Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / کیا قیادت کے بدلنے سے کانگریس کو فائدہ ہوگا؟

کیا قیادت کے بدلنے سے کانگریس کو فائدہ ہوگا؟

غضنفر علی خان
جب دوا اپنی تاثیر کھودیتی ہے تو عموماً نیم حکیم خطرۂ جان جیسے طبیب اسی پرانی دوا کو نئی بوتل میں ڈا ل کر فروخت کرنے لگتے ہیں، بوتل کی تبدیلی سے دوا کی تاثیر نہیں بدلتی۔ جب تک مرض کی صحیح تشخیص نہ کی جائے مرض کے سبب کا پتہ نہیں چلتا۔ پھر اس کے بعد یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ آیا یہ مرض طویل عرصہ سے جاری ہے نیز یہ کہ اس کی وجہ سے مریض کے کونسے اعضاء زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ پھر یہ بھی غور کرنا پڑتا ہے کہ اب تک جو ادویات دی گئی تھیں ان کے کیا منفی اثرات مریض پر مرتب ہوئے ہیں۔ یہی حال اس وقت ملک اور اس کے سیکولرازم کا ہے جہاں فرقہ پرست طاقتیں زور پکڑتی جارہی ہیں۔ اگرچیکہ ابھی تک ان کو مکمل کامیابی نہیں ملی ہے لیکن ان کے اثر و رُسوخ میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔ بی جے پی نے 2014 کے انتخابات میں 36فیصد ووٹ حاصل کئے تھے ان  36فیصد ووٹوں سے کامیابی نے اس پارٹی کو اقتدار پر فائز کردیا۔ ایک طرف فرقہ پرست بی جے پی کی کامیابی کا ہر سمت چرچا ہورہا ہے تو دوسری طرف ان ہی چناؤ میں ملک کی قومی جماعت کانگریس کی سحت ناکامی اور شرمناک شکست نے سیکولرازم، رواداری اور جمہوری اقدار کو بے حد کمزور کردیا ہے۔ ان چناؤ کے بعد مغربی بنگال، کیرالا اور آسام، پڈوچیری اسمبلی انتخابات ہوئے اس میں بھی کانگریس ناکام رہی۔ خاص طور پر آسام کے انتخابی نتائج نے ملک کے سیکولر دوست اور امن پسندوں کو بے حد مایوس کردیا ہے۔ 2014 اور پھر 2016 میں ہوئے اسمبلی الیکشن میں کانگریس کا کم و بیش صفایا ہوگیا اور وہ برائے نام ہی سیاسی طاقت بن کر رہ گئی ہے۔ کانگریس کے زوال کا سلسلہ 1990 کے دہے ہی سے شروع ہوگیا تھا

جب بی جے پی نے پارلیمنٹ میں اپنے وجود کو 2سے 180 تک پہنچادیا تھا۔ لیکن اس دہے کے بعد سے کانگریس کبھی انتخابات میں یہ ثابت نہ کرسکی کہ وہ ملک کی سب سے بڑی اور سب سے قدیم پارٹی ہے۔ فرقہ پرسی کے محاذ پر کانگریس پارٹی سے زیادہ علاقائی پارٹیوں نے جم کر مقابلہ کیا۔ کانگریس پارٹی میں شکست خوردگی کا احساس اب بہت پرانا ہوچکا ہے۔ اس کے رویہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے ۔ جہاں تک سیکولرازم کا سوال ہے اس کی حفاظت مؤثر انداز میں دوسری چھوٹی چھوٹی پارٹیوں نے کی ہے اور آج بھی سیکولرازم کے بقاء کی جنگ کانگریس سے زیادہ یہی پارٹیاں لڑرہی ہیں۔ ان تمام حالات سے پریشان ہوکر کانگریس پارٹی نے قیادت میں تبدیلی کو تمام امراض کہنہ کا علاج سمجھا۔ سونیا گاندھی کی جگہ اگر ان کے صاحبزادہ راہول گاندھی لیتے ہیں تو اس سے کیا فرق پڑے گا۔ جب تک ساری پارٹی کی اصلاح نہ کی جائے عوام اور پارٹی کے درمیان پچھلے دس، پندرہ برس میں پیدا شدہ فاصلے کو ختم نہ کیا جائے کوئی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہوگی۔ بی جے پی کا یہ کہنا قطعی غلط ہے کہ کانگریس کے زوال کا اصل سبب یہ ہے کہ پارٹی پر ایک ہی نہرو گاندھی خاندان کی حکمرانی ہے یا اس پر dynasty اقتدار نے اس کو کمزور کردیا ہے۔ اس خاندان کی کانگریس پارٹی کے لئے بے پناہ خدمات رہی ہیں۔  پنڈت جواہر لال نہرو سے لیکر اندرا گاندھی، راجیو گاندھی تک خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔ اس پارٹی کا سانحہ یہ ہے کہ اس میں اس خاندان کے علاوہ کسی اور خاندان یا کسی اور گروپ نے سبقت حاصل نہیں کی، یہ تسلسل اب بھی جاری ہے۔ سونیا گاندھی کو پارٹی کا صدر اس لئے بنایا گیا تھا کہ وہ نہرو ۔ گاندھی خاندان کی بہو ہیں۔ 20سال قبل ان کے شوہر راجیو گاندھی کے قتل کے بعد پارٹی کی لیڈر شپ سنبھالنے والا کوئی نہ تھا کہ قرعہ فال کسی اور کے نام اُٹھتا لیکن سونیا گاندھی کی قیادت میں پارٹی نے کوئی غیر معمولی کام انجام نہیں دیا۔

البتہ یہ کہنے میں کوئی تعرض نہیں کہ انہوں نے پارٹی کو مزید بکھرنے اور منتشر ہونے سے بچایا۔ پارٹی کو ایک سیاسی طاقت کی طرح کوئی کارنامہ سونیا گاندھی نے انجام نہیں دیا۔ اب شکست اور شکست کے بعد پارٹی میں قیادت کی تبدیلی کی جارہی ہے۔ اپنی سیکولر فکر کو عوام تک پہنچانے میں کانگریس سے کئی لغزشیں ہوئی ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ کانگریس کے علاوہ آج کئی علاقائی  پارٹیوں میں احساس پیدا ہوگیا ہے کہ ملک میں اپنے سیاسی وجود کیلئے انہیں سیکولرازم کا ہی سہارا لینا چاہیئے۔ کانگریس تنہا اس کی حفاظت نہیں کرسکتی اس کو اپنے اندر سے یہ غلط فہمی نکال دینی پڑے گی کہ رواداری اور سیکولرازم کے حامی اور بھی ہیں۔ کانگریس بزرگ سے زیادہ بوڑھی اور ضعیف ہوچکی ہے، اس کو سہاروں کی ضرورت ہے کیونکہ جو دیگر طاقتیں سیکولر ہیں ان میں کوئی بھی قومی سطح پر اپنا لوہا نہیں منواسکتا۔دوسری سیکولر طاقتیں ابھی کچھ برسوں قبل ہی سیاسی منظر نامہ پر اُبھری ہیں وہ جوان ہیں اور ان میں بی جے پی اور فرقہ پرستی کا مقابلہ کرنے کا دم خم ہے ۔ کانگریس کو اپنے بے اثر ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے ان سیکولر طاقتوں کو اپنے زاید از 100سالہ تجربہ سے فائدہ پہنچانا ہوگا، وہ سیکولرازم کے ایک بزرگ کی طرح ان پارٹیوں کا ساتھ دے سکتی ہے

لیکن اس میں یہ احتیاط ضرورملحوظ رکھنی چاہیئے کہ کانگریس دوسری پارٹیوں پر اپنی بزرگی اور تجربات کی دھونس نہ جمائے۔ کانگریس کو اپنے طور پر کسی کو بھی صدر بنانے کا اختیار ہے، یہ کانگریس کا داخلی معاملہ ہے۔ راہول گاندھی کو اس لئے ترجیح دی جارہی ہے کہ وہ اسی نہرو گاندھی خاندان کے نمائندے ہیں ورنہ ان کا سیاسی تجربہ حکمرانی کی صلاحیت کا ابھی تک کوئی مظاہرہ نہیں ہوا ہے ۔ صرف اتنی بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ ملک کے ایسے خاندان کے چشم و چراغ ہیں جس نے ملک و قوم کی فی الواقعی خدمات انجام دی ہیں۔ سب سے پہلے کانگریس کو اپنے کیڈر پر کنٹرول کرنا چاہیئے۔ پارٹی کو دیہی سطح پر مستحکم کرنا چاہیئے، اپنی سیاسی فکر کو عام آدمی تک واضح انداز میں پہنچانا چاہیئے، اس کی فکر یا سوچ ابھی بھی غلط نہیں البتہ اس کو عوام تک لے جانے کی حکمت عملی میں خامیاں پیدا ہوچکی ہیں۔ پارٹی کے لئے کم عمر قیادت کی ضرورت ایک عرصہ سے محسوس کی جارہی تھی اور یہ اندازہ بھی تھا کہ قیادت کا تاج راہول کے ہی سر پر رکھا جائے گا۔ ایسی صورت میں کانگریس کے معمر لیڈروں میں بے چینی پیدا ہوسکتی ہے۔ اندیشہ اس بات کا ہے کہ کانگریس کے عمر رسیدہ لیڈر راہول گاندھی کی تاج پوشی کی مخالفت کریں گے۔ ایسا عموماً ہوتا ہے جب کبھی کسی بھی پارٹی میں عمل جراحی (Surgery) کی ضرورت ہوتی ہے تو تھوڑی بہت bleeding ہوتی ہے۔ پھر سرجری کے بعد کچھ دنوں تک تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ اگر ان مراحل سے کانگریس گذر جائے تو ایک اچھا اقدام ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT