Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / کیا فاروق عبداللہ ، کشمیر میں شام وافغانستان جیسی صورتحال چاہتے ہیں ؟

کیا فاروق عبداللہ ، کشمیر میں شام وافغانستان جیسی صورتحال چاہتے ہیں ؟

کشمیر پر امریکہ یا چین کی مصالحت کی تجویز مسترد ۔ہند وپاک ہی مسئلہ حل کریں : محبوبہ مفتی
سرینگر ۔ /22 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کی چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے امریکہ ، چین یا کسی اور ملک کی طرف سے مسئلہ کشمیر کی یکسوئی میں مصالحت کاری کی تجاویز کو آج مسترد کردیا اور کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کو باہمی طور پر یہ مسئلہ حل کرلینا چاہئیے ۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کے بزرگ لیڈر فاروق عبداللہ پر تنقید کی جنہوں نے امریکہ کی جانب سے مصالحت کی تجویز پیش کی تھی اور ان (فاروق عبداللہ ) سے دریافت کیا کہ آیا وہ کشمیر میں بھی شام ، افغانستان اور عراق جیسی صورتحال پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ محبوبہ مفتی نے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ ’’خواہ وہ امریکہ ہو کہ چین انہیں اپنے کام سے کام رکھنا چاہئیے ۔ امریکہ نے جہاں کہیں بھی مداخلت کی ہے آپ وہاں ( افغان ، عراق و شام) کی صورتحال دیکھ چکے ہیں ۔ چین کا تبت سے خود پیچیدہ مسئلہ ہے ۔ چنانچہ میں سمجھتی ہوں کہ ہمارے پاس نقشہ راہ موجود ہے جو خود ہم ہی ہیں ۔ ہندوستان اور پاکستان کو حتی کہ جنگ کے بعد بھی بات کرنا پڑا ہے ۔ ہمیں باہمی مذاکرات کرنا چاہئیے ۔ امریکہ ، ترکی یا انگلینڈ ہمارے ساتھ کیا کرسکتے ہیں ؟ ‘‘ چیف منسٹر محبوبہ مفتی یہاں پارلیمنٹ کے رکن فاروق عبداللہ کے اس بیان کے بارے میں ایک سوال پر جواب دے رہی تھیں ۔ ڈاکٹر عبداللہ نے گزشتہ روز تجویز پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسئلہ کی یکسوئی کے لئے ہندوستان کو دوستوں کی مدد لینا چاہئیے ۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’’انہوں نے (امریکہ ، چین وغیرہ) نے دنیا کے کئی اہم مسائل کو مزید بگاڑ دیا ہے اورپیچیدہ بنادیا ہے ۔ دیکھئے انہوں نے شام کا کیا حشر کردیا ہے ۔ افغانستان اور عراق کی صورتحال بھی دیکھئے ۔ اللہ نہ کرے ، کیا فاروق (عبداللہ ) بھی ہماری صورتحال اُن (عراق ، افغان و شام) جیسی بنانا چاہتے ہیں ؟ ‘‘ ۔ انہوں نے کہا کہ مخاصمت کے خاتمہ کے لئے ہندوستان اور پاکستان کو چاہئیے کہ وہ باہمی طور پر طئے شدہ سمجھوتوں کا احترام کریں اوراپنا مسئلہ خود ہی باہمی طور پر حل کریں ۔

TOPPOPULARRECENT