Saturday , September 23 2017
Home / مضامین / کیا ’’فریڈم 251‘‘ اسمارٹ فون میں کوئی بڑا گھوٹالہ پوشیدہ ہے؟

کیا ’’فریڈم 251‘‘ اسمارٹ فون میں کوئی بڑا گھوٹالہ پوشیدہ ہے؟

ابو انس دہلی
فروری کی 17تاریخ کو شام سات بجے  کے قریب  میرے سینئر کا فون آیا ، پوچھا کہاں ہو ، غور سے سنو ! آج کے اخبارات میں فریڈم 251 کا اشہتہار دیکھا ؟ میں نے کہا سمجھا نہیں کیا ہے یہ ؟  انہوں نے کہا یہ دنیا کا سب سے سستا موبائل ہے جس کی بکنگ  18 فروری کی  صبح 6 بجے سے  شروع ہوگی۔ کل ذرا جلدی اٹھ کر پہلی فرصت میں اسے بک کرا لینا اور ہاں اور اپنے لیے بھی چاہوتو بک کر لینا آفر اچھا اور کافی سستا ہے۔ میں  حکم کی تعمیل میں معمول سے ذرا ہٹ کر جلدی تیارہوا اور دفتر پہونچا  نیٹ آن کیا اور بکنگ کی کوشش شروع کر دی لیکن نیٹ کی کمزوری کی وجہ سے کام بنا نہیں ، تھوڑی دیر بعد جناب نے حال دریافت کیا کہ کیا ہوا بکنگ ہوگئی ؟ میں نے کہا مستقل ٹرائی کر رہا ہوں لیکن ابھی کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ کہنے لگے دیکھو پہلی فرصت میں اسے کر لو رہ نہ جائے۔ اسی تگ دو میں کمپیوٹر سیکشن پہونچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ یہاں ہر شخص  ایک دوسرے کو یہ تلقین کر رہا ہے کیوں صاحب آپ نے بکنگ کر لی  کہ نہیں  ۔ ہر ایک صرف یہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا کہ آپ نے ابھی تک دنیا کا سب سے سستا فون Freedom251  بک کیا کہ نہیں۔ کچھ لوگوں نے تو موقع سے فائدہ اٹھا کر ایک دو نہیں بلکہ گھر کے سبھی  ممبران کے نام سے  بک  کرا یا ہے۔ اپنے اس انوکھے لانچ سے نوئیڈا کی کمپنی ’’رنگنگ بیلس پرائیویٹ لمیٹڈ ‘‘صبح سے ہی زیر بحث ہے۔  سبھی کہہ رہے ہیں کہ کیسے  اتنا سستا فون دے گی کمپنی؟۔ شام تک  میڈیا میں خبر آگئی  کہ بی جے پی ایم پی کریٹ سومیا کا بیان آیا ہے کہ  فریڈم 251 کے معاملے میں کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔ سومیا کا دعویٰ ہے کہ کمپنی رنگنگ بیلس صرف تین ماہ پہلے ہی رجسٹر ہوئی ہے۔ سومیا نے کہا، ’’فریڈم 251 موبائل فون میں کوئی بڑا گھوٹالہ پوشیدہ ہے‘‘

چالیس فیصد مارکیٹ پر قبضہ چاہتی ہے کمپنی
واضح رہے کہ اس نئی کمپنی کے خواب کافی بڑے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ایک سال کے اندرہندوستانی موبائل مارکیٹ کا 40 فیصد اپنے نام کرا لینا چاہتی ہے۔ 251 روپے کا اسمارٹ فون Freedom251 لانچ کر کے کمپنی یہی مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ کمپنی امٹیی یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والے موہت کمار گوئل کی ہے۔ گوئل اور آئی آئی ٹی سے تعلیم حاصل کرنے والے اشوک چڈھا اس کے سربراہ ہیں۔ گزشتہ سال کے آغاز میں دونوں مدھیہ پردیش کے بی جے پی رکن اسمبلی اوم پرکاش سلیچا سے ملے تھے۔ اس ملاقات میں انہوں نے یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ وہ ملک کا سب سے سستا اسمارٹ فون بنانا چاہتے ہیں۔ چہارشنبہ کو جب یہ فون لانچ ہوا تو پروگرام میں سلیچا بھی موجود تھے۔ کمپنی نے لانچ کا جو اشتہار دیا تھا، اس میں کہا گیا تھا کہ وزیر دفاع منوہر پاریکر  تقریب کے چیف گیسٹ ہوں گے۔ لیکن لانچ میں مسٹر پاریکر نہیں آئے تھے۔میک ان انڈیا فریڈم 251 کو بی جے پی رہنما مرلی منوہر جوشی نے دہلی میں لانچ کیا۔ اس پروگرام میں وزیر دفاع منوہر پاریکر بھی آنے والے تھے لیکن وہ نہیں آئے۔

گوئل اور چڈھا کے بارے میں زیادہ معلومات عام نہیں ہے
لانچنگ پروگرام میں گوئل بھی زیادہ نہیں بولے۔ زیادہ تر موقعوں پر ان کی کمپنی کی سی ای او اور ان کی بیوی دھارڑا گائیڈ کرتی نظر آئیں۔گوئل کے والدین بھی پروگرام میں موجود تھے۔ بتا یا جاتا ہے کہ ان کی اتر پردیش کے شاملی میں اناج کی دکان ہے۔ یہ ان کا خاندانی کاروبار ہے جو 35 سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ موہت حال تک اس کاروبار میں والد کی مدد کیا کرتے تھے۔
اب فون بنانے کے لئے پلانٹ لگانے میں پیسہ کون لگائے گا؟
اس حوالے سے پوچھے جانے پر موہت نے کچھ نہیں کہا۔ اتنا ضرور صاف کیا کہ ان کا خاندان پیسہ لگانے نہیں جا رہا۔ چڈھا بھی پیسہ نہیں لگا رہے ہیں۔ کمپنی 500 کروڑ روپے لگا کر دو پلانٹ لگانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ پیسہ ڈیبٹ اینڈ ایکوئٹی کے ذریعے جٹایا جائے گا۔ جس کا فون بنے گا، اس کی لاگت 2500 روپے آئے گی۔ اس کو251 روپے میں فروخت کیا جائے گا۔
ماہرین مانتے ہیں کہ اس قیمت میں فون کی فروخت ناممکن ہے لیکن رنگ بیلس کا کہنا ہے کہ خسارے کی تلافی مارکیٹنگ کا منفرد طریقہ اپنا کر، ٹیکس میں کمی اور ای کامرس کا فائدہ اٹھا کر کیا جائے گا۔ صدر چڈھا کا کہنا ہے کہ وہ ایک سال میں 40 فیصد مارکیٹ پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔ ابھی جنوبی کوریا کی کمپنی سیمسنگ 27 فیصد مارکیٹ پر قابض ہے، جبکہ مائکرو میکس دوسرے نمبر پر ہے۔
فون کو لے کر تنازعہ بھی شروع ہو چکا ہے
موبائل صنعت کار کمپنیوں کی ایسوسی ایشن نے فون کی قیمت کو لے کر حکومت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں ٹیلی مواصلات کے وزیر روی شنکر پرساد کو بھی خط لکھا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اگر فریڈم 251 کی خصوصیات سے لیس فون سستے سے سستے سپلائر سے بھی لیا جاتا ہے تو اس کی قیمت 2700 روپے پڑتی ہے۔ اس میں ٹیکس اور خوردہ مارجن شامل کرنے پر قیمت بڑھ کر 4100 روپے ہو جاتی ہے۔ ساتھ ہی رنگنگ بیلس کمپنی پر الزام لگا ہے کہ وہ دوسری کمپنی کے فون کو اپنا بتا کر فروخت کر رہی ہے۔فریڈم 251 فون کے کئی ہینڈ سیٹ پر ’’ایڈکام‘‘ نام لکھا ہوا تھا۔ جبکہ اس کمپنی نے فریڈم 251 کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی۔ کمپنی نے معاملے کی جانچ کی بات کہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT