Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / کیا سیاسی قائدین اور ان کے حواریوں کو حکومت کے فیصلے کی پیشگی اطلاع تھی ؟

کیا سیاسی قائدین اور ان کے حواریوں کو حکومت کے فیصلے کی پیشگی اطلاع تھی ؟

حالیہ عرصہ میں شہر میں کروڑہا روپئے کی اراضی معاملتیں ۔ نقد رقومات کو اثاثہ جات میں تبدیل کرلیا گیا ۔ منہ مانگی قیمت پر جائیدادوں کی خریدی
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔8  نومبر۔حکومت ہند کے ملک میں 1000اور 500روپئے کے نوٹ پرامتناع کی خبر سیاستدانوں کو پہلے سے تھی؟ ملک میں بڑے تجارتی ادارے اس بات سے واقف تھے کہ ملک میں 1000اور 500کے نوٹ پر امتناع عائد ہونے والے ہے؟ سیاسی قائدین کے کالے دھن کو سفید میں تبدیل کرنے والے تاجر بھی کیا اس بات سے واقف تھے؟ حکومت کے اس اقدام کا سب سے زیادہ اثر بد عنوانیوں میں ملوث کالا دھن جمع کرتے ہوئے کروڑہا روپئے محفوظ کرنے والوں پر مرتب ہوگا لیکن کیا سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ان افراد نے دھوکہ دہی و بدعنوانیوں کے ذریعہ جمع کردہ اپنی دولت کو اثاثوں میں تبدیل نہیں کرلیا ہوگا؟ جو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ان کے مطابق کئی ایسے سیاستداں جو حکومت سے قریب رہے ہیں انہیں اس بات کی اطلاع پہلے سے تھی کیونکہ حالیہ عرصہ میں اچانک زمین و جائیدادوں کی خرید کیلئے کروڑہا روپئے نکالے گئے اور شہر میں ہزاروں ایکڑ اراضیات کی معاملتیں انجام پائی ہیں۔ حکومت جب کوئی پالیسی فیصلہ کرتی ہے قریبی لوگوں کو اس کی معلومات ہوتی ہیں اور اس کی کئی مثالیں موجود ہیں جیسے اگر حکومت کسی علاقہ میں ترقیاتی پراجکٹ کا منصوبہ رکھتی ہے تو برسر اقتدار قائدین ان علاقوں میں اراضیات کی خریدی کرلیتے ہیں اسی طرح حکومت کسی علاقہ میں بھاری قیمت کی ادائیگی کے ذریعہ قانون حصول اراضیات کے تحت زمینیں حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کرتی ہے تو اس کی اطلاع قبل از وقت سیاسی قائدین کو ہوتی ہے۔ 500اور 1000کے نوٹوں کے اچانک چلن بند ہونے سے قبل سیاستدانوں اور ان کے قریبی رفقاء کی جانب سے کروڑہا روپئے کی اراضیات کی معاملتیں شک و شبہ کے دائرے میں آنے لگی ہیں کیونکہ وہ اس طرح اپنے پاس جمع کروڑہا روپئے کا قبل از وقت استعمال کرتے ہوئے اپنی نقد دولت کو جائیداد میں تبدیل کرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں بھی اس طرح کے کئی واقعات ہیں جن میں ایسے تاجرین نے منہ مانگی قیمتوں میں اراضیات کی خریدی کی ہیں اور ان اراضیات کے حصول کے بعد مطمئن ہیں اسی طرح شہر سے تعلق رکھنے والے بعض تاجرین کی جانب سے بھی سینکڑوں ایکڑ اراضیات کی خریدی کی اطلاعات ہیں اسی طرح سیاسی قائدین کے بے نامی رقومات کی منتقلی کے کام انجام دینے والوںکی جانب سے بھی اراضیات و سونے کی خریدی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ شہر میں اراضیات کی تجارت میں سرگرم افراد کی جانب سے بھی اراضیات کی خریدی کی معاملتیں انجام دی گئی ہیں۔شہر کے بعض تاجرین و سیاسی قائدین کے علاوہ ان کے قریبی افراد نے 1000اور 500روپئے کی نقد رقومات کو اثاثوں میں تبدیل کرلیا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ شہر‘ ریاست کے علاوہ ملک کی کئی ریاستوں میں حالیہ عرصہ کے دوران نقد رقومات کو اثاثوں میں تبدیل کرنے کا رجحان تیز دیکھا گیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق شہر کے نواحی علاقہ جل پلی میں ایک سیاسی قائد نے 100ایکڑ اراضی خریدی ہے اسی طرح ایک تجارتی گھرانے نے بھی اطراف و اکناف کے علاقوں میں سینکڑوں ایکڑ اراضی خریدی ہے۔ یہی صورتحال سیاسی قائدین سے قربت رکھنے والوں کی بھی رہی اور ان لوگوں نے بھی جو اراضیات برائے فروخت نظر آئی انہیں خریدتے ہوئے اپنے کالے دھن کو دوسرے کے گلے باندھ دیا جبکہ خود اثاثہ جات کے مالک بن گئے یا پھر اپنے قریبی افراد کو بے نامی جائیدادوں کے مالک بنانے میں کامیاب ہو گئے۔

TOPPOPULARRECENT