد نہیںکیا ہے۔ دراصل نہرو۔ گاندھی خاندان سے اپنی ازلی نفرت بی جے پی چھپا نہیں سکی۔ اس خاندان کے علاوہ خود گاندھی جی پر بھی بی جے پی اور آر ایس ایس نے انتہائی قابل اعتراضات بیانات دیئے ہیں جن سے قومی رہنما کی امیج کو متاثر کرنے کی کئی بار کوشش کی گئی۔ اب ان دنوں سونیا گاندھی اور ان کے صاحبزادہ راہول گاندھی بی جے پی کے نشانے پر ہیں۔ سونیا گاندھی کو رسوا کرنے کے بارے میں عوامی رائے کو خراب کرنے کا کوئی موقع بی جے پی ہاتھ سے جانے نہیں دیتی۔ خاص طور پر صدر آل انڈیا کانگریس سونیا گاندھی سے تو بی جے پی کو خاص دشمنی ہے۔ ان کو ایک کرپٹ سیاست داں ثابت کرنے کی برسراقتدار پارٹی بروقت کوشش کررہی ہے کیونکہ اپنے سیاسی زوال کے باوجود آج بھی قومی سطح پر کوئی سیاسی پارٹی بی جے پی کے لئے چیلنج ہے تو کانگریس پارٹی ہی ہے کانگریس ہی کو بی جے پی اپنا سیاسی حریف سمجھتی ہے۔ سونیا گاندھی نے بی جے پی کے اس رویہ کے خلاف ابھی تک نہایت سنجیدگی اور متانت سے محاذ آرائی کی ہے۔ بعض مقامات اور مواقع پر انہوں نے جذباتی باتیں بھی کی ہیں جو قطعی طور پر ان کا ایک فطری ردعمل ہے۔ سونیا گاندھی کے خلاف بی جے پی کی مسلسل مخالفانہ اس طریقہ کار کی خود پارٹی کے اندر بھی مخالفت ہورہی ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر یہ محسوس کررہے ہیں کہ متواتر مخالف سونیا گاندھی رویہ ہے کہیں پارٹی کے زوال کا سبب نہ بن جائے۔ پارٹی میں یوں بھی سینئر لیڈر قیادت کی دوڑ سے ہٹا دیئے گئے ہیں۔ ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی، یشونت سنہا وغیرہ کے اب تو نام بھی سننے کو نہیں ملتے۔ ان تینوں لیڈروں کے علاوہ اور بھی کئی پارٹی لیڈر ہیں جن کا کہنا ہے کہ سونیا گاندھی کی مخالفت میں اتنی شدت پارٹی کیلئے کسی بھی صورت میں مفید ثابت نہیں ہوگی۔ ان لیڈروں نے بچا طور پر اس خدشہ کا اظہار کیا ہیکہ جس طرح سے 1976-77 میں سابقہ جنتادل پارٹی نے مرار جی دیسائی کی قیادت میں جنتا حکومت بنائی تھی اس نے بھی یہی غلطی کی تھی۔ آنجہانی اندرا گاندھی سابق وزیراعظم کے خلاف اتنی ہی شدت سے مخالف تحریک چلائی گئی تھی۔ شاہ کمیشن کے ذریعہ اندرا جی کے خلاف تحقیقات کا لامتناہی سلسلہ شروع کردیا گیا تھا لیکن 28 ماہ کی جنتا حکومت کو ان ہی اندراجی نے اگلے انتخابات میں شکست دی تھی۔ آج بھی یہی ہورہا ہے آج کل بی جے پی حکومت کے پاس یا اس کے پیش نظر ملک میںکوئی اہم مسئلہ ہی نہیں ہے۔ دن رات سونیا گاندھی کے خلاف بات کی جارہی ہے۔ ان کے خلاف عدالتی کارروائی کرنے انہیں سلاخوں کے پیچھے پہچانے پر زور دیا جارہا ہے۔ سونیا گاندھی نے بھی اسی طرح کا رویہ اختیار کر رکھا ہے جس طرح آنجہانی اندرا گاندھی نے ماضی میں کیا تھا۔ جتنی شدت کے ساتھ کانگریس اور سونیا گاندھی کی مخالفت کی جارہی ہے اسی شدت بلکہ اس سے زیادہ شدت کے ساتھ عوام میں سونیا جی کیلئے ہمدردی پیدا ہورہی ہے۔ یہ بات بی جے پی کو یاد رکھنی چاہئے کہ 2014ء کے عام انتخابات میں بی جے پی کو جو ووٹ ملا تھا وہ ان معنی میں Negative Vote تھا کہ کانگریس کی قیادت میں یو پی اے کی حکومت کی ناقص کارکردگی سے عوام بیزار ہوگئے تھے اور ان کے آگے بی جے پی یا مسٹر مودی کے علاوہ کوئی متبادل نہ تھا کانگریس نے اقتدار اپنے طرزعمل سے کھویا۔ اب اگر بی جے پی ویسا ہی طرزعمل اختیار کرتی ہے اور سیاسی اختلاف کو شخصی دشمنی بنا کر سونیا گاندھی کو نیچا دکھانے کی روش کو ترک نہیں کرتی ہے تو پھر تاریخ اپنے مزاج کے مطابق خود کو دہرائے گی۔ History May repeat it تاریخ کبھی کسی سے کوئی مروت نہیں کرتی۔ ایک لمحہ کی غلطی کی سزاء صدیوں تک جاری رہتی ہے۔ ویسے بھی بی جے پی نے اقتدار پر آنے کے بعد کبھی یہ ثبوت نہیں دیا کہ ہندوستان جیسے ملک پر حکومت کرنے کیلئے جس اعلیٰ ظرفی کی ضرورت ہے وہ  بی جے پی میں نہیں ہے دوبارہ اقتدار اقتدار کا حصول بی جے پی کیلئے مشکل ہے۔ اس کی حکمرانی نے سماج کے ہر طبقہ کو مایوس کیا ہے۔ دو سال قبل جبکہ بی جے پی اقتدار پر فائز ہوئی تھی تو عوام نے اس سے کئی امیدیں وابستہ کی تھیں لیکن چند ہی ماہ میں عوام کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ آج وہ عوامی مقبولیت نہ تو وزیراعظم مودی کو حاصل ہے اور بی جے پی کو ہے جو 2014ء کے انتخابی مہم کے دوران پارٹی کے وہ سیاسی لیڈر جو نسبتاً زیادہ سیاسی شعور رکھتے ہیں یہ محسوس کررہے ہیں کہ سونیا گاندھی کی مخالفت سے زیادہ اہم اور فوری حل طلب مسائل ملک کو درپیش ہیں۔ ملک قدرتی آلام و مصائب سے گذر رہا ہے۔ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال سارے ملک میں ابتر ہوچکی ہے۔ بھیدبھاؤ اور ذات پات کا بھوت پھر ہمارے سماج کا حصہ بنتا جارہا ہے۔ ابھی اسی ہفتہ کی بات ہیکہ مالیگاؤں کے کسی دیہات میںایک دلت کو اعلیٰ ذات والوں نے کنویں سے پانی لینے کی اجازت نہیں دی۔ اس نے خود اپنی محنت سے ایک نیا کنواں کھودا اور پانی نکالا۔ ابھی حال کی بات ہیکہ اترپردیش میں دلت خواتین کو برہنہ کرکے سربازار ان کی پریڈ کروائی گئی۔ ملک کی بیٹیاں بیچی اور خریدی جارہی ہیں۔ سارے ملک میں قحط کے آثار پیدا ہوئے ہیں۔ ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کے بجائے ہیلی کاپٹرس کی خریدی کے مسئلہ کی آڑ لیکر سونیا گاندھی کو نشانہ بنانے کی کوشش یقیناً منفی نتائج برآمد کرے گی۔ یہ بات بی جے پی اور خاص طور پر وزیراعظم نریندر مودی کو سمجھ لینی چاہئے انہیں نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے ورنہ پارٹی کا برا حشر ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT